نئی دہلی: ملک کے کئی حصوں میں جنوب مغربی مانسون کی رفتار سست پڑنے کے باعث 11 ریاستوں میں معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے زرعی سرگرمیوں، آبی ذخائر اور پینے کے پانی کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
محکمۂ موسمیات (IMD) کے مطابق یکم جون سے 9 جولائی 2026 تک ملک میں مجموعی طور پر معمول کے مقابلے تقریباً 14 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ بعض علاقوں میں حالیہ دنوں میں بارش کی سرگرمی بڑھی ہے، لیکن کئی ریاستیں اب بھی بارش کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جن ریاستوں میں بارش کی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، ان میں راجستھان، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، اڑیسہ اور شمال مشرقی خطے کی متعدد ریاستیں شامل ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں مانسون کی پیش رفت توقع سے کم رہی ہے۔
بارش میں کمی کے باعث کسانوں کو خریف فصلوں کی بوائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جبکہ آبی ذخائر پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے بعض حصوں میں بارش کی سرگرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم کئی علاقوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔