کیرالہ کے سلطان باتھری میں این ایچ 766 پر رات میں ٹریفک پر لگی روک کے خلاف ‘ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا’، یوتھ کانگریس، یوتھ لِیگ کے کارکنان 10 روز سے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، کانگریس رہنما اور کیرالہ کے وايناڈ سے ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی این ایچ 766 پر رات میں ٹریفک پر لگی پابندی کے خلاف نوجوانوں کے ذریعے کیے جا رہے احتجاجی مظاہرہ کی حمایت کی ہے، نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں شامل ہونے کے لئے راہل گاندھی سلطان باتھری پہنچے اور ان سے بات کی۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر کہا، ’’میں کیرالہ اور کرناٹک کو جوڑنے والے نیشنل ہائی وے 766 پر سفر پر لگی پابندی کی مخالفت میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی سے کھڑے ہونے کے لئے کیرالہ کے وايناڈ میں ہوں، پہلے میں اسپتال میں ان سے جاکر ملا جو طویل بھوک ہڑتال کی وجہ سے بیمار ہو گئے ہیں‘‘۔
I am in Wayanad, Kerala to stand in solidarity with the youth who have been on hunger strike, protesting against the travel ban on National Highway 766. Earlier I visited those who have had to be hospitalised, as a result of the prolonged fast. pic.twitter.com/eVqbHWMZJG
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 4, 2019
مظاہرہ کر رہے نوجوانوں سے ملنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ باندی پور ریزرو سے ہوکر جانے والے نیشنل ہائی وے پر 9 گھنٹوں تک ٹریفک محدود کرنے سے کیرالہ اور کرناٹک دونوں ریاستوں کے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ انہوں نے کیرالہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ ’ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا’، یوتھ کانگریس اور یوتھ لِیگ کے کارکنان 10 دنوں سے ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں، نوجوان اپنے مطالبے پر اڑے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا وہ بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔

اس سے پہلے 29 ستمبر کو راہل گاندھی نے نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرہ کی حمایت کی تھی، انہوں نے ٹوئٹ کر کہا تھا کہ ’’میں این ایچ 766 پر روزانہ 9 گھنٹے سفر کی پابندی کے خلاف 25 ستمبر سے غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے نوجوانوں کے ساتھ ہوں، ایسی پابندیوں سے کیرالہ اور کرناٹک کے لاکھوں مسافروں کافی مشکل کا سامانا کرنا پڑ رہا ہے‘‘۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے ماحولیاتی تحفظ کی ذمہ داری کو اجتماعی طور پر قائم رکھتے ہوئے مقامی کمیونٹیز کے مفادات کی حفاظت کرنے کی اپیل کی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
