وائناڈ: کانگریس کے لیڈر اور وائنائڈ سیٹ سے رکن پارلیمان راہل گاندھی نے جمعہ کے روز شہلا شیرین کے گھر اور اسکول کا دورہ کیا۔ یہ بچی سلطان باتھیری کے ایک سرکاری اسکول میں زیرتعلیم تھی جہاں سانپ کے کاٹ لینے سے اس کی موت ہو گئی۔ راہل گاندھی نے سروجنا ووکیشنل ہائر سیکنڈری اسکول کا بھی دور ہ کیا جہاں اس بچی کو سانپ نے ڈس لیا تھا۔
راہل گاندھی نے بچی کے والدین، رشتہ داروں اور ساتھ میں پڑھنے والوں سے بھی ملاقات کی اور وائناڈ میں ایک میڈیکل کالج قیام کے لئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔
راہل گاندھی وائناڈ کے دورے پر جمعرات کو پہنچے تھے اور اس کے اگلے دن (جمعہ کو) انہوں نے دس سالہ شیرین کے گھر کا دورہ کیا۔ راہل گاندھی ’سلطان باتھری‘ میں واقع سرکاری اسکول کے اس کمرہ جماعت میں بھی گئے جہاں طالبہ کو سانپ کے ڈسنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہاں انہوں نے طلبہ سے گفتگو بھی کی۔

شیرین کے گھر پر کچھ دیر وقت گزارنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اپنے حلقے میں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
دریں اثنا، شیرین کی والدہ نے بتایا کہ اگر اس علاقے میں میڈیکل کالج اور ہسپتال ہوتا تو آج ان کی بیٹی زندہ رہتی۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں کی ضلع میں اشد ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ سانپ کے ڈسنے کے بعد طالبہ کو پہلے صحت کے مرکز لے جایا گیا تھا، یہاں ’اینٹی وینوم‘ اور ’وینٹی لیٹر‘ کی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شیرین کی جان کی حفاظت نہیں کی جا سکی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
