آرامکو تیل تنصیبات پر ڈرون حملے کے بعد ہندوستان کی تائید قابل ستائش ، سفیر سعودی عرب کا بیان
نئی دہلی ۔ /22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے اپنے تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد کہا کہ وہ ہندوستان کی توانائی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے پابند عہد ہیں ۔ تیل پیدا کرنے والے دیگر اقوام کے ساتھ بھی سعودی عرب تعمیری کام کرے گا تاکہ مارکٹ میں استحکام لایا جاسکے ۔ سعودی عرب کے سفیر برائے ڈاکٹر سعود بن محمد السطی نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین کو اس صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مدعو کرے گا اور آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں کی تحقیقات میں تعاون کیلئے زور دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اس قابل ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کی دفاع کرسکتا ہے اور اس طرح کے جارحانہ حملوں کا مضبوطی سے جواب دے گا ۔ انہوں نے ہندوستان کی ستائش کی کہ اس نے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کے ساتھ اظہار یگانگت کیا اور عالمی برادری نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ گزشتہ ہفتہ سعودی عرب کی آرامکو پٹرولیم کمپنی کی آئیل تنصیبات پر ڈرون اور میزائیل حملے کئے گئے تھے اس سے روزانہ کی تیل کی پیداوار متاثر ہوئی ۔
سعودی عرب ہندوستان کی توانائی سلامتی کا کلیدی ستون ہے ۔ 17 فیصد یا اس سے زائد خام تیل کے علاوہ 32 فیصد ایل پی جی ضروریات کی تکمیل کی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر سعود بن محمد السطی نے کہا کہ جارحیت پسندوں کی جانب سے کیا گیا یہ غیرمعمولی حملہ دراصل سعودی عرب کے پٹرولیم تنصیبات کو سبوتاج کرنا تھا ۔ سعودی عرب ساری دنیا میں توانائی سربراہ کرنے کیلئے اہم ملک ہے ۔ اس واقعہ کے بعد سعودی آرامکو کمپنی کی جانب سے پٹرول کی پیداوار 50 فیصد تک متاثر رہی ۔ اس حملہ کی تحقیقات جاری ہے اور سعودی عرب اس طرح کے جارحانہ کارروائیوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا ۔ اپنی سلامتی کیلئے مناسب اقدامات کرے گا ۔ سعودی تیل تنصیبات پر سب سے بڑے حملے کیلئے یمن کے حوثی دہشت گرد گروپ نے ذمہ داری قبول کی ہے ۔ سعودی عرب اور اس کے حلیف ملک امریکہ نے ان حملوں کیلئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن ایران نے ان الزامات کی پرزور تردید کی ہے ۔
Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-