- بیس برس سے وکیل ظفر کے گھر پر ہو رہی تراویح پر بی جے پی اور وی ایچ پی کو اعتراض، جگہ سیل، ضلع مجسٹریٹ کے سامنے امام کی پٹائی مشتعل مسلمانوں کا پولس اسٹیشن کا گھیراؤ، انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی
بلد وانی ۱/۴ پریل : اتراکھنڈ کے ہلد وانی میں پیر کی شب ۱۰ بجے نماز تراویح کے دوران ہندوؤں نے حملہ کر دیا۔ ملت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پیر کی شب بد معاشوں نے ہلد وانی میں ایک سینئر وکیل ظفر کے گھر پر حملہ کیا، مقامی رپورٹ کے مطابق ان کے گھر پر ۲۰ سال سے تراویح کی نماز ادا کی جارہی تھی ، نماز کے دوران حملہ کیا گیا ، جس میں امام سمیت کئی مصلی زخمی ہو گئے ہیں، مقامی لوگوں نے پولس تھانہ پر کارروائی کے لیے احتجاج بھی کیا“۔
نو بھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تراویح کی نماز ادا کرنے اور مسجد بنانے کی بحث کے درمیان پیر کی شب ہلدوانی میں زبر دست ہنگامہ ہو گیا، بی جے پی اور ہندو تو تنظیموں سے منسلک افراد نے موقع پر پہنچ کر ہنگامہ کیا، اسی درمیان ہندو تو وادی تنظیم کے ایک رکن نے سٹی مجسٹریٹ کے سامنے ہی امام سے دھکا مکی شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے انہیں تھپڑ ماردیا، تھپڑ مارنے کی اطلاع علاقے میں پھیل گئی اور تنازعہ بڑھ گیا۔ مار پیٹ کی خبر
#Breaking
Today at around 10 pm, Hindutva goons have allegedly attacked a house at Haldwani of the reputed Advocate Mr Zafar, according to a local Taraweeh was being performed at his house which has been happening since 20 years. @MaktoobMedia pic.twitter.com/0FrntKAodH— Meer Faisal (@meerfaisal01) April 3, 2023
وائرل ہونے کے بعد معاملہ سنگین ہو گیا، مسلم کمیونٹی کے افراد نے کوتوالی کا گھیراؤ کر کے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی اور لوگوں نے بھیٹر نے نینی تال ہائی وے پر جام لگا کر مظاہرہ کیا، لوگوں کو کو توالی کے اندر گھنے سے روکنے کے لیے فورس نے گیٹ کو چاروں طرف سے گھیر لیا بعد میں پولس کے سمجھانے پر کسی طرح سے ہنگامہ پر قابو پایا گیا۔ دراصل پیر کی شب ۱۰ بجے جیسے ہی امام صاحب سے مار پیٹ کی خبر وائرل ہوئی مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے کوتوالی پہنچ کر ہنگامہ شروع کر دیا، گلی محلوں سے نکل کر کوتوالی پہنچ گئے اور ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کر کے نعرے بازی کی، پولیس نے لوگوں کو کھدیڑا تو حالات کشیدہ ہو گئے
This is from #Haldwani, #Uttarakhand.
A #Hindutva mob barged into a house of #Muslim man and attacked imam and other worshippers offering #Namaz at the house.#HateCrime pic.twitter.com/fdkoSs40vT
— Hate Detector 🔍 (@HateDetectors) April 4, 2023