غزہ پر بے رحمانہ اور ظالمانہ بمباری اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف عملی قدم اٹھانے کی شروعات جنوبی امریکہ کے تین ملکوں بولیویا، چلی اور کولمبیا نےکی تھی، اور اب ایک مسلم ملک بحرین بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے ۔ بولیویا نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سے گذشتہ منگل کے روز سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا ، چلی اورکولمبیا نے اسرائیل سے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا تھا۔
اب بحرین نے اسرائیل سے مکمل طور پر تجارتی وسفارتی تعلقات کی معطلی کا اعلان کیا ہے ۔ بحرین کا اعلان اس معنی میں اہمیت رکھتا ہے کہ یہ اُن ۸ مسلم ملکوں میں سے ایک ہے جن کے اسرائیل سے خاص معاشی اور تجارتی تعلقات ہیں ۔ اِن ملکوں کے نام ہیں سعودی عربیہ ، یو اے ای ، مصر ، مراکش ، عمان ، سوڈان اور بحرین ۔ اب بحرین نے اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں تو ممکن ہے کہ مذکورہ فہرست میں شامل دوسرے ممالک بھی اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیں ۔ بحرین نے 2020ء میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے ، یو اے ای نے بھی اسی دوران اسرائیل سے سفارتی تعلقات بنائے تھے ۔
مصر اور اردن کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات پہلے ہی سے ہیں ۔ مراکش اور سوڈان کے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں ۔ ترکیہ نے بھی اسرائیل سے سفارتی ہی نہیں تجارتی تعلقات بھی قائم کررکھے ہیں ۔ جب سے غزہ پر اسرائیلی بمباری شروع ہوئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مارے گئے ہیں ، جن میں بچے بھی شامل ہیں ، تب سے جہاں دنیا بھر کے ملکوں میں اسرائیل کے خلاف غم وغصے کی لہر پھیلی ہے ، وہیں عرب اور مسلم ملکوں میں بھی اسرائیل کے خلاف شدید غم وغصہ پھیلا ہے ۔ عوام کا دباؤ اپنے اپنے حکمرانوں پر بڑھا ہے کہ وہ یا تو اسرائیل سے رابطے مکمل طور پر ختم کریں یا پھر اس کے خلاف متحد ہوکر کارروائی کریں ۔
عرب اور مسلم ملکوں کے حکمراں عوامی احتجاج اور مظاہروں سے تو دباؤ میں پہلے ہی سے ہیں اب مختلف ملکوں کے ذریعے اسرائیل سے سفارتی وتجارتی تعلقات کے خاتمے سے ان پر دباؤ گہرا ہو رہا ہے ۔ کچھ اور نہ سہی تو شرمندگی انہیں اپنے رویّے پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرسکتی ہے ، اور وہ اسرائیل سے اپنے رشتوں کو ختم کرنے پر غور کرسکتے ہیں ۔
سعودی عربیہ کے حالانکہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں ، اور نہ ہی راست تجارتی تعلقات ہیں ، لیکن امریکہ کے توسط سے وہاں کئی اسرائیلی کمپنیاں کاروبار کرتی ہیں ۔ دوسری جانب ترکیہ ، نائیجیریا، ملیشیا ، اردن، یو اے ای ، قزاکستان ، آذربائیجان ، انڈونیشیا ، ازبیکستان، سینیگال ، ترکمانستان ، بحرین ، مراکش اور سوڈان وغیرہ سے اس کے تجارتی رشتے کافی مستحکم ہیں ۔
اگر اعدادوشمار کی بات کریں تو 2022ء کے خاتمے تک صرف ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان آٹھ اعشاریہ پانچ بلین امریکی ڈالر کا کاروبار ہوا تھا ۔ اسرائیل عرب و مسلم ملکوں سے تجارت کرکے جو کماتا ہے وہ اسرائیل کی توسیع اور فلسطینیوں کے خاتمے پر صرف کرتا ہے ، جیسے کہ اِن دنوں غزہ پر بمباری کے ذریعے کررہا ہے ۔ اگر تھوڑی بھی غیرت اور شرم ہے تو بولیویا ، چلی ، کولمبیا اور بحرین کی طرح دوسرے عرب اور مسلم ممالک بالخصوص ترکیہ بھی اسرائیل سے اپنے ہر طرح کے رشتے منقطع کرلیں ، کہ یہ غزہ کو اور وہاں کے شہریوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے ۔