یوپی میں لوجہاد قانون پر سختی سے عمل آوری ‘مزید دومسلمان گرفتار

مرادآباد، 6 دسمبر (یو این آئي) اترپردیش میں بریلی کے بعد مراد آباد میں لوجہاد کا معاملہ درج ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر پولس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔پولس سپرنٹنڈنٹ (دیہات) ودیا ساگر مشرا نے اتوار کے روز یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ لو جہاد کا پہلا مرادآباد کے کانٹھ تھانہ میں درج کیا گیا ہے، جس کے تحت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع بجنور کے کوتوالی علاقہ کے دارا گنج کی رہنے والی لڑکی کے اہل خانہ نے بیٹی کو پڑھنے کے لئے دہرادون بھیجا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ وہ ضلع مردہ آباد کی تحصیل کانٹھ کے محلہ پاٹے گنج کے باشندے اور پارلر میں کام کرنے والے سونو عرف راشد کے رابطے میں آئی تھی۔ نوجوان نے لڑکی سے شادی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اسی مقصد سے نوجوان راشد دہرہ دون سے لڑکی کو ساتھ لے کے ہفتہ کے روز کانٹھ آیا تھا۔ ہفتہ کی سہ پہر ایک بجے دونوں تحصیل کانٹھ میں شادی کا رجسٹریشن کروانے کے لیے ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر پہنچے تھے۔
اس دوران پولس نے سماجی کارکنوں کی اطلاع پر پہنچ کر لڑکی کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ کچھ دیر بعد لڑکی کی ماں وہاں پہنچی۔ یہ الزام لگایا گیا کہ راشد اور اس کے بھائی سلیم نے ان کی بیٹی کو پیسے کے لالچ میں مذہب بدل کر اس سے شادی کرنے کے لیے دھوکہ سے کاٹھ لے آیا تھا۔ماں کی تحریر پر اترپردیش انسداد غیرقانونی تبدیلی مذہب آرڈریننس-2020 کے تحت مقدمہ درج کرکے دونوں ملزمان کو جیل بھیجنے کی کارروائی کی جارہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading