یو جی سی نے جاری کی فرضی یونیورسٹیز کی فہرست، طلبا ہو جائیں محتاط

ملک میں تعلیم کے نام پر بڑے ریکیٹ چلائے جا رہے ہیں۔ ڈگری کے نام پر طلبا سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ ڈگری لینے والے طلبا کئی بار فرضی یونیورسٹیز اور اداروں کے چکر میں پڑ کر لاکھوں روپے کا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے باوجود انھیں ایک صحیح ڈگری تک نہیں مل پاتی۔ طلبا کو ایسی فرضی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں سے بچانے کے لیے یو جی سی نے 23 خود اعلانیہ، فرضی اور غیر منظور یافتہ یونیورسٹیز کی ایک فہرست جاری کی ہے۔

ملک بھر کی یونیورسٹی میں اس وقت داخلے کا عمل جاری ہے۔ طلبا فرضی اداروں میں داخلہ نہ لے لیں، اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے یو جی سی نے طلبا کو آگاہ کیا ہے۔ فی الحال ملک کے الگ الگ حصوں میں یو جی سی ایکٹ کی خلاف ورزی کر 23 خود اعلانیہ، غیر منظور یافتہ ادارے چل رہے ہیں۔ ان میں سے اتر پردیش میں 8 اور دہلی میں 7 یونیورسٹیز ہیں۔ مغربی بنگال میں 2، اڈیشہ میں 3 اور کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر اور پڈوچیری میں 1-1 فرضی یونیورسٹیز ہیں۔

فرضی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کی فہرست اس طرح ہے…

اتر پردیش میں فرضی یونیورسٹیز:

وارانسے سنسکرت یونیورسٹی (کانپور)، نیتاجی سبھاش چندر بوس یونیورسٹی (علی گڑھ)، اتر پردیش یونیورسٹی (متھرا)، مہارانا پرتاپ شکشا نکیتن یونیورسٹی (پرتاپ گڑھ) اور اندرپرستھ شکشا پریشد (ماکن پور)- نوئیڈا فیس ٹو-وارانسی، مہیلا گرام ودیاپیٹھ (پریاگ راج)، گاندھی ہندی ودیاپیٹھ (پریاگ راج)، نیشنل یونیورسٹی آف الیکٹرو کمپلیکس ہومیوپیتھی۔

دہلی میں فرضی یونیورسٹیز:

کمرشیل یونیورسٹی لمیٹڈ (دریا گنج)، یونائٹیڈ نیشنز یونیورسٹی، ووکیشنل یونیورسٹی، اے ڈی آر-سینٹرک جیوریڈیکل یونیورسٹی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ انجینئرنگ، وشوکرما اوپن یونیورسٹی فور سیلف ایمپلائمنٹ اور آدھیاتمک وشو ودیالیہ (روہنی)

اڈیشہ میں فرضی یونیورسٹیز:

نو بھارت شکشا پریشد (راؤرکیلا)، نارتھ اڈیشہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی، استری بودھ اکیڈمی آف ہایر ایجوکیشن

مغربی بنگال میں فرضی یونیورسٹیز:

انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹو میڈیسن اینڈ ریسرچ (کولکاتا)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹو میڈیسن۔

بقیہ فرضی یونیورسٹیز:

بدن گوی سرکار ورلڈ اوپن یونیورسٹی ایجوکیشن سوسائٹی (کرناٹک)، سینٹ جونس یونیورسٹی (کیرالہ)، راجہ اربی یونیورسٹی (مہاراشٹر)، شری بودھی اکیڈمی آف ہایر ایجوکیشن (پڈوچیری)

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading