ممبئی: ہارر فلموں کےمشہور فلم ساز شیام رامسے کا آج یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 67 برس کے تھے۔ ہندوستانی سنیما میں ہارر فلمیں بنانے کی وجہ سے لمبے وقت تک ایک خاص پہچان بنانے والے شیام رامسے کی پیدائش 17مئی 1952 کو ہوئی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ کافی وقت سے شیام رامسے کو سینے میں درد کی شکایت تھی۔ شیام رامسے نیومونیا میں مبتلا تھے۔ حال ہی میں درد کے بعد انہیں کوکیلا بین اسپتال لے جایا گیا۔ یہاں پر ان کا علاج چل رہا تھا، لیکن کافی کوششوں کے بعد بھی انہیں بچایا نہیں جا سکا۔ شیام رامسے کی آخری رسومات ول پارلے شمشان میں آج ادا ہوں گی۔ ان کے لواحقین میں دو بیٹیاں ساشا اور نرمتا ہیں۔
رامسے برادران نے بالی ووڈ میں ہارر فلموں کا رواج شروع کیا اور اسے مشہور بھی کیا۔ انہوں نے 30 سے زیادہ بالی ووڈ فلمیں بنائیں۔ 1970 سے 1980 کے درمیان رامسے برادران نے کئی ہارر فلمیں بنائیں، جنہیں شائقین نے خوب پسند کیا۔ ان کا ایک ہارر ٹی وی سیریل سات سال تک چلا۔ اس سیریل کو رامسے اور تلسی کمار نے مل کر بنایا تھا۔ اس سے انہوں نے زبردست کامیابی پائی۔ رامسے برادران کو ہارر فلموں کا دور لانے والے فلم سازوں کے طورپر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے انڈسٹری میں ایسی شاندار ہارر فلمیں بنائیں کہ لوگ باکس آف پر اس کے زبردست کلیکشن کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آج بھی کہیں نہ کہیں ہارر فلموں میں رامسے برادران کے سیٹ کیےگئے ٹرینڈ کو فالو کیا جاتا ہے۔ ایسے میں شیام رامسے کا انتقال بالی ووڈ کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
شیام، رامسے برادران کے نام سے مشہور سات رامسے بھائیوں میں ایک تھے، جو اپنے والد فتح چند رام سنگھانی کے ساتھ تقسیم کے وقت کراچی سے ممبئی آگئےتھے۔ سبھی بھائی ایک ساتھ مل کر فلموں کے لئے کام کرتے تھے۔ اس لئے انہیں بالی ووڈ میں رامسے برادران کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شیام کے بڑے بھائی تلسی رامسے نے ’ویرانا‘ بنائی تھی۔ کافی وقت سے وہ اس کا سیکوئل بنانے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لئے وہ کافی پرجوش بھی تھے۔ اس سے پہلے شیام نے 1972 میں بالی ووڈ کی پہلی ہارر فلم ’دوگز زمین کے نیچے‘ بنائی تھی۔ رامسے برادران کی مشہور فلموں میں پرانی حویلی، ویرانا، تہ خانہ، ثبوت، ہوٹل، پرانامندر، دھند اور گھٹن اہم ہیں۔ رامسے برادران کی آخری فلم ’کوئی ہے‘2017 میں ریلیز ہوئی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
