سری نگر، 9 جون (یو این آئی) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ پٹھان کوٹ امکانی طور پر پیر کو صبح دس بجے وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری وقتل کیس کا فیصلہ سنائے گی۔ کیس کی ‘ان کیمرہ’ اور ‘روزانہ بنیادوں’ پر سماعت قریب ایک سال تک جاری رہنے کے بعد 25 مئی کو اختتام پذیر ہوئی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے 10 جون کو سنانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔عدالتی ذرائع نے بتایا کہ کیس کے آٹھ میں سے سات ملزمان کا فیصلہ امکانی طور پر پیر کو سنایا جائے گا جبکہ آٹھواں ملزم جو کہ نابالغ ہے، کے خلاف ٹرائل عنقریب جوینائل کورٹ میں شروع ہوسکتی ہے۔ انتظامیہ نے فیصلہ سامنے آنے کے پیش نظر پٹھان کوٹ عدالت کے اردگرد اور کٹھوعہ و جموں میں سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔سپریم کورٹ کے احکامات پر 31 مئی 2018ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ میں کیس کی ‘ان کیمرہ’ اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تھی۔ اس دوران عدالت میں کیس کی قریب 275 سماعتیں ہوئیں اور 132 افراد عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے۔استغاثہ کی طرف سے کیس کی پیروی سپیشل پبلک پراسیکیوٹرس سنتوک سنگھ بسرا اور جگ دیش کمار چوپڑا نے کی جبکہ انہیں متعدد دیگر وکلائ بشمول کے کے پوری، ہربچن سنگھ اور مبین فاروقی (متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف پجوال کے ذاتی وکیل) انہیں اسسٹ کررہے تھے۔ ملزمان کی طرف سے کیس کی پیروی اے کے ساونی، سوباش چندر شرما، ونود مہاجن اور انکر شرما نے کی۔متاثرہ آٹھ سالہ بچی کے والد کے ذاتی وکیل مبین فاروقی نے یو این آئی اردو کو فون پر بتایا: ‘ہمیں پوری امید ہے کہ ملزمان کو سزا ہوگی۔ ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔ ٹرائل کے دوران ایک طبقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ گواہ اپنے اعترافی بیانات سے مکر بھی گئے۔ لیکن سزا کے لئے جو چیزیں چاہیں وہ ریکارڈ پر آچکی ہیں۔ آپ کی طرح ہمیں بھی فیصلے کا انتظار ہے’۔کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا شامل ہیں۔سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچانے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات ہیں۔25 مئی کو جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے استغاثہ اور وکلائ صفائی کی طرف سے پیش کئے گئے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور اسے دس جون کو سنانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔دریں اثنا ملزمان کے وکلائ کو شاید اس بات کی بھنک لگ گئی ہے کہ اس کیس کے بارے میں پیر کو آنے والا فیصلہ متاثرہ بچی کے حق میں اور ملزمان کے خلاف ہی آنے والا ہے کیونکہ جہاں ایک طرف یہ وکلائ ابھی بھی اس کیس میں سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کی مانگ کررہے ہیں وہیں اس کیس کو فرقہ وارانہ رنگ دے اس کو فرقہ پرستی کے ساتھ جوڑنے کی سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔ملزموں میں سے ایک ملزم کے وکیل اور ‘اک جٹ جموں’ نامی تنظیم کے چیئرمین ایڈوکیٹ انکر شرما اس وحشیانہ اور شرمناک کیس کو ایک سازش سے تعبیر کرکے ہندو فرقے کو عالمی سطح بدنام کرنے کا ایک موثر آلہ قرار دیتے ہیں۔ملزمان کے ایک اور وکیل اے کے ساونی بھی کیس کی سی بی آئی سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔انہوں نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا: ‘بحیثیت ڈیفنس کونسل جو اعتماد ہوتا وہ ہمیں شروع سے ہی رہا کہ یہ بے قصور لوگ تھے، بہت اچھا ہوتا اگر سی بی آئی انکوائری ہوتی تو اصلی قصوروار پکڑے جاتے، یہ کیس سی بی آئی انکوائری کے لئے فٹ کیس تھا اور اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوتا اور اصلی مجرم سامنے آتے’۔