ممبئی، 27 اگست/ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے خبر سامنے آئی کہ چند شر پسندوں نے حضور مفتی اعظم کی یادگار طالبانِ علوم نبویہ کے مرکز دارالعلوم مظہر اسلام پر شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، پتھر پھینکے، اس خبر کے عام ہوتے ہی، اہل سنت و جماعت بالخصوص وابستگان سلسلہ رضویہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، جو فطری بات ھے، بریلی شریف ہمارا مرکز ھے، اور دارالعلوم مظہر اسلام سرکار مفتی اعظم کی یادگار و بِنا، ایک علمی و تعلیمی قلعہ ھے. شرپسندوں کی پتھر بازی سے عیاں ھے کہ یہ بریلی شریف کا امن غارت کرنا چاہتے، ہم صوبائی و مرکزی حکومت کو متنبہ کر دینا چاہتے ہیں کہ اس قسم کی شر پسندی کرنے والے عناصر پر فوری قدغن لگائے.
انتظامیہ، پرساشن اور شرپسند عناصر ہمارے جذبات و حرارت کا امتحان نہ لیں، ہماری خاموشی کو کسی اور رخ سے نہ دیکھا جائے، عرس حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے موقع پر جانشین تاج الشریعہ علامہ عسجد رضا خاں قادری صاحب اور صاحب سجادہ درگاہ اعلی حضرت، مولانا سبحان رضا خاں سبحانی میاں صاحب قبلہ نے اپنے موقف کو ببانگ دہل واضح کر دیا تھا، کہ ہم صرف شہر کے امن کے تحفظ کے لیے خاموش ہیں. لہذا وابستگان خانقاہ رضویہ کو کسی بھی قسم کے سخت ایکشن کے لیے اکسانے کی کوشش نہ کی جائے. اس سلسلے میں شہزادہ غوث اعظم، خلیفہ تاج الشریعہ ابوالحسنین سید آل رسول عبدالقادر جیلانی قادری دامت برکاتہم العالیہ نے یوپی صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کو جاری کردہ اپنے خط میں شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے، خاطیوں کو جلد سے جلد کڑی سے کڑی سزا دیے جانے کا مطالبہ کیا، تاکہ شہر محبت بریلی شریف میں امن کی فضا برقرار رہے، اور شر پسند اپنے کسی بھی ناپاک ارادے میں کامیاب نہ ہونے پائیں. اس طرح کی پریس ریلیز، بذریعہ پریس سکریٹری جیلانی مشن، ممبئی سے موصول ہوئی.