سون بھدر میں اراضی تنازعہ کو لے کر 17 جولائی کو ہوئی فائرنگ اور اس میں ہلاک 10 لوگوں کے کنبہ سے ہمدردی ظاہر کرنے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی ان کے گھر جا رہی تھیں، لیکن اتر پردیش پولس نے انھیں وہاں جانے سے راستے میں ہی روک لیا۔ پرینکا گاندھی کے قافلے کو مرزا پور کے نارائن پور میں پولس چوکی کے پاس روک لیا گیا اور جب کانگریس لیڈر اپنے حامیوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئیں تو انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ پولس انھیں گاڑی میں بٹھا کر چنار لے گئی ہے۔

یوگی حکومت میں پولس انتظامیہ کی اس کارروائی کو کانگریس رکن پارلیمنٹ اور سابق قومی صدر راہل گاندھی نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انھوں نے اس واقعہ کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اتر پردیش کے سون بھدر میں پرینکا گاندھی کی غیر قانونی گرفتاری پریشان کرنے والا عمل ہے۔ 10 قبائل کسانوں، جن کا گولی مار کر قتل اس لیے کر دیا گیا کہ وہ اپنی زمین چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، ناقابل فراموش ہے۔‘‘ انھوں نے ٹوئٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’’متاثرین کے کنبہ سے ملنے کے لیے پرینکا گاندھی کو اقتدار کے ذریعہ روکا جانا بی جے پی حکومت میں موجود عدم تحفظ کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
The illegal arrest of Priyanka in Sonbhadra, UP, is disturbing. This arbitrary application of power, to prevent her from meeting families of the 10 Adivasi farmers brutally gunned down for refusing to vacate their own land, reveals the BJP Govt’s increasing insecurity in UP. pic.twitter.com/D1rty8KJVq
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 19, 2019

اس سے قبل پرینکا گاندھی فائرنگ واقعہ میں زخمی ہوئے لوگوں کو دیکھنے کے لیے وارانسی پہنچیں۔ زخمیوں سے ملاقات کر کے انھوں نے خیریت دریافت کی۔ دراصل بدھ کے روز سون بھدر کے مورتیا گاؤں میں زمین تنازعہ کو لے کر ہوئی فائرنگ میں 10 لوگ ہلاک تو ہوئے ہی تھی، 25 دیگر لوگ زخمی بھی ہو گئے تھے۔ زخمی لوگوں سے اسپتال میں ملاقات کے بعد وہ مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے وہ سون بھدر کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔
Varanasi: Priyanka Gandhi Vadra, Congress General Secretary for Uttar Pradesh East met the people who were injured in firing over a land dispute in Sonbhadra on July 17. pic.twitter.com/zsQLm6BXYQ
— ANI UP (@ANINewsUP) July 19, 2019
سون بھدر کے لیے پرینکا گاندھی کا قافلہ جیسے ہی آگے بڑھا تو انھیں یو پی پولس کے ذریعہ مرزا پور-وارانسی سرحد کے پاس واقع نارائن پور گاؤں میں روک لیا گیا۔ اس سے ناراض پرینکا گاندھی اپنے حامیوں کے ساتھ وہیں دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ انھوں نے یہاں میڈیا سے کہا کہ ’’میں سون بھدر قتل واقعہ کے متاثرین سے ملنے کے لیے جانا چاہتی تھی۔ میں نے یہاں تک کہہ دیا کہ میرے ساتھ صرف 4 لوگ ہی جائیں گے، لیکن انتظامیہ نے ہمیں جانے نہیں دیا۔‘‘ کچھ دیر بعد ہی پولس نے انھیں حراست میں لے لیا۔
Priyanka Gandhi Vadra in Narayanpur: Just want to go and meet families of victims(Sonbhadra firing case),I even said will take only 4 ppl with me.Yet administration is not letting us go there.They should tell us why we are being stopped.We will continue to sit here peacefully pic.twitter.com/ICkI2AZAEH
— ANI UP (@ANINewsUP) July 19, 2019
پرینکا گاندھی کو پولس جب حراست میں لے کر کسی دوسری جگہ روانہ ہوئی تو میڈیا کو بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’مجھے کہاں لے جایا جا رہا ہے یہ معلوم نہیں، لیکن میں ان کے ساتھ خاموشی سے جا رہی ہوں۔‘‘ پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یوگی حکومت چاہے کچھ بھی کر لے، لیکن ہم جھکنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
Priyanka Gandhi Vadra in Narayanpur on if she has been arrested: Yes, we still won't be cowed down. We were only going peacefully to meet victim families(of Sonbhadra firing case). I don't know where are they taking me, we are ready to go anywhere.' pic.twitter.com/q1bwkucl0g
— ANI UP (@ANINewsUP) July 19, 2019
واضح رہے کہ 17 جولائی کو سون بھدر کے اُبھا گاؤں میں 112 بیگھا کھیت کے لیے 10 لوگوں کی لاشیں بچھا دی گئی تھیں۔ اس حادثے میں 25 لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ امبھا گاؤں میں 112 بیگھا کھیت جوتنے کے لیے گاؤں کا پردھا یگیہ دَت گوجر 32 ٹریکٹر لے کر پہنچا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان ٹریکٹروں میں تقریباً 100 لوگ سوار تھے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ لاٹھی ڈنڈا، بھالا-بلّم اور رائفل و بندوق لے کر آئے تھے اور انھوں نے زبردستی کھیت کو جوتنا شروع کر دیا۔ اس عمل کی مخالفت کرنے پر انھوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس معاملہ میں 28 نامزد اور 50 نامعلوم لوگوں کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔






یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
