ہندوستان کی بھوک مری اور عوام کا ردعمل

اکتوبر مہینے کے وسط میں ورلڈ گلوبل ہنگر انڈیکس (GLOBAL HUNGER INDEX) کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ویلتھ ہنگر ہلفے اینڈ کنسرن ورلڈ وائڈ (Welthungerhilfe and Concern Worldwide), کے ذریعے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق،نہ صرف ہندوستان ان 117 ممالک میں سے 102 ویں مقام پر ہے، بلکہ ہندوستان دنیا کے ان 45 ممالک میں بھی شامل ہے جہاں ‘ بھوک مری کافی” سنگین سطح” پر ہے۔ اشاریہ میں ہندوستان کا مقام اپنے کئی پڑوسی ممالک سے بھی نیچے ہے۔ 2019 کے بھوک مری اشاریہ میں جہاں چین 25ویں مقام پر ہے، وہیں نیپال 73ویں، میانمار 69ویں، سری لنکا 66ویں اور بنگلہ دیش 88ویں مقام پر رہا ہے۔آئینہ وہی دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہوتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ جب انسان اپنا حال آئینے میں دیکھتا ہے تو دھاڑے مار مار کر کر رونے لگتا ہے اس کی چیخیں عالم میں لرزتی رہتی ہیں اور پھر وہ اس حال سے سے توبہ کر کر اپنی کوتاہیوں کو سدھارنے کی کوشش کرتا ہے۔

شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں گے گے کہ گلوبل ہنگر انڈیکس کے عنوان پر ہم یہ آئینے والی بات کیوں کر رہے ہیں۔
دراصل اوپر والے آئینے کی بات حکومت کے لیے نہ ہوتے ہوئے عوام کے لئے ہے۔دراصل گلوبل ہنگر انڈیکس کی یہ درجہ بندی ہندوستانی عوام کے لیے آئینہ ہے کہ سیاستدانوں نے غریبی کو مٹانے ، ہندوستان کو پانچ ٹریلین معاشیت والا ملک بنانے اور ہر ایک غریب کے لیے مکانات بنانے جیسے ہوائی وعدے کیے تھے اسی ملک میں غریبوں کو بھرپیٹ کھانا تک نصیب نہیں۔ ہندوستان جنوبی ایشیا کے سب سے سست رفتار سے ترقی کرنے والے ملک پاکستان سے بھی پیچھے رہ گیا۔

جو زخم عوام نے ملک کو دیے وہ کیسے ناسور بن گئے ہیں۔کیا عوام اب بھی ہوش کے ناخن لے گی؟

کیا ہندوستان میں بھوک مری ختم ہوگئی جس کی بنا پر عوام، حکومت کو اور زیادہ اکثریت دیتی جا رہی ہے گلوبل ہنگر انڈیکس کو ہی لے لیجئے ہندوستان دنیا کے ان 45 ممالک میں شامل ہے جہاں بھوک مری سب سے زیادہ سنگین سطح پر ہے۔غذائیت کی کمی ، بچوں کی اموات ، پانچ سال تک کے کمزور بچے اور بچوں کی جسمانی نشوونما میں رکاوٹ یہ سارے مسئلے اپنے عروج پر ہیں

گلوبل ہنگر انڈیکس کے معیارات

انڈیکس چار معیارات پر بنایا گیا ہے پہلا انڈر نریش منٹ (Undernourishment) : جس میں انسان کو غذا تو ملتی ہے لیکن اس میں پروٹین اور وٹامنز ز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے وہ کمزور رہ جاتے ہیں۔
دوسرا چائلڈ اسٹنٹنگ Child Stunting : اس میں بچوں کی لمبائی ان کے وزن کے اعتبار سے کم رہ جاتی ہے۔
تیسرا ویسٹنگ( Wasting): اس میں میں بچوں کی لمبائی کے اعتبار سے ان کا وزن کم رہ جاتا ہے۔
چوتھا معیار چائلڈ مورٹی لیٹیChild Mortality : جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح کیا ہے۔
ان معیارات کی بنا پر گلوبل ہنگر انڈیکس کی فہرست بنائی جاتی ہے۔
اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان ان ان چاروں معیارات میں اقل ترین تو ہے ہی ہندوستان میں ویسٹنگ Wasting یعنی لمبائی کے اعتبار سے بچوں کا کم وزن سن ہونا بھی پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہ بھی ایک وجہ بنی ہے ہے کہ ہندوستان کا درجہ اتنے نیچے آیا ہے۔
بعض ریسرچ میں میں پتہ چلا ہے کہ نومولود بچوں کے ذہن کی نشونما شروعات کے ایک ہزار دنوں میں 90 فیصد تک ہو جاتی ہے. اور اگر بچوں کو ان کے شروعاتی دور میں میں اچھی غذائیت مل جائے تو آنے والے مستقبل میں ان کا ذہن اور جسم 50 فیصد زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔
2019 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان 102 نمبر پر ہے جو 2018 میں 103 تھی۔ پچھلے سالوں کا اگر ہم موازنہ کریں تو یہ سال 2013 سے لگاتار ہر سال رینک گرتی رہی ہے۔

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں آج بھی لگ بھگ 18 کروڑ لوگ بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ حکومت سے جواب مانگنے والا کوئی رہا ہی نہیں یا پھر جو کچھ ہیں ان کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ تھوڑا سوچ کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہی وہ حکومت تھی جس نے 2014 میں میں بڑے بڑے دعوے کیے تھے ، جھوٹے وعدے کئے تھے،لوگوں کو گمراہ کیا تھا لیکن جیسے جیسے اگلا انتخاب نزدیک آگیا بڑی ہی مکاری سے موضوعات کو تبدیل کر دیا گیا، جنگ کا ماحول بنایا گیا ، لوگوں نے اک پل کی لیے بھی نہ سوچا کہ جو حکومت نے دعوے اور وعدے کئے تھے کیا وہ مکمل ہوئے؟ کن بنیادوں کے تحت اس حکومت کو عوام نے واضح اکثریت دے دی؟ میری نظر میں آج ملک میں جو بھی بدامنی معاشیعت کا غیر مستحکم ہونا ہے اس کے کھلے ذمہ دار ملک کی عوام بھی ہے ۔
کچھ لوگ یہ بات پیش کرتے ہیں ہیں کہ "انتخابات سے قبل لوگوں کے ذہنوں کے ساتھ کھیلا گیا تھا جس کی وجہ سے سے بھارتی جنتا پارٹی کو واضح اکثریت ملی, لوگوں کا اس میں کیا قصور؟”۔ یہ بات بات کچھ وزن تو رکھتی ہے لیکن یہ پوری طرح سے صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ جب آپ کو کوئی دکاندار کوئی شے بیچتے وقت بہکانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کے جال میں نہ آتے ہوئے صحیح فیصلہ کریں۔
لوگوں کی شعوریت کا کا علم آنے والے دو ریاستوں تو کے انتخابات میں پتہ چل ہی جائے گا آج جو گلوبل ہنگر انڈیکس میں اتنی شرمناک درجہ حاصل ہوا ہے کیا عوام اس پر حکومت سے سوال کر رہی ہے ابھی دو ریاستوں میں الیکشن ہونگے، عوام مسلوں کو بنیاد بنا کر ووٹ دیتی ہے یا وہ گلوبل ہنگر انڈیکس، معاشی مسائل جیسے چیزوں کو لے کر بی جے پی حکومت کو کو اقتدار سے بے دخل کر دے گی یا کشمیر پاکستان جیسی چیزیں کو موضوع بنا کر بی جے پی کو پھر سے سر پر بٹھا دے گی۔گلوبل ہنگر انڈیکس میں اتنی خراب رینکنگ کی ایک وجہ غذا میں ملاوٹ بھی ہے جس کی وجہ سے انسانوں پر اور خاص طور سے بچوں کی صحت پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ کیا عوام نے نے حکمرانوں سے غذاؤں میں ملاوٹ کی دھندلی کے بارے میں سوال کیا۔فوڈ سیفٹی سٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا FSSAI کے اکتوبر مہینے کے ایک نئے سیمپل سروے میں یہ پایا گیا کہ جو دودھ شہروں میں فراہم کیا جاتا ہے کیا جاتا ہے اس میں 41 فیصد ناقابل استعمال ہے۔نہ ہی اسے میڈیا میں میں بتایا گیا اور نہ ہی اچھا لگایا۔ یہی وجہ ہے کہ اہم مسئلے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔مسلم خلاف ذہنوں کو تشکیل کیا جاتا ہے۔ کشمیر اور پاکستان جیسے مسئلوں پر عوام کی توجہ وجہ بنی رہتی ہے۔
حالانکہ دیکھا جائے تو پاکستان کی 94 ویں رینک آئی ہے ، جو کہ اچھی تو نہیں لیکن ہندوستان سے تو اچھی ہے۔
آج ملک میں جو بھی اتارچڑھاؤ ہیں عوام کا حکومت سے سوالات نہ کرنے کی بنا پر بھی ہیں کانگریس کے دور اقتدار میں ایسا نہیں تھا اگر کانگریس کوئی غلطی کرتی تھی تو عوام انہیں حکومت سے اتارنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہوتی تھی۔خواہ وہ ایمرجنسی ہو یا کرپشن کا معاملہ اسے اس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے سزائیں ملتی رہتی تھی لیکن آج کا دور دیکھیے جوں جوں حکومت غلط فیصلے لیتی جارہی ہے، عوام انہیں واضح اکثریت سے نوازتی جارہی ہے۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟
کانگریس کے دور میں اگر وہ کام نہ کر دیکھائے تو عوام انھیں پچھاڑ دیتی تھی اور کانگرس عوام کے تحت جوابدہ تھی۔ کیا یہی معاملہ بی جے پی کے ساتھ ہے۔ یہ بی جے پی سے اندھی محبت کا نتیجہ ہے۔
ہنسی آتی ہےجب سیاستدان ہندوستان کو سپر پاور یا 5 ٹریلین اکانومی بنانے کی بات کرتے ہیں, کیا کسی ملک کو یہ بات ذیب دیگی کہ وہ ملک سوپر پاور ہو اور وہاں پر 18 کروڑ لوگ بھوکے پیٹ بھی سوتے ہوں ؟
اب بھی وقت ہے کہ عوام حکومت سے جواب مانگیں ورنہ اگر یہی حال رہا تو آج گلوبل ہنگر انڈیکس میں 102 درجہ ملا ہے، کل کیا پتا فہرست کا آخری حصہ ہی بن جائیں اور کیا پتا کتنی فہرستوں کا بنے۔ کسی بھی حکومت سے اندھی محبت اچھی نہیں ورنہ یہ نہ ہوجائے جو شکیل بدایونی نے کہا تھا
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا۔

اشفاق احمد مومن

9511603215

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading