تھانے:14فروری(ظفر اللہ خان)آج کوسہ سنی قبرستان کے ٹرسٹی نے واضح کردیاہے کہ روڈ وائڈننگ کےلئے قبرستان کی فصیٖل شہیدکردی جائے گی اس کے بدلے میں تھانے بلدیہ سے ٹی ڈی آرلیاجائےگاواضح رہے گزشتہ دنوں مسلم اکثریتی شہرممبراکوسہ میں اس بات سے سنسنی وہیجان پھیل گیاتھاجب یہ خبرعام ہوئی کہ تھانے بلدیہ کاانہدامی دستہ قبرستان کاکچھ حصّہ شہیدکرکے اُسے سڑک تعمیرمیں ضم کرنے جارہی ہے جسکے بعدقبرستان کے عنوان پرشہرمیں بابجاچرچہ،تذکرے ومجالس کے انعقادکالامنتہائی سلسلہ شروع ہواجسکے باوصف مقامی سرکاری انتظامیہ کی نیندحرام ہوگئی اوروہ شدومدوتذبذب کا شکار ہوکر نظم نسق وامن وامان کی باتیں کرنے لگا اس کے باوجودباشندگانِ ممبراسنگینوں کے سائے میں جینے پرمجبورہوگئے،

کوسہ قبرستان کی فصیل
لیکن آج زیرِتعمیرکوسہ قبرستان میں کوسہ جامع مسجدٹرسٹ کے زیرِاثرکوسہ سُنی قبرستان کے ٹرسٹی لیاقت ڈھولے نے نمائندہ روزنامہ ممبئی اردونیوزکوبتایا’’ دوسوسال قبل باشندگانِ کوسہ گاوں نے اپنی زمین اوراثاثے سے اس قبرستان کاآغازکیاجوفی الحال وزارتِ اوقاف کی نگرانی میں کوسہ جامع مسجدٹرسٹ کی املاک میں سے ایک ہے جسکی دیکھ بھال کوسہ سُنّی قبرستان ٹرسٹ کرتاہے،ماضی میں قلیل آبادی کےلئے یہ قبرستان نہایت کشادہ تھالیکن 92۔93 ممبئی سے آئے فسادزدگان نے ممبراکوسہ کواسقدرآبادکیاکہ آج زندوں کےلئے بھی تِل دھرنے کی جگہ نہیں ہے توقبرستان مردوں کےلئے کیونکرناکافی ناہوگا.

لیاقت ڈھولے فصیل بتاتے ہوئے
گزشتہ ۳۔۴سالوں کے دوران میّتوں کی تدفین کاسلسلہ تیزہوگیاہے اورقبرستان کثیٖرآبادی کےلئے ناکافی ثابت ہونے لگالیکن آئی ہوئی میّت کی تدفین لازمی ہوتی گئی اورمجبوراًوقت سے قبل قبرکے پلٹنے کے دوران مدفون میّت کے مسخ شدہ اعضانکلنے لگے تواُن کے لواحقین ٹرسٹ سوال کرنے لگے، جونہایت تشویشناک صورتحال اختیارکرنے لگاپھرخبرآئی کہ روڈوائڈننک میں قبرستان کاکچھ حصّہ ضم کیاجائے گا،پھریقیناًیہ قبرستان اورچھوٹاہوجائے گا،لہٰذاماضئ قریب اورحالیہ دنوں میں بھی ٹرسٹ نے عوام کوآگاہ کرتے ہوئے قبرستان مقفّل کرنے کےلئے طغرے لگادیئے اورمتبادل جگہ کامطالبہ کیاتھا،اس بارتھانے بلدیہ نے ٹرسٹ کوکوسہ ایم ایم ویلی میں قطعۂ اراضی پرقبرستان تعمیرکرکے دیاہے لہٰذااب اس قبرستان کی مرمّت وتزئین کاآغازہواہے ،فی الحال کوسہ قبرستان بندہے اورساری میّتیں کوسہ کے ایم ایم ویلی کے نئے قبرستان میں تدفین کے لئے منتقل کی جارہی ہیں عنقریب تھانے بلدیہ قبرستان میں نشاندہی کرکے کچھ حصّہ سڑک تعمیرمیں ضم کرنے والی ہے اس کے بدلے میں وہ ٹرسٹ کوٹی ڈی آربھی دے گی‘‘باشندگانِ ممبراکے مطابق تھانے بلدیہ نے روڈوائڈننگ کے نام پرپہلے بنیادی سہولیات سے محروم زندوں کوتاراج کیا، اب کیامدفون مردوں کوبھی منتقل کرے گی؟ان سوالات نے عوام کے اذہان میں ہیجان پیداکردیاہے کہ انتظامیہ جیتے جی توجینے نہیں دیتی ،اب مرنے کے بعدمرحومین کوبھی اذیت پہنچانے پرتُلی ہے،

زیر مرمت کوسہ قبرستان میں لیاقت ڈھولے
باوثوق ذرائع کے مطابق عنقریب تھانے بلدیہ روڈوائڈننگ کے نام پرممبراکوسہ کی بیشترعمارتوں اورعبادت گاہوں پربھی ہتھوڑاچلانے والی ہے اس کےلئے انتظامیہ نے ممبراکی معراج منزل کوسب سے پہلے ہدف بنانے کاارادہ کیاہے تاکہ یہ تمثیٖل پیش کرسکے کہ وکاس کی راہ میں اگرسابق میئرکا گھربھی آجائے تواُسے بھی منہدم کیا جاسکتا ہے ، عوام میں چرچاہے کہ سیاسی رقابت کے تحت مقامی رکنِ اسمبلی کے اشارے پرکمشنربلدیہ نے سابق میئرنعیم خان کاگھربھی منہدم کرنے کاحکم دیاہے جبکہ رکنِ اسمبلی کے کئی حامی اراکینِ بلدیہ وکارندے سڑک پرغیرقانونی دفاتر،دوکانیں وبنگلے بنائے بیٹھے ہیں کیاانہیں کچھ نہیں ہوگا؟