ہریانہ کے گروگرام واقع صدر بازار علاقہ میں مذہبی ٹوپی پہننے پر مسلم نوجوان کی کچھ ہندو شدت پسند لوگوں نے پٹائی کر دی۔
بتایا جاتا ہے کہ عالم نامی نوجوان مسجد سے نماز پڑھ کر آ رہا تھا۔ اسی دوران پانچ چھ لوگوں نے اسے روک لیا۔ ملزمین نے ٹوپی اتارنے کے ساتھ عالم سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ پولس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لیا ہے۔
عالم نے اس تعلق سے پولس میں شکایت دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ملزمین نے مجھے دھمکی دی اور کہا کہ علاقے میں ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے ٹوپی اتار لی اور مجھے تھپّڑ مارا۔ انھوں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ ان کے کہنے پر میں نے نعرہ لگایا۔ اس کے بعد ملزمین نے مجھے ’جے شری رام‘ بولنے کے لیے بھی مجبور کیا، لیکن اس سے میں نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ملزمین نے لاٹھی سے میری پٹائی کی۔
Gurugram: A man says he was assaulted in Sadar Bazar by 5-6 youths for wearing traditional skull cap last night; says, "One of them threatened me, saying wearing cap was not allowed in the area. I said I am coming back after offering namaz. They removed my cap & slapped me.” pic.twitter.com/LQlJ8IZzLn
— ANI (@ANI) May 27, 2019
an who was allegedly assaulted for wearing skull cap: They said they would make me eat pork & chant Jai Shri Ram & Bharat Mata ki Jai. They tore my kurta when I was trying to escape. Police say, "accused was reportedly drunk. It was a minor altercation. We’ve registered an FIR” pic.twitter.com/bCApKE4g5n
— ANI (@ANI) May 27, 2019