کورونا کے خلاف جنگ میں اٹلی کی کوششیں رنگ لاتی ہوئیں

اٹلی میں کورونا وائرس کے سبب ہونے والی یومیہ ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اطالوی طبی حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اموات کی تعداد 431 رہی۔

– کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 1,851,531

– کووڈ انیس کے سبب عالمی سطح پر مجموعی اموات 114,290

– کووڈ انیس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 428,333

کورونا وائرس کے سبب ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار کے قریب

دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 لاکھ 51 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ کووڈ انیس کے سبب اموات کی تعداد بھی بڑھ کر ایک لاکھ 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی سطح پر اس بیماری کے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد چار لاکھ 25 ہزار کے قریب ہے۔

جرمنی میں کورونا انفیکشن سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار کے قریب ہے جبکہ یہاں اس بیماری کے سبب ہونے والی اموات تین ہزار 22 ہیں۔ جرمنی میں اس کووڈ انیس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہے۔ امریکا، اسپین، اٹلی، فرانس اور جرمنی پانچ ایسے ممالک ہیں جہاں انفرادی طور پر متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔

امریکا میں کوورونا وائرس کے سبب اموات میں مزید اضافہ

نئے کورونا وائرس کے سبب امریکا میں اموات کی تعداد بڑھ کر اب 22,108 ہو گئی ہے۔ اس وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ اس ملک میں مریضوں کی تعداد 557,571 ہے۔

موسمياتی تبديلياں

زمين کے درجہ حراست ميں اضافہ، بے لگام معاشی سرگرمياں، برف پگھلنے سے سطح سمندر ميں اضافہ، فضائی آلودگی، پلاسٹک کا بے دريغ استعمال، حياتياتی تنوع ميں کمی جيسے مسائل سے زمين کو خطرات لاحق ہيں۔ سائنسدان بارہا خبردار کر چکے ہيں کہ ان عوامل کو روکنے کے ليے وقت بہت محدود ہے۔ ايک مطالعے ميں يہ بات بھی سامنے آئی کہ انسانی سرگرمياں قدرتی ماحول کی تباہی کی ذمہ دار ہيں اور نئے نئے وائرسوں اور بيماريوں کی بھی۔

ڈگمگاتی ہوئی افغان امن ڈيل

افغانستان ميں اٹھارہ سالہ جنگ کے خاتمے کے ليے حال ہی ميں امريکا اور طالبان کے مابين ڈيل طے ہوئی۔ البتہ کبھی قيديوں کے تبادلے پر اختلاف، کبھی مختلف افغان دھڑوں ميں عدم اتفاق تو کبھی وقفے وقفے سے حملوں کے باعث اس ڈيل کا مستقبل اب بھی غير واضح دکھائی ديتا ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ افغانستان ميں دو ہزار کے قريب ’اسلامک اسٹيٹ‘ کے جنگجو بھی سرگرم ہيں، جو امن و امان کی کسی بھی اميد کو توڑنے کے ليے سرگرم ہيں۔

پاک بھارت کشيدگی اب بھی برقرار

پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت ميں کشيدگی رہی ہے۔ ان دنوں دونوں ترقی پذير ممالک کو وبا کا سامنا ہے البتہ سرحد پر صورتحال ميں اب بھی کوئی تبديلی نہيں ديکھی گئی۔ بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ مارچ ميں پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پار فائرنگ کے چار سو سے زائد واقعات ريکارڈ کيے گئے۔ پاکستان نے بھی سال رواں ميں بھارت پر سات سو سے زائد مرتبہ بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عائد کيا ہے۔

’ہميں کہيں بھول نہ جانا‘

بے يار و مددگار کشميری عوام

کشمير ميں گزشتہ برس اگست ميں کيے گئے متنازعہ بھارتی اقدامات کے بعد سے لاک ڈاؤن نافذ تھا جبکہ موجودہ وبا ميں اس پر عملدرآمد اور بھی سخت کر ديا گيا ہے۔ بندشوں کے سبب کشميری عوام کی اقتصادی کمر ويسے ہی ٹوٹی ہوئی تھی۔ کام کاج، کاروبار ہر چيز پچھلے قريب نو ماہ سے بند پڑی ہے۔ وبا سے کشميريوں کے مسائل ميں اور زيادہ اضافہ ہو رہا ہے۔

’ہميں کہيں بھول نہ جانا‘

ايران کی پہلے سے تباہ حال معيشت، مزيد گراوٹ کا شکار

سن 2015 ميں طے پانے والی جوہری ڈيل سے امريکا کی يک طرفہ عليحدگی اور پابنديوں کی بحالی کے سبب ايرانی معيشت کا پہلے ہی بيڑا غرق ہو چکا تھا کہ وبا نے اسے مزيد نقصان پہنچايا۔ ايران مشرق وسطیٰ ميں کورونا کی وبا سے سب سے زيادہ متاثرہ ملک ہے۔ سپريم ليڈر آيت اللہ علی خامنہ ای امريکی مدد ٹھکرا چکے ہيں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر امريکا مدد کرنا ہی چاہتا ہے، تو پابندياں اٹھائے، جسے امريکی صدر مسترد کر چکے ہيں۔

’ہميں کہيں بھول نہ جانا‘

روہنگيا مہاجرين کا بحران، آج بھی حل طلب

بنگلہ ديشی حکام نے اپريل کے اوائل ميں کوکس بازار ميں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر ديا۔ اس ضلعے ميں لگ بھگ ايک ملين روہنگيا مہاجرين پناہ ليے ہوئے ہيں۔ روہنگيا مہاجرين ميانمار ميں فوج کے مبينہ تشدد سے فرار ہو کر بنگلہ ديش پہنچے تھے۔ اقوام متحدہ کئی رپورٹوں ميں ميانمار ميں کيے گئے اقدامات کا موازنہ ’نسل کشی‘ سے کر چکی ہے۔ اس معاملے پر عالمی فوجداری عدالت ميں کيس بھی جاری ہے۔

’ہميں کہيں بھول نہ جانا‘

يمنی جنگ کے متاثرين لاکھوں

اقوام متحدہ يمن کے بحران کو موجود وقت کا ’بد ترين انسانی الميہ‘ قرار دے چکی ہے۔ پانچ برس سے زائد عرصے سے جاری يمنی جنگ ميں ايک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں جبکہ بے گھر ہونے والوں اور قحط کے خطرے سے دوچار افراد کی تعداد کئی ملين ميں ہے۔ سعودی عسکری اتحاد نے اپريل کے اوائل ميں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کيا تاہم يہ بدحالی کے خاتمے کے ليے ناکافی ہے۔

’ہميں کہيں بھول نہ جانا‘

شامی مسلح تنازعہ آج بھی جاری

شام ميں سن 2011 سے چلی آ رہی خانہ جنگی اب بھی ختم نہيں ہوئی ہے۔ ان دنوں صوبہ ادلب شامی و روسی جنگی طياروں کی بمباری کی زد ميں ہے۔ ابھی پچھلے ہی دنوں صدر بشار الاسد کی افواج پر ماضی میں ایک واقعے میں کيميائی ہتھياروں کے استعمال کا الزام بھی پھر سے لگايا گيا۔ اقوام متحدہ شامی جنگ کے تمام فريقين پر انسانی حقوق کی سنگين خلاف ورزيوں کا الزام عائد کر چکی ہے۔

’ہميں کہيں بھول نہ جانا‘

يورپ کو درپيش مہاجرين کا بحران

سن 2015 ميں مشرق وسطیٰ و شمالی افريقہ سے ايک ملين سے زائد پناہ گزينوں کی يورپ آمد کے تناظر ميں شروع ہونے والا بحران ايک طرح سے آج بھی جاری ہے۔ لاکھوں مہاجرين ترکی، لبنان، اردن اور يورپ کے مختلف ملکوں ميں مہاجر کيمپوں ميں گزر بسر کر رہے ہيں۔ ان میں سب سے برا حال يونانی جزائر پر موجود کيمپوں کا ہے، جن ميں پہلے ہی سے گنجائش سے کہيں زيادہ مہاجرين آباد تھے۔ وبا سے ان افراد کو شديد خطرات لاحق ہيں۔

امریکا میں سب سے زیادہ اموات ریاست نیویارک میں ہوئی ہیں جن کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے۔کورونا وائرس کے بارے میں اعداد وشمار مرتب کرنے والی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکا میں اب تک 28 لاکھ سے زائد افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading