میرٹھ: رام مندر- بابری مسجد معاملہ آج کل ملک میں ہندو اور مسلم سماج میں موضوع بحث ہے. حال ہی میں، 1994 ء کے عدالتی فیصلے پر دوبارہ غوروخوض کرنے کی رٹ سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہی یہ مدعا دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے.
گزشتہ ہفتے، تنازعہ پھر گرما گیا، جب کچھ خبر رساں ایجنسیوں نے اطلاع دی کہ "مسلم خواتین” ایودھیا میں رام مندر تعمیر کروانے کی حمایت کر رہی ہیں. میرٹھ سے "امر اجالا” اخبار نے 25 نومبر کو ایک مضمون شائع کیا. عنوان تھا "قسم خدا کی کھاتے ہیں مندر وہیں بنوائیں گے. آگے آئیں مسلم خواتین ، مردوں کا موقف واضح نہیں’.

اس خبر سے یہ ظاہر کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسلم کمیونٹی کی خواتین رام مندر تعمیر کی حمایت میں آگے بڑھی ہیں، امر اجالا نے مزید لکھا- "ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے بارے میں ملک میں زبردست ہلچل ہندو خواتین کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین نے بھی رام مندر کی تعمیر کے لئے آواز بلند کی.”
اس کے بعد، میڈیا نے ان دو خواتین کے ناموں کا ذکر کیا جنھوں نے مہم کی قیادت کی تھی – شاہین پرویز ‘مسلم راشٹریہ منچ’ اور ‘راشٹریہ ایکتا فورم’ کی سعدیہ صبہا . یہاں امر اجالا نے ان خواتین (اور ان کی تنظیموں) کی شناخت کا ایک لازمی پہلو چھوڑ دیا یا جان بوجھ کر اسے قارئین کے سامنے نہیں لایا.
آر ایس ایس کی ہی ہیں یہ تنظیمیں
آر ایس ایس کی ذیلی مسلم تنظیموں کے رہنما
شاہین اور صبہا دونوں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے منسلک تنظیموں کے بینر تلے ‘رام مندرتعمیر’ مہم چلارہی ہیں جبکہ امر اجالا نے اسے میرٹھ کی مسلم خواتین کی رائے ظاہر کردی. واضح ہوکہ آر ایس ایس ان تنظیمیوں کو اپنی ذیلی تنظیمیں نہیں مانتی لیکن یہ تنظیمیں اور ان کے مسلم رہنما غیر رسمی طود پر آر ایس ایس سے ہی منسلک ہیں.
گزشتہ سال، آر ایس ایس نے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے عوامی تائید میں اضافہ کے لئے، سری رام مندر تعمیراتی معاونت فورم (SRMNSM) ایک نیا ایسوسی ایشن تشکیل دیا تھا. کاروان نے اکتوبر 2018 میں رپورٹ کیا تھا کہ یہ تنظیم مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کی نگرانی کے تحت تھی . سینئر آر ایس ایس کے رہنما اندر کمار ان دو تنظیموں سے منسلک ہیں.

علاوہ ازیں، شاہین پرویز خود کو فیس بک پر "بی جے پی پارٹی کی ایڈوکیٹ” کے طور پر بتاتی ہیں ؛ ان کی سوشل میڈیا تصاویر اور ڈی پی میں انھیں ‘رام مندر تعمیر سے متعلق’ تقریب میں اندر کمار (آرایس ایس رہنما) کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے.

ہماری تحقیق میں امر اجالا اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر وائرل کی جاریی یہ خبر بالکل غلط اور گمراہ کن ہے.

کوئی بھی مسلم تنظیم یا خواتین کا گروہ اس کی حمایت نہیں کرتا بلکہ یہ آر ایس ایس کی جانب سے پھیلائے جارہے جھوٹے دعوے ہیں جن میں چند مسلم خواتین کا استعمال کیا جارہا ہے.
MuslimRashtriyaManch(MRM), organising Iftar Party, is an independent Muslim organisation to create national awareness. Dr Vaidya 2/4
— RSS (@RSSorg) June 30, 2016
پوجا چودھری الٹ نیوز کی رپورٹ