(ڈاکٹر شیخ عتیق الرحمن) ہندی اخبار اتولیہ ہندوستان میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق جاپان کے psychology اور میڈیسن میں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر پروفیسر تا سوکو ہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کورونا 19 وائرس قدرتی نہیں ہے بلکہ ایک خود ساختہ مصنوعی وائرس ہے. ان کے مطابق اگر یہ وائرس قدرتی ہوتا تو یوں دنیا میں تباہی نہیں مچا تا تھا. دنیا کے ہر ملک میں درجہ حرارت مختلف ہو تا ہے اگر یہ وائرس قدرتی ہوتا تو چین جیسے دیگر ممالک میں جہاں چین جیسا درجہ حرارت موجود ہے، وہاں تباہی مچا تا. یہ جس طرح سویزرلینڈ جیسے سرد ملک میں پھیل رہا ہے اسی طرح ریگستانی علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے. اگر یہ وائرس قدرتی ہوتا تو سرد علاقوں میں پھیلتا اور گرم علاقوں میں دم توڑ دیتا. انہوں نے کہا کہ "میں نے کئی جانداروں، جراثیم اور وائرس پر چالیس برس تک تحقیق کا کام کیا ہے. میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وائرس قدرتی نہیں ہے بلکہ ایک خود ساختہ مصنوعی وائرس ہے جو بنا یا گیا ہے. میں نے چین کے لیبارٹری ‘موں’ میں چار سال کام کیا ہے. اس لیبارٹری کے تمام اسٹاف سے میں اچھی طرح واقف ہوں. کورونا وائرس کے حادثے کے بعد میں سب ہی کو فون لگا رہا ہوں لیکن سب کے فون تین مہینے سے بند بتا رہے ہیں. اب پتہ چلا ہے کہ سارے ٹیکنیشینس کی موت ہو چکی ہے. چین جھوٹ بول رہا ہے. میری باتیں سچ ثابت ہوں گی اور اگر میری یہ باتیں غلط ثابت ہوئی تو حکومت میرا نوبل انعام مجھ سے واپس لے سکتی ہے. میں آج تک کی اپنی حاصل شدہ معلومات اور اپنی تحقیق کے بل بوتے پر یہ بات سو فیصد دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کورونا 19 وائرس قدرتی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا پھیلاؤ چمکاڈروں سے ہوا ہے بلکہ اسے چین نے بنایا ہے . اگر میری یہ بات میرے مرنے کے بعد غلط ثابت ہوئی تو حکومت میرا نوبل انعام واپس لے سکتی ہے. لیکن میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ چین جھوٹ بول رہا ہے. ایک دن ضرور سچائی سامنے آئے گی "…….. ڈاکٹر تا سوکو ہوں نے اپنے اس دعوے میں کورونا وائرس 19 کی تخلیق کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے.