اسرائیلی حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 81 فلسطینی جاں بحق اور 422 دیگر زخمی ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق غزہ کی وزارت صحت نے کی ہے۔یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی “آئندہ ہفتے کے اندر” طے پا سکتی ہے۔
غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والے انکشافات کہ فوجیوں کو “جان بوجھ کر” امدادی سامان لینے والے بھوکے فلسطینیوں پر گولی چلانے کا حکم دیا گیا تھا، غزہ میں “جنگی جرائم” کا مزید ثبوت ہیں۔
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (UNRWA) کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے زیر انتظام امدادی تقسیم کے مراکز “قتل گاہ” بن گئے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں اب تک کم از کم 56,412 افراد جاں بحق اور 133,054 زخمی ہو چکے ہیں۔
تخمینے کے مطابق 7 اکتوبر کے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔