بنگلہ دیش کی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔ اقتدار کے گلیاروں میں ایک ایسا نام تیزی سے ابھر رہا ہے جو کبھی جلاوطن تھا، کبھی عدالتوں میں گھرا رہا اور اب وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے بڑا دعویدار مانا جا رہا ہے۔ 17 سال بعد لندن سے واپس آنے والے طارق رحمٰن اس انتخاب کے مرکز میں ہیں۔ اس دوران سوال صرف یہ نہیں کہ وہ جیتیں گے یا نہیں، بلکہ یہ بھی کہ کیا ان کی واپسی بنگلہ دیش کی سیاست کا نیا باب لکھے گی؟
جمعرات (12 فروری) کو بنگلہ دیش میں عام انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ یہ انتخاب کئی لحاظ سے خاص مانا جا رہا ہے۔ عوامی لیگ کی غیر موجودگی نے مقابلے کو ایک الگ ہی سمت دے دی ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے بڑی اور اہم پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ بی این پی ملک کی پرانی اور مستحکم سیاسی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس بار کے انتخاب میں پارٹی کا چہرہ ہیں طارق رحمٰن، جنہیں وزیر اعظم کا مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔
طارق رحمٰن بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ سیاست ان کے لیے نئی نہیں ہے۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 2001 سے 2007 کے درمیان وہ پارٹی کے اندر بہت زیادہ باثر بن گئے۔ اس دور میں انہیں ’ڈارک پرنس‘ کے نام سے بھی جانا گیا، کیونکہ وہ اقتدار کے پیچھے رہ کر حکمت عملی بنانے والے لیڈر مانے جاتے تھے۔
2007 میں فوج کی حمایت یافت حکومت کے دوران طارق رحمٰن کے خلاف بدعنوانی کے کئی الزام عائد ہوئے اور انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ بعد میں وہ علاج کے لیے لندن چلے گئے اور وہیں سے پارٹی چلاتے رہے۔ 2018 اور 2021 میں انہیں بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور 2004 کے گرینیڈ حملے سے متعلق معاملوں میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ حالانکہ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد عدالتوں نے ان کے خلاف کئی فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس سے ان کی وطن واپسی اور انتخاب میں فعال کردار ادا کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔ تقریباً 17 سال بعد ان کی واپسی کو بنگلہ دیش کی سیاست کے بڑے واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔