یو سی سی(UCC)کی مخالفت کی انتہا کیا ہے

✍️:پرویز نادر


جب سے ہندستان میں ۲۲ واں لاء کمیشن "یونیفارم سول کوڈ” کا ڈرافٹ تیار کرنے میں لگا ہوا ہے، تب سے مذہبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے خاص کر مسلمانوں میں کیوں کہ آزادی کے بعد دستوری طور پر مسلم پرسنل لاء کے نام پر انہیں ہندوستان میں جو کچھ عائلی اور معاشرتی قوانین میں اسلامی احکامات کے مطابق فیصلے اور شرعی وجوب عطا کیا گیا تھا اب وہ بھی کامن سول کوڈ کے نام پر ختم کیا جانے والا ہے، کیونکہ لا کمیشن کی پہلی ہی شق میں یہ درج ہے کہ
ایسے قوانین کی شناخت جن کی افادیت اب باقی نہیں رہی ہے اور فرسودہ اور غیر ضروری قوانین کی منسوخی کی سفارش لاء کمیشن کرے گا۔
اس کی دوسری شق بتاتی ہے کہ ایسے نئے قانون وضع کرنے کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کرنا جو رہنما اصول نافذ کرنے کے لیے ضروری ہوں اور آئین کی تمہید میں متعین کردہ مقاصد کے حصول کے لیے درکار ہوں۔
درج بالا دونوں شقوں پر عمل کرتے ہوئے مخصوص مذاہب اور مختلف ذاتوں کے پرسنل لاء کو ختم کرنے کے لیے موجودہ حکومت پوری تیاری میں ہے،
اس کو لیکر جتنی حساسیت ملی تنظیموں میں پائی جاتی ہیں ،اس پر شک نہیں کیا جا سکتا۔لیکن کچھ نیشنل میڈیا پر دیے گئے انٹرویوز اور بیانات بتاتے ہیں کہ اس کے نفاذ کے راستے کو صاف کیا گیا ہے،اس بات کو ثابت کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ جب تحریک آزادی ہند میں پاکستان کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا تھا،تب کانگریس نے قومی تحریک چلاکر اس وقت کے مسلم رہنماؤں کو یہ باور کرایا تھا بلکہ اعتماد میں لیا تھا کہ آزاد بھارت میں مسلمانوں کے تمام ترقیاتی، معاشرتی اور دینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، چنانچہ جو لوگ پاکستان کے نام پر علاحیدگی کے بجائے متحدہ بھارت کے حامی تھے ان کے پیش نظر یہی بات تھی کہ وہ دستور کے مسودے کی تیاری کے وقت اپنی مضبوط نمائندگی کے ذریعے مسلم پرسنل لاء اور مسلمانوں کے دیگر حقوق کو با آسانی منوا لیں گے، اگر ہم اس وقت کے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو چھوڑ کر علامہ اقبال اور مولانا مودودیؒ کے خدشات دیکھیں تو وہ من و عن ثابت ہوتے ہیں "اگرچہ کہ ہم آج مسلم پرسنل لاء اور مسلمانوں کے کچھ تحفظات کو دستور میں شامل بھی کرا لیتے ہیں تو ایک کافرانہ نظام میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ان قوانین میں ترامیم کوئی مشکل امر نہیں ہے،،۔مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اپنی بصارت اور بصیرت سے مستقبل کے آئینے میں یہ تک دکھادیا کہ فرض کیجیے آپ کی قوم بتدریج ہمسایہ قوم کے طرز معاشرت، آداب و اطوار،عقائد و افکار کو قبول کرنا شروع کرتی ہے اور اپنے قومی امتیازات کو خود ختم کرنا شروع کر دیتی ہے تو کون سا کاغذی میثاق اس تدریجی انجذاب کی روک تھام کر سکے گا۔آج اپنے چشمہء عبرت سے دیکھ لیجیے کس طرح ٹیلی ویژن پر ڈیبیٹ اور مختلف نیوز چینل دیہاتوں میں جا جا کر کم علم مسلمانوں کو طلاق،حلالہ ،کثرت ازدواج کے خلاف غلط فہمیوں میں مبتلا کر انہیں اپنی ہی تہذیب سے بر گشتہ کررہے ہیں، اب آجائیے اس بات کی طرف جس کی جانب میں نے اشارہ کیا تھا ۔ کامن سول کوڈ کے نفاذ کی راہیں آسان کی جارہی ہیں،ایک بڑی جمیعت کے سربراہ اگر یہ انٹرویو دے کہ اگر حکومت وقت مسلم پرسنل لاء کو ختم کر کامن سول کوڈ کا نفاذ کرتی ہے تو ہم کوئی احتجاج نہیں کریں گے، نہ ہی سڑکوں پر آئیں گے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے پاس زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے،کیونکہ احتجاج کا طریقہ تو یہی ہوتا ہے کہ سڑکوں یا میدانوں میں اپنے مفادات اور حقوق کی بازیابی یا بحالی کے لیے متعلقہ افراد کو جمع کیا جائے اور یہ آئینی و دستوری حق ہے، اگر کسان مخالف بل کے خلاف سات سو کسان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں تو جسے ہم اپنی جانوں سے زیادہ عزیز اور اپنی شناخت ظاہر کریں اس کے لیے آپ یہ کہہ دیں کہ کوئی احتجاج نہیں!اس پر جسارت ہوگی کہ میں کچھ کہہ دوں۔اور یہ بیان نہ صرف ایک بڑی جمیعت کی طرف سے آتا ہے بلکہ مسلم پرسنل لاء سے متعلقہ ادارے کے ذمہ داران کے بھی بیانات میں یہی یکسانیت پائی جاتی ہے تو کیا سمجھا جائے؟ بابری مسجد کے فیصلے کے وقت بھی اسی فضا کو تیار کیا گیا تھا کہ اگر فیصلہ ہمارے خلاف بھی آتا ہے تو ہم اسے منظور کرلیں گے اور ہوا بھی وہی ،اس کے بعد دیگر کتنی ہی مساجد کی فہرست بت کدوں میں تبدیل کرنے کے لیے تیار کی جا چکی ہے وہ بھی دیکھ لیجیے۔اور کیا اسی طرح آج بھی مسلمانوں کے رجحان اور رد عمل کو جانچا نہیں جا سکتا ؟مزید برآں لاء کمیشن نے عوام سے جو آراء یا مشورے طلب کیے ہیں، اس کی حیثیت بھی ایک چاکلیٹ کے سوا کچھ نہیں، اسلام دشمنی میں اٹھایا گیا قدم ،جس کے پیچھے حکومت وقت ہو اس ڈرافٹ کو تیار کرنے کے لیے اسی کے کارندے ہو اس کے نفاذ کے لیے اسی کے ہرکارے ہو،تو اس کو سادگی کا نام دیں یا بے وقوفی کہ قاتل کے دست راست کو منصف بنا کر یہ سمجھا جائے کہ وہ مقتول کے حق میں فیصلہ دے کر قاتل کو سزا دلائے گا۔اس کے دوسرے پہلو کو اگر دیکھا جائے کہ کامن سول کوڈ کے حق یا رد میں مشورے مانگے جا رہے ہیں تو بھی اکثریت کی بنیاد پر زیادہ آراء غیر مسلمین کی ہوگی۔اس کی تازہ مثال اتراکھنڈ کی ہی لے لیجیے، وہاں کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کے بعد بیان دیاکہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں ہم کوئی تاخیر نہیں کریں گے، جبکہ دو لاکھ پیتس ہزار لوگوں سے رائے طلب کی گئی ہے،لیکن حق یا رد کا فیصد کتنا ہے یہ نہیں بتایا۔ہماری خوش فہمی کی انتہا بھی دیکھیے کہ مختلف ذاتوں اور قبائلیوں کے پرسنل لاء کی آڑ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ کامن سول کوڈ تکثیری سماج میں مختلف ذاتوں اور قبائلیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے، جبکہ مقتدرہ طبقے نے درج فہرست ذاتوں کو بھی ہمیشہ ہندو ہی شمار کیا ہے،اور یہ تاریخ کا حصہ رہا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ ہر قوم و قبیلے کے افراد کو برہمن واد نے اپنے اندر ضم کر لیا،باقی جمہوریت کے نام پر پچھڑے اور بھوکے ننگوں کو ریزرویشن کے علاوہ اور کیا چاہیے۔اور مودی ہے تو ممکن ہے کے تحت بر سر اقتدار طبقہ ہر کسی کو اپنی تائید میں لے سکتا ہے، بالکلیہ طور پر حرف آخر یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی شناخت، تہذیب اور شریعت کے محدود ہی سہی قوانین کو بچانے کے لیے خود آگر آکر عزم و حوصلے اور استقلال کے ساتھ لڑنا پڑے گا، بوسیدہ بے ساکھیوں اور کسی اور کے کندھوں پر ہم اپنی شریعت کا بوجھ نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی کوئی اسے سہار سکتا ہے۔اگر ہمارے بزرگوں نے اپنے حقوق و تحفظات کے تئیں آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور پاکستان ہجرت کرنے کے بجائے ہندستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی تو اس لیے نہیں کہ ان کی نسلیں انہیں حقوق اور تحفظات سے محروم کردی جائیں، اور یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے بعد دیگر مساجد کو ہتھیانے کی اسلام دشمن طاقتیں ناپاک جسارت کررہی ہیں، مسلم پرسنل لاء ختم ہونے کے بعد ،دیگر عبادات اور مخصوص طرز معاشرت پر بھی حملہ آور ہونگی،جس کی مثالیں ہم ملک کے طول و عرض میں عیدین اور نمازوں کی ادائیگی کے وقت دیکھ چکے ہیں۔اسی لیے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی خاطر ہم جس انتہا کو پہنچ کر بھی کامن سول کوڈ کی مخالفت کر سکتے ہیں، ہمیں لازمی ہیں کہ وہ کر گزریں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading