ناندیڑ : 25 دسمبر(ورق تازہ نیوز)اردو زبان و ادب کے معروف ادیب افسانہ نگار ڈاکٹر سید شجاعت علی کے فن اور شخصیت پر تحریر کردہ مضامین اور مقالات کا مجموعہ” بہت مشکل ہے شجاع ہونا“ کا اجراءکرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ادیب ‘محقق‘ نقاد‘ شاعر ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کہا کہ دنیا کے 450 ملین لوگ اردو سمجھتے ہیں۔ اردو اور ہندی دو بہنیں ہیں بہنوں میں چشمک تو ہوسکتی ہے لیکن دشمنی نہیں ۔ ہندوستان کی مکمل تاریخ اگر کسی زبان میں لکھی گئی ہے تو وہ اردو ہے ۔

اردو زبان انسانوں کو جوڑنے‘ مثبت قدروں کو فروغ دینے اور اور جذبے محبت کو پروان چڑھانے کا کام کرتی ہے ۔اردو 97ملکوںمیں پڑھی‘سمجھ اور لکھی جاتی ہے ۔کسی بھی شخص کے کارناموں ‘ تخلیقی اور تحقیقی کاموں کو خراج پیش کرنے والی تحریریں سب سے عمدہ تحریریں کہلانے کی مستحق قرار پاتی ہیں اور ایک شاگرد نے اپنے استاد محترم پر تحریر مضامین کو یکجا کر کے انہیں کتابی شکل میں شائع کرنے کا عمدہ عمل کیا ہے ،پروفیسر ڈاکٹر نورالامین نے سید شجاعت علی پر لکھے مضامین کو” بہت مشکل ہے شجاع ہونا“ کے عنوان سے شائع کرکے اپنے استاد سے اپنی محبت اور وفاداری کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹرتقی عابد نے شاگرد اور استاد دونوں کو مبارکباد پیش کی ۔

تقریر سے قبل روزنامہ ورق تازہ کے 25ڈسمبر کے کے شمارے کا اجراء علامہ ا عجازفرخ اور پروفیسر رحمت یوسف زئی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔پروفیسر رحمت یوسف زئی نے اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر شجاعت علی پر نورالحسنین کے لکھے خاکے کو بے حد سراہا اور خاکے میں جو بھی بات لکھی گئی ہیں بالکل سچ ہیں۔ مہمان خصوصی ہیمنت پاٹل(رکن پارلیمنٹ ہنگولی) نے اپنی تقریر میں کہا کہ کوئی بھی مذہب برا نہیں ہوتا اس کو ماننے والا کوئی شخص برا ہوسکتا ہے اس لیے پورے مذہب کوبرا کہنا غلط ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر شجاعت علی کو ایک ملنسار شخص اور قومی اتحاد کی علامت بتایا۔پروفیسر مجید بیدار نے اپنے دیرینہ دوستانہ مراسم کاخوبصورت اندازذ کرکیا۔ بزرگ ادیب‘ مورخ‘محقق‘ شاعر‘ افسانہ نگار جلسے کے دوسرے صدر علامہ اعجاز فرخ نے کہا کہ آج دنیا بہت روشن اور منور ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود مجھے تاریکی ہی تاریکی دکھائی دیتی ہے کیونکہ جید عالم‘ علم کے قدردان اور علم کی شمع فروزاں کرنے والے افرادناپید ہوتے جا رہے ہیں ۔
انہوں نے شجاعت علی کے تعلق سے کہا کہ وہ ایک درد مند انسان ‘صاف گو اورحقگو شخص ہیں اسی لئے ان کی تحریروں میں زندگی کی مثبت قدروں کی چمک دمک دکھائی دیتی ہے۔مدیر اعلی ورق تازہ محمد تقی اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر شجاعت علی سے ان کے دوستانہ مراسم چالیس سالوں سے زائد عرصے پر محیط ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پوری ذمہ داری سے یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ”بہت مشکل ہے شجاع کا دوست ہونا“۔وہ میرے بے لوث ‘بے غرض اورمخلص دوست ہیں۔وہ سچ گو ہیں کبھی کوئی لگی لپٹی بات نہیں کرتے جو بات انہیں پسند نہیں آتی اس کا برملا اظہار کر دیتے ہیں اسی وجہ سے ان کو بعض مرتبہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔25 ستمبر بروز بدھ کو کو ہوٹل اتیتھی شیواجی نگر ناندیڑ میں منعقدہ جلسے اجراءمیں نریندر چوہان‘ڈاکٹر سلیم محی الدین ‘ ڈاکٹر نورالامین نے بھی اظہار خیال کیا ۔ قومی شہرت یافتہ افسانہ نگار ‘اورنگ آکاشوانی کے سابق اناو¿نسر نورالحسنین نے شجاعت علی پر دلچسپ اور عمدہ خاکہ پڑھا۔جلسے کی کارروائی فیروز رشید نے عمدہ انداز میں انجام دی ۔ دو پپہ لنچ کے بعد دوسرے اجلاس کا آغاز ہوا جس میں معروف ادیبوں او ر اردوکے اسکالروں نے ڈاکٹر سید تقی عابدی( کینیڈا) کی شخصیت اور فن پر جامع مضامین اور مقالے پڑھے۔فیروز رشید نے منظوم سپاسنامہ پیش کیا ۔جلسہ میںدو کتابوں کااجراءبھی عمل میں آیا ۔