نئی دہلی: مدھیہ پردیش میں مبینہ گئو رکشکوں (Cow Vigilantes) کو عمر قید کی سزا سنانے والی خاتون جج تبسم خان کو سوشل میڈیا پر قتل، ریپ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے بعد عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان نے جون 2026 میں مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم کے 2022 کے ایک ہجومی تشدد (لنچنگ) کیس میں 14 ملزمان کو قتل، اقدامِ قتل، فساد اور دیگر دفعات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ مہاراشٹر کے امراؤتی کے رہائشی نذیر احمد کی ہلاکت سے متعلق تھا، جن پر مویشی اسمگلنگ کے شبہے میں حملہ کیا گیا تھا۔
فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد اشتعال انگیز ویڈیوز اور پوسٹس سامنے آئیں۔ ایک وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک شدت پسند حامی نے کہا کہ اگر "10 دن (یا بعض پوسٹس میں 14 دن) کے اندر ہمارے لوگوں کو رہا نہ کیا گیا تو ملک میں خون ریزی ہوگی”۔ اسی ویڈیو اور دیگر پوسٹس میں جج تبسم خان کے خلاف ریپ اور قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق ان دھمکیوں کے بعد مقامی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور ویڈیوز کی جانچ شروع کر دی ہے۔
اس واقعے پر قانونی حلقوں اور وکلا کی تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں سے اختلاف کی صورت میں قانونی اپیل کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے، نہ کہ ججوں کو دھمکیاں دے کر عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جائے۔
یہ معاملہ پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں ایک طرف جج کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔