پرینکا گاندھی نے کہا کہ اترپردیش حکومت جرائم کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت انہیں بھی اپنے فرض کی ادائیگی سے روک رہی ہے۔
واضح رہے کہ پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز یوپی پولس کی طرف سے اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا گیا جب وہ اترپردیش کے سون بھدر میں ان کسانوں کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے جارہی تھیں جنہیں اپنی زمین خالی کرنے سے انکار کرنے پر گولی مارکر قتل کر دیا گیا تھا۔ سون بھدر کے گھوڈوال علاقہ میں 17مئی کو پردھان اور گاوں والوں کے مابین تنازعہ میں فائرنگ ہوئی تھی جس میں دس لوگوں لوگوں کی موت اور 28 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
उत्तर प्रदेश सरकार की ड्यूटी है अपराधियों को पकड़ना।
मेरा कर्तव्य है अपराध से पीड़ित लोगों के पक्ष में खड़े होना।
भाजपा अपराध रोकने में तो नाकामयाब है मगर मुझे मेरा कर्तव्य करने से रोक रही है।
मुझे पीड़ितों के समर्थन में खड़े होने से कोई रोक नहीं सकता।
कृपया अपराध रोकिए!
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) July 19, 2019

دریں اثنا، پرینکا گاندھی نے خود کو تحویل میں لئے جانے کے معاملہ پر ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اترپردیش حکومت کی ڈیوٹی ہے مجرموں کو پکڑنا۔ میرا فرض ہے جرائم سے متاثر لوگوں کے حق میں کھڑا ہونا۔ بی جے پی جرائم روکنے میں ناکام ہے ہی اور مجھے بھی اپنا فرض ادا کرنے سے روک رہی ہے۔ ‘‘ انہیں کہا مزید کہا، ’’مجھے متاثرین کی حمایت میں کھڑے ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ برائے مہربانی جرائم روکئے۔‘‘
قبل ازیں، حراست میں لئے جانے کے بعد چنار گیسٹ ہاوس میں دھرنے پر بیٹھیں پرینکا گاندھی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’ہمیں گرفتار کیا گیا ہے۔ میں متاثرین کے کنبہ والوں سے مل کر رہوں گی۔ میں غریبوں کے لئے یہاں آئی ہوں۔ میں انہیں انصاف دلانا چاہتی ہوں۔ کیا غریب کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔‘‘

پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’پوری ریاست اس معاملہ کو دیکھ رہی ہے۔ ریاست میں نظم و نسق کی صورت حال ابتر ہو گئی ہے۔ وارانسی کے ٹراما سنٹر میں زخمیوں سے ملکر آرہی ہوں۔ وہاں ایک17 سالہ لڑکے کو دیکھا اس کی کمر میں گولی لگی ہے۔ ا سکی ماں دوسرے بیڈ پر تھی۔ کئی نسلوں سے رہ رہے ان غریب قبائلیوں کو انصاف ملے۔ اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے گا میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔‘‘
سون بھدر کے تشدد سے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کرنے جارہیں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو مرزا پور سرحد سے ملحق وارانسی کے نارائن پور میں ہی پولس نے حراست میں لے لیا۔ بی ایچ یو اسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کے بعد وہ سون بھدر کے لئے نکلیں لیکن مرزا پور سرحد پر واقع دلہٹ تھانہ سے کچھ پہلے وارانسی کے نارائن پور میں ان کے قافلہ کو پولس نے روک لیا۔
سلامتی دستوں نے کانگریس کی جنرل سکریٹری کو سون بھدر میں حکم امتناعی نافذ ہونے کا حوالہ دیکر آگے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس کی مخالفت کرنے پر ان کی حکام کے ساتھ نوک جھونک ہوئی۔ پرینکا گاندھی نے پولس افسر سے ان کو روکے جانے سے متعلق دستاویز دکھانے کے لئے کہا جس پر افسر کا کہنا تھا کہ پیپر آ رہے ہیں۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری کے ساتھ کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر اجے کمار للو بھی تھے۔ پولس افسر نے ان سے دھرنا ختم کرنے کی گزارش کی اور نہیں ماننے پر انہیں اور للو کو حراست میں لے لیا۔
خیال رہے کہ بدھ کو سون بھدر کے گھیراول علاقہ میں امبھا گاوں میں زمینی تنازعہ پر دس لوگوں کو گولی مارکر قتل کردیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں گرام پردھان سمیت 27 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واقعہ کے خلاف اپوزیشن متحد ہوگیا ہے۔ کانگریس، ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی سمیت ریاست کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے واقعہ کی ایک آواز میں مذمت کی ہے اور ریاست میں نظم و نسق کی بگرتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
