موجودہ حالات کے تناظر میں ماہنامہ "نقوش راہ " ماہ فروری ۲۰۲۲ میں لکھی گئی تحریر"حجاب کے معاملے کو سمجھنے کے لیے پڑھیں
ہندستان کی جدید و قدیم تاریخ کا مطالعہ کرلیجیے،یہاں کی اقوام کی تہذیب و ثقافت،(طرز معاشرت، رہنے سہنے کا انداز، تمدن۔) روایات و تمدن ،صنعت و حرفت(ضروریات زندگی،کی تیاری و کاریگری کا شعبہ) لسان و ضرب المثل(زبان اور روزمرہ کی مثالیں) ہر چیز میں شرک و بت پرستی اور اخلاقی انارکی پر مبنی عناصر(Elements) ملیں گے۔ قدیم زمانے سے بت پرستی اور شعبدہ بازی(جادو گری،چالاکی، "evil influence") کے کمالات نے یہاں بسنے والے انسانوں کے اندر ایک مخصوص قسم کی جاہلیت کو پروان چڑھایا ہے،اور وہ ہے مافوق الفطرت(فطرت کے باہر کی طاقت) طاقتوں کے آگے جو اپنے ہی جیسے انسانوں کی طرف سے وضع کردہ ہو، خود کو جھکانا ،شعبدہ بازی کے کمالات سے متاثر ہوکر اپنی ذات کو کسی کے حوالے کرنا،اور ہر نئی اور نہ سمجھ میں آنے والی عجیب و غریب چیز کو خدا بنا لینا، انہیں وجوہات کی وجہ سے ہندوستانی اقوام کو زندگی گزارنے کے مستقل اور تعمیری اصول میسر نہ آ سکے، عزم اور حوصلہ ان کے اندر پیدا نہ ہو سکا ،برائی کا ادراک و مضرات سے بچنے کی تدابیر تو کجا،مضر کو مضر سمجھنے کی صلاحیت سے بھی وہ محروم رہے، اسی لیے تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ ہمیشہ باہر سے آنے والی طاقتوں نے ہندوستانی اقوام پر حکمرانی کی ہے، اور مسلسل ان کا استحصال کیا ہے، سوائے مسلم دور حکمرانی کے انہیں تحفظ اور سکون کی زندگی کبھی بھی میسر نہیں آئی،(تہذیب وتمدن پر اسلام کےاثرات واحسانات،از مولانا سید ابوالحسن علی ندوی)۔ جب کوئی باہر کی طاقت ان پر حکمراں نہ رہی تو اسی خطے سے اٹھنے والے مکار و عیار قسم کے طبقے نے ان کا استحصال کیا، ظلم و زیادتی کے نئے طریقے اپنائے گئے، اور انہیں غلامی کی زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیا،ظلم و زیادتی کی انہیں روایات کا تسلسل آج بھی برقرار ہے،ہندوستانی عوام کے استحصال کے لیے نئے نئے طریقے جدید شکل میں اختیار کیے جارہے ہیں، یوں تو سامراجی برطانوی(British) دور حکومت سے آزادی کے بعد ہی سے نام نہاد سیکولر اور جمہوریت کا ساری دنیا میں خوب غلغلہ مچایا گیا،جمہوری اقدار کا بظاہر نظر آنے والے حقوق انسانی و مساوات،اور بلا لحاظ مذہب و ملت ترقی کا خوب راگ الاپا گیا،رنگ و نسل اور لسانی(زبان) و جغرافیائی( Geographic) اختلاف کے باوجود قومی یکسانیت کا خوشنما شگوفہ اقوام عالم کے سامنے پیش کیا گیا،لیکن زمینی حقائق آئینہ بنے ہوئے ہیں جسے جھٹلانا گویا دن کی روشنی میں چمکتے سورج کا انکار کرنا ہے،2014 کے بعد بر سر اقتدار جماعت ایسا ہی ایک طبقہ ہے جو ظلم کے نت نئے راستوں کے ذریعے اپنے منصوبوں و مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے، برسر اقتدار طبقہ جہاں ایک خاص دوسرے طبقے کے مقاصد کی تکمیل کے حصول کے لیے کوشاں ہے وہیں وہ خود اپنے آپ میں شریر و مجرمانہ کردار کے حامل افراد کا ایک گروہ ہے،جس نے اپنے ماتحت طبقات اور اقوام کو آزمائش کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، وہ بھارت میں رہنے والے مختلف اقوام کو ایک قوم اس لیے نہیں کہتا کہ سرحدی طور پر سب ایک ملک میں رہتے ہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ غالب طبقے یعنی مذہبی طور پر وہ جس کا حصہ ہے، کی تہذیب میں دیگر مذاہب اور ادیان کو ماننے والے لوگ ضم ہوجائیں اسی لیے مقتدرہ طبقہ کے لوگ بار بار یہ کہتے ہیں کہ بھارت میں رہنے والے چاہے وہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوں وہ سب ہندو ہیں، کیوں کہ ان کے آباء و اجداد ہندو تھے، تو سب کو چاہیے کہ اپنی موجودہ شناخت اور مذہبی روایات کو ترک کر کے اپنے سابقہ مذہب کو اختیار کرلے اور اپنے آپ کو ہندو تسلیم کرلے ،اس کا دوسرا معنی یہ ہیکہ اپنی تمام تر تہذیبی روایات اور شعائر کو چھوڑ دیا جائے جس کا وہ حصہ ہیں، بصورت دیگر جبراً نئے قوانین اور تہذیبی جنگ کے ذریعے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کیا جائے گا، مقتدرہ جماعت کے ظلم و جبر پر مبنی قوانین اور فارمولوں کا شکار ملک کے کئی طبقے اور بڑے مذہبی گروہ ہو چکے ہیں، جو واقعی اپنے آپ کو ہندو قوم کا جزء سمجھتے ہیں، لیکن دوسری طرف ایک اور قوم ہے جن کی ایمانی و اخلاقی طاقت اور تہذیبی روایات غالب طبقے اور برسر اقتدار گروہ کے آگے مزاحم ہے اور وہ ہیں مسلمان جن کے آگے مزارات و تصوف کے کمالات اور شعبدہ بازی کے تمام کرتب ناکام ہوگئے، شرک و بت پرستی(وطنیت کا عفریت) اور قومیت کے بتوں کی پرستش میں مبتلا کرنے کی لاکھ کوششیں ناکام رہیں، اس لیے مسلمانوں سے نہ صرف انتقام بلکہ اپنی تہذیب میں ضم کرنے کی منظم کوشش تیز ہوگئی ہے، اسی لیے یک بعد دیگرے اپنے منصوبوں کی تکمیل کی خاطر ظالمانہ و جابرانہ قوانین وضع کیے جاتے ہیں، سام ،دام ڈنڈ بھید کے طریقے جدید شکل میں اپنائے جارہے ہیں، فسادات، تعلیمی نظام میں تبدیلی جو خالص ہندوانہ رنگ اور تاریخ میں رنگی جارہی ہے، تہذیبی شناخت اور شعائراللہ اور شعائر اسلام کو مٹانے کا کام کیا جا رہا ہے جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی شہادت، اس کے بعد کاشی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کا ہدف اسی کا تسلسل ہے، شہروں، بازاروں اور سڑکوں کا نام جو مسلم تہذیبی ورثہ سے تعلق رکھتے ہیں کو بدل کر ہندوانہ ناموں سے منسوب کرنا اسی کی کڑیاں ہیں، مسلم پرسنل لاء کو یکساں سول کوڈ کے نام پر دھیرے دھیرے ختم کرنا، یا یکساں سول کوڈ کو قانونی حیثیت دلانے کی تحریک اسی کا حصہ ہے، غرض آئے دن مسلم مخالف قوانین اور بیانات سب کچھ مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے، مقتدرہ طبقہ اعلی یا خود مختار گروہ نہیں ہے بلکہ وہ شطرنج کے بورڈ کے وہ پیادے اور گھوڑے ہیں جو دوسروں کی انگلیوں کے اشارے پر حرکت کرتے ہیں اسی لیے اہداف و مقاصد میں سب کچھ اعلی طبقے کی تہذیب اور روایات کو مقدم رکھا جاتا ہے، اسی کے حکمنامے کو پارلیمنٹ میں بل کی شکل میں لایا اور پاس کرایا جاتا ہے، جس کی ضرب مسلمان کے علاوہ دیگر طبقوں پر بھی پڑتی ہے، جیسے دلت اور دیگر نچلی سمجھے جانی والی ذاتیں۔ جیسے سی اےاے(CAA) اور این آر سی (NRC)میں ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں و دیگر کمتر طبقات کو ضمانت نہیں دی گئی کہ ان کی ہندوستانی شہریت ثابت ہو پائے گی۔ اسی طرح پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوؤں کو لانے کی بات کی گئی تھی ناکہ دلتوں و دیگر کو لانے کی، بس ایک واضح پالیسی یہ ہیکہ ورن آشرم کے سسٹم کو قائم کرنا ہے، اسلامی تہذیب کو مٹاکر سناتھن دھرم کی تہذیب کو عملی جامہ پہنانا ہے، اسی کاز اور مقصد کے حصول کی خاطر ہر راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور ہر طریقہ اپنایا جاتا ہے-
*مسلمانوں کے لیے لاحہ عمل*
ہندوستانی منظر (scenario) کو نگاہ میں رکھ کر یہاں کے مسلمانوں کو یہ بات اپنی گرہ میں باندہ لینی چاہیے کہ سیکولرزم اور جمہوریت ان کی بقا اور شناخت کے لیے سم قاتل ہے جس کے خوشنما لبادے میں ایک خوف ناک جال ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی قبر تیار کرے گا، اکثریت اور اقلیت کے فارمولوں کو عمل میں لاکر سارے قوانین صرف اور صرف استحصالی اور مسلمانوں کی تہذیبی و مذہبی شناخت مٹانے والے ہی بنائیں جائیں گے، اب تک ایک ایک کرکے شریعت اور دین کے خلاف کتنی کامیابی اور چالاکی سے قوانین بنائے جا چکے ہیں، کشمیر سےدفع 370 کو ختم کرنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک پورا کریک ڈاؤن تھا جو کشمیری مسلمانوں کے خلاف کیا گیا۔ اس کے بعد ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کشمیری مسلمانوں کی حالت کس طرح جہنم بنا کر رکھ دی گئی ہے، چاہے وہ تین طلاق مخالف بل ہو، گائے کی نسل کے جانور پر ذبیحہ پر پابندی ہو، یا حالیہ لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد کا بل، اس کا سیدھا اثر مسلمانوں کی روایات پر پڑے گا۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد جو باندھی جارہی ہے اس سے سوائے مسلمانوں کے کسی کو نقصان نہیں ہونے والا، درج بالا اوپر کے پیراگراف میں یہ بات واضح کی گئی کہ ہندوستان میں بسنے والی مشرک قوم میں شرک و بت پرستی کی وجہ سے ان کے خمیر ہی میں اخلاقی انارکی کے اوصاف ملیں گے، صاف ستھری اخلاقی روایات سے انہیں کوئی سروکار نہیں، اب چاہے اسے جدیدیت (modernism) کا نام دےدیا جائے یا اباحیت پسندی کہا جائے، یہ سب دین بیزار اور ملحدانہ تہذیب کے ہی خدوخال ہیں، لڑکیوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ معاشرے میں کیا کیا برائیاں پروان چڑھیں گی اس کا ادراک اسی قوم کو ہوگا جو شرم و حیا، پاکبازی اور عصمت و عفت کو دین کا لازمی حصہ سمجھتی ہے، اور خاص کر ایسے ماحول میں جہاں بے حیائی اور جنسی ہیجان کو بڑھانے والے ذرائع عام ہوں، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، سن بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی ذہن بالغ ہوجاتے ہوں وہاں بغیر شادی کے لمبی عمر گزارنا معاشرے کی تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں، تو اس قانون کو بھی مسلم مخالف ہی سمجھنا چاہیے۔ دیگر اقوام اس کی مخالفت کرینگی اور نہ ہی اس سے ان کی زوال پذیر تہذیب کو کوئی فرق پڑے گا ،مجموعی طور پر چاہے جتنے بھی مسلم مخالف بل بنتے ہیں بنیں، مسلمانوں کو اپنی تہذیب اور روایات کو سنیے سے لگاکر رکھنا ہوگا، خود ان کے عمل سے ان کی تہذیب زندہ رہے گی، کسی اور کی حمایت یا مخالفت سے نہ دین باقی رہ سکتا ہے نہ ہی اخلاقی اقدار و تہذیب زندہرہے سکتی ہیں، مسلمانوں کو تعلیم یافتہ سے زیادہ دینی تربیت یافتہ نسل تیار کرنے کی فکر زیادہ ہونی چاہیے، سوسائٹی کی تعمیر میں ان کا حصہ دینی ذمہ داری سمجھ کر ہونا چاہیے نہ کہ ماڈرن سوسائٹی کا حصہ بننے کے لیے دین بیزار اور اخلاقی اقدار سے بری الذمہ ہونا چاہیے- شعائر اسلام اور تہذیبی شناخت کو قائم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اب اس میں چاہے ،کھان پان ،رکھ رکھاؤ، پہناوا، اور عادات و اطوار کچھ بھی شمار کرلیا جائے، جس عمل سے آپ کا مسلمان ہونا ظاہر ہو ایسی تمام جزئیات کو اختیار کرنا چاہیے اور یہ کوئی دقیانوسیت یا نئے زمانے میں پرانی روایات پر عمل کرنے اور شرمساری کا باعث نہیں ہے، آپ اپنی مقابل تہذیب یا مذہب کے پیروکاروں کو دیکھ لیجیے، ایک مذہبی رنگ ہے جو خاص کر اپنایا جارہا ہے، لہجہ،حلیہ،طور طریقے بتاتے ہیں کہ کس قوم کا فرد اور کس مذہب کا ماننے والا ہے۔
*مخلوط سوسائٹی کا انجام*
سب سے اہم بات یہ کہ مخلوط سوسائٹی میں رہنے اور بسنے کا انجام موت ہے، چاہے وہ تہذیبی طور پر ہو یا پھر فساد اور قتل و غارت کے ذریعے ہو-
ہماری ایک ایسی سوسائٹی ہونی چاہیے جہاں شعائر اسلام پر عمل کرنے کا ماحول پروان چڑھے، مشرکانہ اور ملحدانہ ماحول میں شعائر اسلام پر عمل تو کجا آپ اپنی شناخت ظاہر کرنے پر شرم محسوس کریں گے، آج مسلمانوں میں روایات اور رسم رواج کا جو بگاڑ پایا جاتا ہے وہ اسی مخلوط معاشرے کا اثر ہے، شاید اسی بات کا احساس کرتے ہوئے جب مسلم سلاطین ہندوستان میں داخل ہوئے اور مسلمان یہاں بسنے شروع ہوئے تو انہوں نے مخلوط معاشرے کی شدت سے مخالفت کی، اور اپنی سلطنت اور حکمرانی کو مقامی قوم پر باقی رکھنے کی غرض سے مسلم سلاطین نے ایسا معاشرہ وجود ہی میں نہ آنے دیا۔ اگر بنی اسرائیل کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو ان کے اندر اخلاقی کمزوری اسی لیے پیدا ہوئی تھی کہ وہ اپنی ہم سایہ اقوام کی شرک و بت پرستی اور رسم رواج سے متاثر ہوچکی تھی، اسی لیے جب صحرائے سینا میں حضرت موسی علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم پر کوہ طور گئے تو ادھر بنی اسرائیل نے بچھڑے کو خدا بنا لیا-
*تعلیمی نظام*
تیسری بات یہ کہ موجودہ تعلیمی نظام جو اخلاقی انارکی اور جھوٹی تاریخ کے ساتھ ترتیب دیا جارہا ہے، جس سے دین بیزاری اور ملحدانہ ماحول بن رہا ہے، ہمیں سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی کہ کس طرح اس کے اثرات سے اپنی نسل کو بچایا جا سکتا ہے، کسی بھی قوم کے لیے تعلیم کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا کوئی تصور نہیں کیا سکتا، لیکن ایک صاف ستھرے اور صالح و پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے اخلاقی تعلیمی نظام ہی کلیدی حیثیت رکھتا ہے،اکثر ایسا ہوتا ہیکہ مسلم لڑکا لڑکی، جب کوئی نوکر شاہی یا اعلی ڈگری امتحان پاس کرتے ہیں تو ہماری خوشی کی کوئی انتہاہ نہیں ہوتی، لیکن کیا اس کے بعد اسی لڑکے یا لڑکی کا اسٹیٹس یا معیار بتایا جاتا ہے؟ حال یہ ہوتا ہیکہ وہ مسلم بستیوں میں رہنا پسند نہیں کرتے، تہذیبی روایات اور اسلامی تعلیمات تو دور کی بات-
مسلم تنظیموں اور دینی جماعتوں، علماء دین،فلاسفرز، اسکالرز، ٹیچرز ،سبھی کا یہ فریضہ ہیکہ وہ ایک ایسا نصاب ترتیب دیں جو سبھی مسالک و مکاتب فکر کے نزدیک قابل قبول ہو، جس سے ہمارا اسلامی تشخص برقرار رہے اور صحیح اسلامی تاریخ سے نئی نسل کو واقف کرایا جا سکے- نہ صرف درج شدہ صورت حال بلکہ ہر میدان اور شعبہ میں مسلمانوں کو ایک تہذیبی یلغار سے مقابلہ ہے، جس سے اتنی ہی طاقت سے مقابلے کے لیے تیار رہنا ضروری ہے ورنہ خواب غفلت اور دنیا کے پر فریب و خوشنما مناظر سے متاثر ہوکر یا کسی دنیاوی مصلحت یا ڈر و خوف کا شکار ہوکر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہ صرف اپنی تہذیب و روایات کے خاتمے کا سبب بنے گا بلکہ اس سے اگلا قدم اجتماعی موت کا پیغام ہے۔