یوں قسطوں میں نہ مارا کرو !

یوں قسطوں میں نہ مارا کرو!

جب انسان ایک دوسرے کا غم گسار، غم خوار، ہمدرد اور دکھ سکھ کا ہم نوا تھا، بچے اپنی ماں کے آغوش میں نیند کی مٹھاس لے رہے تھے، نوجوانوں کی جوانی شباب پر تھی، دادا، دادی، نانا نانی پریوں کی کہانیاں سنا کر دلوں کو خوش کر رہے تھے، کھیت کھلیان موسم بہار کے مشکباری سے لطف اندوز ہو رہے تھے، کسان خوشی سے سرشار تھے، مدرسے، سکولز اور تعلیمی ادارے روشن مستقبل کے نایاب ہیروں سے معمور تھے، استاد و شاگرد کی محبت اور دوستانہ تعلقات پرکار تھا، گلشن میں پھولوں کی خوشبو فضا کو معطر کر رہی تھی اور پنکھڑیوں کے نو رنگی سے گلشن کی رونق جاذب نظر اور قابل دید تھی، مگس باغوں میں خوشی و مسرت کا اظہار کر رہے تھے، بلبل شادمانی کی گیت گا رہی تھی، چڑیاں اپنے آشیاں میں موسم بہار کے مزے لے رہی تھیں، عاشق و معشوق کے درمیان عشق و محبت کی داستان طویل ہو رہی تھی، شاعر اپنی روداد قلم بند کر رہے تھے، تفریح گاہ سیاحوں اور دوستوں کی چہل پہل سے مدہوش ہو رہی تھی، سڑکیں آمد و رفت سے آباد تھیں، رات میں گہری تاریک خاموشی رہتی تھی، آسمان پر سجی کہکشاں کی جھرمٹ دلکش اور خوشنما لگتی تھی، ستارے ٹمٹما رہے تھے، عقد ثریا کا حسین امتزاج جاذب نظر ہوتا تھا، جگنو جگمگا رہا تھا،
بہرحال چاروں طرف ہریالی، خوش حالی، فارغ البالی اور چہل پہل تھی، باد نسیم دلوں کو موہ لے رہی تھی، بازاروں میں سیر و سیاحت ہوتی اور ماں لوریاں سناتی تھی…. تو وہ سنہرے اوقات کتنے خوشنما اور دلکش تھے ،

پر اچانک موسم نے کروٹ لی ، فضا بدل گئی، آسمان گرد و غبار ہوگیا، مصیبت، تکلیف اور پریشانی کے گھنے اور تاریک بادل چھا گئے، مگس گلستاں سے روٹھ گیا، ماں باپ بچھڑنے لگے، بچوں کی خوشیاں مایوسی اور ناامیدی میں بدل گئی، چڑیوں نے اپنا بسیرا چھوڑ دیا، کسانوں کے سروں پر پریشانی کے پہاڑ ٹوٹنے لگے، زنگی اجیرن بننے لگیں، محبت، الفت، خوشی و مسرت اور خوشحالی اور شادمانی کا راستہ پرخار ہو گیا، رشتوں کی بنیاد کمزور پڑنے لگی، دوستی کی مضبوط دیوار پر درار پڑنے لگی، غم گسار اور ہمدرد جانی دشمن بن گیا، بھائی چارہ ٹوٹ گیا اور اتحاد میں پھوٹ پڑ گیا، جذبہ اخوت نرم پڑ گیا، روشن مستقبل تاریکی اور گھٹاٹوپ اندھیرے میں گم ہو گیا،غیرت مند کی غیرت اور خوددار کی خودداری مجبوری کی بھینٹ چڑھ گئی….
قارئین! کیا ہم نے کبھی تصور کیا تھا ایسا بھی دور آئے گا جب ہمیں مجبوری کے ہاتھوں اپنے جذبات کو مجروح اور بیچنا پڑے گا…؟
لیکن آج ایک عالمی وبا،اللہ کی قدرت اور آزمائش کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑا اور اپنی ہار تسلیم کرنی پڑی، پر ہم مضبوط اور مستحکم ہونے کے بجائے بکھرنے لگے، دوسروں کے دکھ درد، عزت نفس اور غریبی کا مذاق اڑانے لگے،بھلے ہی وہ وقت کے حکمراں ہوں یا بےحس ، بےغیرت اور خود غرض کوئی بھی پیچھے نہیں رہے….!
غيرت اور خودداری انسان کی وہ نایاب تحفہ ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتی، امیر اپنے دھن دولت، شہرت کے سامنے اس کی بلی چڑھا دیتے ہیں لیکن غریب، مزدور، قلاش، مفلس اور ضرورت مند اسے ہی اپنی دولت، شہرت اور زندگی کی کمائی تصور کرتا ہے، اور جان سے بھی بڑھ کر اس کی حفاظت کرتا ہے،
لیکن جب حالات کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے، نونہالوں اور معصوموں کی بلبلاہٹ اور بھوک و پیاس کی شدت سے نڈھال بچے اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سمندر لیے بےبسی لاچاری کی گہار لگانے لگتا ہے تب تقدیر کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، ناچاہتے ہوئے بھی اپنے جذبات کا گلا گھونٹ کر اپنی تمناؤں کا خون کر کے اپنی خودداری اور عزت نفس کو نہ جانے کس سنسان مقبرے میں دفن کر کے چند روٹی کے لیے مجبوری کا ہاتھ پھیلاتا ہے، پر بے غیرت، شہرت طلب اور خود غرض انسان روٹی کے چند ٹکڑے دے کر اتنی تصویریں کھینچتا ہے جتنے کی اوقات نہیں، اور یہی تصویریں سوشل میڈیا میں شائع کرکے یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس سے بڑا سخی اور جودی انسان اس سر زمین پر ہے ہی نہیں،
ارے او بےحس، بےغیرت، شہرت پسند، خود پرست اور مطلبی انسان تمہاری اسی سوچ کی وجہ سے کتنے کے گھر اجڑ گئے، اہل خانہ بربادی کے دہانے پر پہنچ گئے، کتنے کا جینا محال ہو گیا، سماج میں سر اٹھا کر جینے کا آس کھو بیٹھا، روزانہ عزت کی جنازہ نکل رہی ہے اور عصمت وقت کی بھینٹ چڑھ رہی ہے ، اور زندگی سے ناطہ توڑ رہے ہیں….تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ دوسرے کی عزت سے کھیلو، کس نے اجازت دی کہ ان کی بےبسی، لاچاری، مجبوری، غریبی کا مذاق اڑاؤ، تمہیں یہ ادھیکار کیسے ملا کہ کسی غریب کی جان جانے کا کارن بنو…. ؟
ارے اوو… بے غیرت ابن آدم کیا تم اللہ کا یہ فرمان "وتلك الأيام نداولها بين الناس،، بھول گئے کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، اللہ کی قدرت کو پس پشت ڈال دیا کہ پل میں غریب اور پل میں امیر بنا سکتا ہے، کیسے غافل ہو سکتے ہو کہ جب تالاب میں پانی رہتا ہے تو مچھلیاں چیونٹیوں کو کھاتی ہیں اور جب تالاب سوکھ جاتا ہے تو چیونٹیاں مچھلیوں کو کھاتیں ہیں….. کچھ تو شرم کرو…..شرم تم کو مگر آتی نہیں….
ایک غیرت مند ماں بچوں کو کیسے سلاتی ہیں تمہاری اسی حرکتوں کی وجہ سے…. دل لرز جاتا ہے، کلیجہ منہ کو آنے لگتی ہے، آنکھوں سے آنسو نکل پڑتی ہے… گھر میں کچھ نہیں باہر بے غیرت اور شہرت پسند لوگوں کا بازار ہے، مجبور اور لاچار ہانڈی میں کنکریاں ڈال کر چولہے پر چڑھا دیتی ہے اور ابالنا شروع کر دی یہاں تک کہ بچے بھوک سے نڈھال کھانے کی آس میں سو جاتے ہیں،کبھی سوچا ہے اس بیچاری ماں پر کیا بیتی ہوگی، دل پر کون سا پتھر رکھ کر ایسا کیا،..
ایک باپ اپنا فون بیچ کر دو وقت کی روٹی لاتا ہے اور رات میں پھانسی لگا کر اپنے بچوں سے دور ہو جاتا ہے،
ایک پریوار کے سارے کے سارے زہر کا پیالہ پی کر چین کی نیند سو جاتے ہیں…
اگر یہی حال تمہارے اہل خانہ کا ہوتا تمہیں کیسا محسوس ہوتا… کیا احساس مرچکا ہے، تھوڑے وقت کے لیے اپنے آپ کو ان غریبوں اور بے سہارا بچوں اور لوگوں کی جگہ رکھ کر سوچو…!
کیا اس سے دل نہیں دہلتا، رحم کیوں نہیں کھاتے…. وہ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے کہ دوسروں کی دکھ، تکلیف اور غربت کو اپنے اوپر لے لیتے تھے، آج کے ظالم حکمراں غریبوں کا خون چوس کر اپنی کرسی چمکانے میں لگا رہتا ہے،….
بہرحال وقت کا مارا، مجبوری کے ہاتھوں شکستہ، اور نہتا شخص آشا کی ایک کرن لے کر اسے مات دینے کی کوشش کرتا ہے کہ حالات سدھر جائیں گی، تالا بندی اور دیش بندی ختم ہو جائے گی تو پھر زندگی معمول پر آجائے گی لیکن امید کی یہ کرن بھی بجھنے لگتی ہے جب پتہ چلتا ہے کہ تمہیں آسانی کی موت نہیں ماریں گے اور نہ ہی جینے دیں گے بلکہ قسطوں میں ماریں گے….
پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوتا ہے، نہ چلچلاتی دھوپ کی فکر، نہ حکمران کے ظلم و ستم، تشدد اور نفرت کی چنتا، نہ پرخار راستے کی پرواہ اور نہ ہی کسی طرح کے خطرے کی دن رات ایک کر کے منزل کی تلاش میں ہیں چلتا رہتا ہے پر وہاں بھی لینچنگ اور ظلم و و زیادتی کا شکار ہو کر زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے…..

قارئین! ویسے تو اس دنیا میں ہر کسی کو کسی نہ کسی ناحیہ سے غم تو لاحق ضرور ہے، انسان پر غم و اندوہ کے ازدہے حملہ آور ہے، وہ بلکتا، سسکتا اور تڑپتا ہوا کسی مرہم اور مزدہ جانفزاں کا منتظر ہے جو کہ اس کے دکھوں کا مداوا بن سکے،
بہرحال ہمیں حالات سے گھبرانا نہیں چاہئیے، آج ہم پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ ان شاء اللہ ختم ہو جائے گی اور پھر چاروں طرف خوشی کی گیت ہوگی، لہلہاتے اور سرسبز شاداب سرزمین ہو گی، اور حالات معمول پر آ جائیں گی پر شرط ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق زندگی کو ڈھالیں اور آپس میں پیار و محبت بانٹیں…..

آپ کا بھائی
محمد مرسلين الہندی
77830 23978

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading