ترووننتپورم: وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی)نے کیرالہ ٹورزم کے اس اشتہار پر سخت ردعمل کا اظہار کیاہے جس میں گائے کے گوشت اور ’بیف‘ سے بنے کھانوں کا ’ٹوئٹ‘ کے ذریعہ خصوصی طورپر ذکر کیاگیاہے۔ وی ایچ پی نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیرالہ حکومت کا یہ’بیف ٹوئٹ‘ گائے پوجا کرنے والوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ہے۔
Is this tweet meant for promoting tourism or promoting Beef?
Isn't it hearting sentiments of crores of cow worshipers?
Is this tweet generated from the pious land of Shankaracharya?@KeralaGovernor @CMOKerala @kadakampalli to please advise @KeralaTourism …. https://t.co/1lXplZjnA3— विनोद बंसल (@vinod_bansal) January 16, 2020
وی ایچ پی کے قومی ترجمان ونود بنسل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’کیا یہ ٹوئٹ شنکر آچاریہ کی پاک زمین سے کیاگیاہے۔یہ ٹوئٹ سیاحت کو فروغ دینے والا ہے یا پھر گائےکے گوشت کے کھانے کے سلسلے میں اسے بنایا گیا ہے؟کیا یہ گائے کی بھکتی کرنے والے کروڑوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاتا؟‘‘ ونود بنسل کا کہنا ہے کہ کیرالہ کو اچھی طرح سے سمجھنا چاہئے کہ انہیں ایسی کسی چیز کو فروغ نہیں دینا چاہئے تاکہ گائے پوجا کرنے والے لاکھوں سیاحوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس سے گائے پوجا کرنے والوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔کیوں بائیں بازو کے لوگ بار بار ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔‘‘
Hurts religious sentiments of cow worshippers: VHP on Kerala Tourism's beef tweet
Why the #Leftists repeatedly tease Hindus?https://t.co/bbmBSVgihQ— विनोद बंसल (@vinod_bansal) January 16, 2020
وی ایچ پی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کیرالہ کے گورنر ،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ،وزیر اعلی اور ریاستی سیاحت کے وزیر کو بھی ٹیگ کیا اور ان سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔
The @KeralaTourism must understand that u can't promote anything by hearting religious sentiments of millions of its own tourists worshipping Cows. @AmitShah @prahladspatel @tourismgoi @TwitterIndia to please take suitable action. pic.twitter.com/vyhgVYOixW
— विनोद बंसल (@vinod_bansal) January 16, 2020
واضح رہے کہ کیرالہ ٹورزم نے ریاست میں سیاحت کو فروغ دینے والے ایک اشتہار میں گائے کے گوشت سے بنے کھانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’گائے کے گوشت کے ٹکڑے،مسالوں سے بھنے اور ناریل کے ٹکڑوں اور کری پتوں کے ساتھ،مسالوں کی زمین میں ’بیف الارتھییاتھو‘سب سے کلاسک پکوان کی ایک شکل ہے۔‘‘ کیرالہ ٹورزم کا یہ ٹوئٹ 15 جنوری کو کیا گیا تھا اور اس وقت پورے ملک میں میں مکر سنکرانتی اور پونگل کا تہوار منایا جایا رہا تھا۔
Tender chunks of beef, slow-roasted with aromatic spices, coconut pieces, and curry leaves. A recipe for the most classic dish, Beef Ularthiyathu, the stuff of legends, from the land of spices, Kerala: https://t.co/d7dbgWmlBw pic.twitter.com/aI1Y9vEXJm
— Kerala Tourism (@KeralaTourism) January 15, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو