سناٹا، ہر طرف ایک مہیب سناٹا،دن کی روشنی پر بھی تاریکی کا گمان، ایسا لگ رہا ہے جیسے سورج پر راکھ کی دبیز تہہ جم چکی ہے، رات کے اندھیارے میں چاند اور ستاروں کی موجودگی، کسی جنگل میں خانہ بدوشوں کی خستہ جھونپڑیوں کے دروازے پر جلتے بجھتے چراغوں جیسی نظر آرہی ہے۔چہاروں سمت ایک گہری خاموشی دبے قدموں پھیلتی جارہی ہے۔کوئی صدا نہیں، کوئی آہٹ نہیں، کوئی سرسراہٹ نہیں، دبی دبی ہی سہی سسکیاں بھی سنائی نہیں دے رہی ہیں، ایسا لگ رہاہے گھمبیر خاموشی کا دیوتا اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ سنسان گلیوں میں ٹانڈو کر رہا ہے۔ اُس کے اس ٹانڈو سے خوف اورڈر کی لہریں آہستہ آہستہ فضاؤں میں پھیل کر ماحول کو ہیبتناک بنانے میں مصروف ہیں۔ ایسا کیا ہوگیا ہے، اس گہرے اور پھیلتے سناٹے کا سبب کیا ہے۔
میں، جو صدیوں سے سناٹے کا عادی ہوں، مجھے بھی یہ بھیانک سناٹا عجیب لگ رہا ہے۔ خوف اور ڈر کی ایک لہر میری ریڑھ کی ہڈی میں ڈور ی جارہی ہے۔ میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے ہیں۔ میں، جو بے خوف، بہادر اور نڈر ہونے کا دعویدار، میری اس کیفیت سے میرے ہم نشین بھی سخت حیرت اور خوف میں مبتلا ہیں۔ ایک میرے خوف اور ڈر میں مبتلا ہوجانے سے میری پوری قوم، میرا قبیلہ خوف زدہ، ڈر اور دہشت میں مبتلا، مایوسی کا شکار ہونے لگی ہے۔ لیکن میں کیا کروں میرے پاس انہیں اور خود کو اس ڈر سے نکالنے کا کوئی نسخہ نہیں ہے۔
صدیوں قبل تاریخ میں لکھا ہے، میں تن تنہا ہزاروں پر بھاری ہوا کر تا تھا، میرے گھوڑے کبھی اصطبل نہیں دیکھتے تھے۔ میری ایک دھاڑ سے پتھروں میں شگاف پڑ جاتے تھے، پانی پر بھی میں اس طرح دوڑتا تھا کہ دیکھنے والے مجھے جن یا دیو سمجھ لیتے تھے۔ میری لکھی ہوئی کتابیں، سرِ قدرت کی چابیاں ہوا کرتی تھیں۔ میری رسد گاہوں سے چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈالی جاتی تھیں۔ میری تلوار، میرا قلم، میری سوچ اور میرا جذبہ زمانے میں مثالی ہوگیا تھا۔ لیکن پھر مجھے زنگ لگنی شروع ہوگئی، میں نے اُس پیغام ربّی کو جس کے سہارے مجھے یہ بلندیاں حاصل ہوئیں تھیں پس پشت ڈال دیا، اپنے آباؤ اجداد کے ان تشریحات اور تعبیرات کو جو انہوں نے اپنے اپنے دور میں اس پیغام ربّی کے حوالے سے قلم بند کئے تھے، انہیں ہی اصل سمجھ کر اُن کے بت بنا کر انہیں پوجنے لگا، اُن کی اندھی تقلید شروع کردی، اور یوں اصل سے بہت دور بہت دور نکل گیا۔ قدرت نے(جیسا کہ اُس کی عادت رہی ہے)میری اس غلطی پرمجھے ذلت اور پھٹکار کی طوق پہنا دی۔ میں، جس کی موجودگی کبھی فتح و نصرت کی ضامن تھی، شکست اور زوال کا استعارہ بن گیا۔ میرے دل میں خوف اور دہشت بٹھا دی گئی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حیرت اس بات پر ہے کہ میرے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں آج بھی ماضی کے زعم میں مبتلاہوں، حالانکہ میرے تلوار کی چمک کبھی کی ماند پڑ چکی ہے اور میں نے اُسے پھر سے دھار دینے کی کوشش بھی نہیں کی ہے، میرے قلم کی دوات سوکھ گئی ہے اور میں اُس میں جدت کی سیاہی بھرنے سے ہمیشہ گریزاں رہا ہوں، میرے سوچ میں تقلید کی بیڑیاں پڑگئی ہیں اور میں نے انُ سے خود کو آزاد کرانے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے، میرے جذبے جو کبھی آفاقیت کے حامل تھے مخصوص حلقوں کے اسیر ہوگئے ہیں۔ میں، حال اور مستقبل سے بے پرواہ، تقلید کے بھول بھلیوں میں بھٹکنے کو اپنا فخر سمجھتا، ہر جدت سے چڑتا، بنی نوع انسان کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں سوائے نفرت اور مایوسی کے۔ ایسے میں ہر تبدیلی مجھے اپنے خلاف ایک سازش لگتی ہے۔ میں کیا کروں، کس سے فریاد کروں، کس کا دامن تھاموں، ہیہات!!! ہیہات!!!!! لیکن مجھے معلوم ہے میرے اس دکھ اور درد کا مداوا خود میرے پاس موجود ہے، پیغام ربی کا ہر حرف میرے لئے اکسیر ہے، لیکن میں اس سے راست فیض یاب نہیں ہوسکتا، میرے پیروں میں اندھی تقلید کی بیڑیاں،میرے ہاتھوں میں اپنے آباؤ اجداد کے تقدس کی ہتھکڑیاں اور میرے سوچ پر ہم نشینوں کے پہرے لگے ہیں۔
یہ سناٹا، اس سناٹے سے جڑے خوف، ڈر اور دہشت پل میں نیست و نابود ہوسکتے ہیں اگر میں اپنے رب کی رسی کو، اُ س کے پیغام کو مظبوطی سے تھام لوں، لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، میں اپنے مسلکی، سماجی، علاقائی بندھنوں کو کیسے توڑ دوں جو آج میری شناخت ہیں۔ کاش اے کاش میں ایسا کر سکوں۔ اے آسمان و زمین کے رب مجھے حوصلہ دے کہ میں اپنے بنائے ہوئے ان بتوں کو توڑ کر خالص تیرا ہوجاؤں۔تیرے پیغام کے ہر حرف، ہر سطرکواس طرح پڑھوں، سمجھوں جیسے وہ میرے لئے ہی اُتارا گیا ہے، تاکہ پگڈنڈیوں سے نکل کر سیدھے راستے پر آجاؤں اور خوف اور ڈر کے سناٹوں میں امن و امان کے نغمے الاپ سکوں۔ کاش میں ایسا کر پاؤں۔۔
اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ