کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں

بقلم: ایم۔ ایم۔ سلیم۔ (آکولہ)

9975783737

کرکٹ کا سب سے بڑا سنگرام یعنی عالمی کرکٹ کپ اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ کل ہوئے سیمی فائنل مقابلے میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں توقع کے بر خلاف شکست کے ساتھ ہی بھارت کا عالمی کپ میں سفر بھی تمام ہوا۔ جس سے بھارتی عوام کو بہت مایوسی ہوئی ہے اور میڈیا کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

ہندوستان دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں کسی بھی چیز کو یہاں کی بھولی بھالی عوام اپنے دل پر لے کر بہت کچھ کر گزرتی ہے۔ پھر چاہے وہ کھیل ہو، الیکشن ہو، سیاست ہو یا سیاستدان…. کچھ ایسا ہی اس مرتبہ کے ورلڈ کپ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ جب بھی ہندوستان کا مقابلہ شروع ہوتا ہے میڈیا اس مقابلے کو مہا مقابلہ بنا کر پیش کر دیتا ہے۔ میچ سے پہلے سارے ہندوستانی لوگ دعائیں اور جگہ جگہ ہوم ہون کرنے لگتے ہیں، کھلاڑیوں کی پوجا کی جاتی ہے، فلک شگاف نعرے لگائے جاتے ہیں، بینڈ بجتے ہیں، اس مرتبہ تو مشہور موبائل کمپنی اوپو نے انڈیا کی جیت کے لئے”یہ اپنا حق ہے”نامی نغمہ بھی ریلیز کیا تھا۔ بہت سارے ٹی وی چینلز صبح ہی سے بحث و مباحثہ شروع کر دیتے ہیں، آپ جو چینلز دیکھیں گے ہر چینل پر آپ کو سابق کھلاڑی بحث و مباحثے میں نظر آئیں گے، چلو مان لیا کہ یہ تجزیے کا ایک حصہ ہے تو پھر کمنٹری کرتے وقت کمنٹری باکس میں فلمی اداکاروں کا کیا کام؟ اگر ایونٹ کا فائنل مقابلہ چل رہا ہو تو بات اور ہے لیکن ہر میچ سے قبل اس طرح کا ماحول تیار کرنا، کھلاڑیوں پر دباؤ بنانا اور پھر ان سے جیت کی امید رکھنا یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟ پاکستان اور ہندوستان کے مقابلے کی تو بات ہی اور ہے۔ اس مقابلے کو تو ہماری میڈیا اور عوام ایسا رنگ دیتی ہے جیسے یہ کرکٹ مقابلہ نہیں ہند وپاک جنگ ہو۔ اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اس مقابلہ کو”گیم آف تھرونس” سے بھی زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ "گیم آف تھرونس” دنیا کی سب سے زیادہ مشہور و مقبول ویب سریز ہے۔لیکن ہند پاک میچ کی مقبولیت نے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اعدادوشمار کے مطابق پچھلے عالمی کپ میں ہندو پاک کے میچ کو تقریباً 50 کروڑ لوگوں نے دیکھا تھا، جبکہ گیم آف تھرونس کے دیکھنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 93 لاکھ تھی۔ یعنی ہند وپاک مقابلہ مقبولیت کے معاملے میں 25 گنا زیادہ ہے۔اس مرتبہ بھی ہندو پاک میچ کو ایک ارب سے زائد لوگوں نے دیکھا۔ اب اسے دیوانگی کہے یا کچھ اور؟؟؟

بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ اس مرتبہ کا ورلڈ کپ دلچسپ تب بن گیا جب اپنی مسلسل خراب کارکردگی کے باوجود ایک ایسا موقع بھی آیا کہ اگر ہندوستان انگلینڈ کے خلاف مقابلہ جیت جاتا تو پاکستان کے اس ٹورنامنٹ میں بنے رہنے کے کسی حد تک آثار موجود تھے۔ یہ سب اعداد و شمار کا کھیل تھا، لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ ہر میچ کو جی جان سے کھیلنے والی اور موجودہ دور میں فل فارم میں چل رہی ٹیم انڈیا یہ میچ ہار گئی۔ اب اسے اتفاق کہا جائے یا کچھ اور؟ اس میچ میں انگلینڈ نے بھارت کو جیتنے کے لئے 338 رنز کا ہدف دیا تھا بھارتی ٹیم 306 رنز ہی بنا سکی۔ جب دھونی میدان میں آئے تو بھارت کو میچ میں جیت کے لیے 65 گیندوں پر 112 رنز درکار تھے، اور بھارت کی 6 وکٹیں باقی تھیں۔ لیکن ہر وقت اپنا جارحانہ انداز اپنانے والے دھونی نے بڑھتے رن ریٹ کے باوجود دھیمے انداز میں کھیلا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ابتدائی 24 گیندوں میں صرف 29 رنز بنائے تھے۔بھارتی ٹیم کو 31 گیندوں پر 71 رنز درکار تھے، لیکن دھونی اور اس کے بعد آنے والے کیدار جادھو نے ہدف حاصل کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی جس کے سبب بھارت یہ میچ ہار گیا۔ حالانکہ یہ میچ جیتنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ ٹیم انڈیا تو اس سے بھی مشکل میچ جیتی آئی ہے۔
خیر یہ بات بھی چھوڑئیے۔ ہار اور جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ اور یہ کسی بھی مقابلہ کا حصہ ہے۔ لیکن لوگ
کہتے ہیں کہ کھیل میں سیاست نہیں ہوتی اور میرے خیال میں کرنا بھی نہیں چاہیے۔ تو پھر فل فارم میں ہونے کے باوجود محمد سمیع کو ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں موقع کیوں نہیں دیا گیا؟ اور ساتھ ہی سیمی فائنل میں بھی موقع نہیں دیا گیا. اگر سیمی فائنل میں موقع دیا جاتا تو شاید کچھ بات بنتی۔ حالانکہ سیمی فائنل تک سمیع ہیٹ ٹرک کے ساتھ محض 4 میچوں میں 14 وکٹیں لے چکے تھے۔ اور مسلسل بہترین کارکردگی انجام دے رہے تھے۔ وہ تو بھونیشور کمار زخمی ہوگئے تھے ورنہ شاید ہی محمد سمیع کو موقع مل پاتا۔اس میچ کی تعجب خیز اور حیرت انگیز بات یہ بھی رہی کہ ہیٹ ٹرک لینے کے باوجود محمد سمیع کو "مین آف دی میچ” سے بھی نوازا نہیں گیا جبکہ وہ ان کا حق تھا جس سے انہیں محروم کر دیا گیا۔اور بمراہ کو دیا گیا۔ اس میچ میں محمد سمیع نے 6 اوورز میں 40 رن دے کر 4 وکٹیں لیں۔ جب کہ بمراہ نے 10 اوورز میں 39 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔ یہ بات بھی تو سمجھ سے پرے ہے ۔ اب یہ بات میچ انتظامیہ ہی بتا سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟

جب سے بھگوادھاری حکومت میں آئے ہیں وہ پورے بھارت کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے درپے ہیں، جو بھی موقع ملتا ہے وہ اسے خالی نہیں جانے دیتے۔ اس کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔جس کی کئی مثالیں آپ ماضی میں بہت سارے موقعوں پر دیکھ چکے ہیں۔ اس بار ہوا ایسا کہ عالمی کپ کھیلنے والی ہندوستان، انگلینڈ اور افغانستان کی ٹیموں کی ڈریس کا رنگ تقریباً نیلا ہی ہے۔ اور آئی سی سی کے ضابطوں کے مطابق ایک میچ میں دو ٹیمیں ایک ہی رنگ کا ڈریس پہن کر نہیں کھیل سکتیں۔ اگر بی سی سی آئی کو رنگ بدلنا ہی تھا تو کوئی اور رنگ بدل لیتے۔”دنیا میں اور بھی رنگ ہیں بھگوا کے سوا” بھگوا رنگ ہی کیا ضروری تھا؟ اب یہ کس کے اشارے پر ہوا یہ تو بھارتی کرکٹ بورڈ ہی بتا سکتا ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ کرکٹ میں سیاست نہیں ہوتی۔ پاکستان سے ڈک ورتھ لوئس ضابطے کے تحت میچ جیتنے پر اس کامیابی کو بالاکوٹ سانحہ سے جوڑنا، وہیں اس میچ میں شاندار کارکردگی کرنے والے روہت شرما کو ونگ کمانڈر ابھینندن کی طرح پیش کرنا!!! واہ اسے جنون کہے یا بچکانہ حرکت۔ اور گھنٹوں اس پر ٹی وی چینلوں کا مباحثہ کرنا۔ محض ٹائم پاس ہی ہے۔ کل کے میچ سے قبل تو حد ہی ہو گئی۔ ایک مشہور ٹی وی چینل نے سیمی فائنل میچ سے قبل اس طرح کا پروگرام چلایا کہ” کیا پی ایم مودی جتائیں گے میچ” اس پر ہنسا جائے یا ہندوستان کی موجودہ صورت حال کا نوحہ پڑھا جائے۔ ایک طرف ملک مذہبی منافرت، معاشی حالات، بھک مری، کسانوں کی خودکشی، سوکھا جسے کئی سنگین مسائل سے دوچار ہے اور ان میڈیا والوں کو یہ باتیں سوجھ رہی ہیں۔

ہمارا میڈیا سے اتنا ہی کہنا ہے کہ ملک میں کرکٹ سے زیادہ بہت سارے سنجیدہ و سنگین مسائل ہیں۔ آپ ان کے حل کے لیے عوام کو ساتھ لے کر حکومت سے سوالات کریں۔ حکومت کو عوام اور ملک کی صورت حال سے آگاہ فرمائیں۔ اصل مدعوں پر بحث کریں۔ اپنے معیار کو برقرار رکھیں۔ نہ کہ اپنے ٹی آر پی کے چکر میں حکومت کی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کھیل، کھیل ہی رہے، کھیل کا جذبہ سلامت رہے.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading