جموں و کشمیر میں اس وقت ایک انجانا خوف چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔ عام لوگوں سے لے کر بڑے بڑے سیاسی لیڈران بھی ایک عجیب سے تذبذب کی حالت میں مبتلا ہیں۔ امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو وادی چھوڑنے کے لیے صلاح دیئے جانے کے گھنٹوں بعد نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ گلمرگ کے ہوٹلوں میں رہنے والے لوگوں کو ہوٹل چھوڑنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو پہلگام اور گلمرگ سے نکالنے کے لیے ریاست کی بسیں لگائی جا رہی ہیں۔ اب خبریں ایسی بھی موصول ہونے لگی ہیں کہ این آئی ٹی کو خالی کرایا جا رہا ہے اور کشمیر پالی ٹیکنک کے اسٹوڈنٹس کو بھی ہاسٹل خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
Friends staying in hotels in Gulmarg are being forced to leave. State road transport Corpn buses are being deployed to bus people out from Pahalgam & Gulmarg. If there is a threat to the yatra why is Gulmarg being emptied?
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) August 2, 2019
عمر عبداللہ نے گلمرگ کے ہوٹلوں کو خالی کرائے جانے کی اطلاع 2 اگست کو ہی ایک ٹوئٹ کے ذریعہ دی تھی۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’’گلمرگ کے ہوٹلوں میں رہنے والے دوستوں کو چھوڑنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو پہلگام اور گلمرگ سے باہر نکالنے کے لیے ریاستی سڑک ٹرانسپورٹیشن بسوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ اگر امرناتھ یاترا کو خطرہ ہے تو گلمرگ کو کیوں خالی کرایا جا رہا ہے؟‘‘
عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ ریاست کے سرکردہ افسران بھی امرناتھ یاترا کے رکنے اور پچھلے کچھ دنوں میں اضافی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کا سبب نہیں جانتے۔ جموں و کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کسی کو کوئی خبر نہیں۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک ہفتے سے فوجوں کی بڑھتی تعیناتی کو لے کر کشیدگی کی حالت بنی ہوئی ہے۔ اس سے یہ قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ ریاست میں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ حالانکہ حکومت اسے بہت طول دینے سے بچ رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو اندیشہ ہے کہ کہیں یہ 35 اے کو ہٹانے کی قواعد نہ ہو۔
دوسری طرف فوج کی 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننت جنرل کے جے ایس ڈھلن نے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ تین چار دنوں میں بہت بڑی خفیہ جانکاری ملی ہے کہ پاکستان حمایتی دہشت گرد امرناتھ یاترا کو رخنہ انداز کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس جانکاری کی بنیاد پر یاترا کے دونوں راستوں، جنوب کی طرف کے پہلگام والے راستے اور شمال کی طرف کے بالٹال والے راستوں پر سیکورٹی فورسز نے زبردست تلاشی مہم چلائی جس میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مہم کے دوران پاکستان اسلحہ فیکٹری میں بنی ایک بارودی سرنگ کو ضبط کر لیا گیا۔
بہر حال، جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے جمعہ کی رات کو کہا کہ امرناتھ یاترا کو درمیان میں روکنے کے دیگر ایشوز کے ساتھ جوڑ کر غیر ضروری خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے سیاسی لیڈروں سے اپنے حامیوں سے امن بنائے رکھنے اور غلط افواہوں پر بھروسہ نہ کرنے کی اپیل کرنے کی گزارش کی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
