
یہ رپورٹ اس دعوے کے ساتھ پیش کی گئی کہ مین اسٹریم میڈیا اس خبر کو دبا رہی ہے، لیکن ہریانہ کے ایک مقامی اخبار نے اس بارے میں ایک خبر شائع کی ہے.
"دینک بھارت” کے آرٹیکل میں ایک سوشل میڈیا صارف کا فیس بک پوسٹ بھی دیا ہے، جس میں ‘گڑگاؤں’ کے اخبار کی 18 ڈسمبر کی خبر کا حوالہ دیا گیا ہے. اس کلپ کے مطابق، Rohingya روہنگیا پناہ گزیں مسلم اکثریتی علاقہ میوات ، ہریانہ میں ‘ہندوؤں کا گوشت کھارہے ہیں.”
ہم نے اسی رپورٹ کا ایک آن لائن ورژن بھی پایا. عنوان ہے "ہندوؤں کا گوشت کھاتے ہیں اور ہندوستان میں بھی رہتے ہیں” جس میں کہا گیا ہے کہ "ہندوؤں کا گوشت کھانے والے روہنگیاؤں کو میوات میں جگہ ملی.” واضح رہے کہ ‘ آج تک گڑگاؤں’ انڈیا ٹوڈے’ کے گروپ ‘آج تک’ کا حصہ نہیں ہے.
‘

دہلی ہائی کورٹ کے وکیل پرشانت پٹیل امراؤ نے بھی اسی دعوے کو ٹویٹ کیا جس میں میوات کو ہریانہ کا ‘منی پاکستان’ کہا ہے. غلط معلومات پھیلاتے ہوئے امراو کئی بار پکڑے بھی گئے ہیں . ایسے مثالوں کی تالیف یہاں پڑھی جا سکتی ہے.

یہ تصویر ‘روہنگیا مسلمانوں کی ہندوؤں کا گوشت کھانے’ کی نہیں ہے
گوگل کی ریورس امیج سرچ کا استعمال کرتے ہوئے، انٹرنیٹ پر اس تصویر کی تلاش کی گئی تو سرچ رزلٹ میں سب ابتدائی نتائج میں سے ایک، اکتوبر 2009 میں لکھا گیا بلاگ پوسٹ ملا. اس بلاگ کے مطابق، یہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں تبتیوں کا جنازہ دکھایا گیا ہے جو ان کے لاشوں کو جنگلی پرندوں کو کھلانے پر یقین رکھتے ہیں.

اس کے علاوہ، ہمیں یہ تصویر، اسی پیغام کے ساتھ ایک فیس بک کا صفحہ พระ มหา ไพร วัลย์ วร ว ณฺ โณ (Phramaha Paiwan / پھرامها پےوان) کی طرف بھی 14 اگست، 2014 کو پوسٹ کیا گیا ملی. ایک اور ہینڈلdamnitbennnnnn_ نے بھی اس تصویر کو اس پیغام کے ساتھ ٹویٹ کیا تھا- ‘this is tibetan people’s’ sky burial ‘-‘ یہ تبتی لوگوں کا ‘آسمانی دفن’ ہے. ‘(ترجمہ)
تبتی لوگوں کے جنازہ کے کئی YouTube ویڈیوز دكھلاتے ہیں کہ مردہ جسموں کو ٹکڑوں میں کاٹ کر مرداخور پرندوں کو کھلایا جاتا ہے.
آج تک گڑگاؤں نے ‘روہنگیا مسلمانوں کی جانب سے ہندوؤں کا قتل اور گوشت کھانے’ کے لئے تبتی جنازہ کی رسم کی ایک غیر متعلقہ تصویر شائع کی ہے. تصویر کا روہنگیا ‘ میوات یا مسلمانوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے.اس سے قبل بھی، روہنگیا مسلمانوں کے ہندوؤں کو کاٹنے اور کھانے کے فیک ویڈیوز شیئر کئے جاچکے ہیں جو سب غلط ہیں.
لہذا تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوا کہ مقامی ہندی اخبارات اور سوشل میڈیا پر ہندوؤں کا قتل اور گوشت کھانے سے متعلق تمام خبریں بے بنیاد ہیں جس میں تبتی رسم و رواج کو غلط طریقے سے روہنگیا مسلمانوں سے منسوب کیا گیا ہے.