کورونا وائرس کو ایک عالمی وبا قرار دیا جا چکا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔لیکن ایک نیا وائرس، جو صرف کچھ ماہ قبل رونما ہوا، سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی کیا ہے؟اس حوالے سے چین کے کچھ اقدامات سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چین کے صوبے ہوبائی سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا لیکن اب وہاں حالات کچھ حد تک قابو میں لگ رہے ہیں۔
چین اپنے شہریوں کی زندگیوں پر گہری نظر رکھتا ہے اور اس نے اپنے وسائل تیزی سے استعمال کیے ہیں۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 10 روز میں تعمیر ہونے والا ہسپتال بھی قابلِ ذکر ہے۔
چین میں ریاستی کنٹرول زیادہ ہے اور یہ دیگر ملکوں سے مختلف ہے۔ تو کیا باقی دنیا چین کی حکمت عملی کی پیروی کر سکتی ہے؟
کیا مشکل وقت گزر گیا؟
10 مارچ کو صدر شی جن پنگ نے چین کے اس علاقے کا دورہ کیا جو کورونا وائرس کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ خیال ہے کہ اس دورے سے چین کے سب سے طاقتور شخص نے یہ نشاندہی کی ہے کہ بد ترین قومی ایمرجنسی ختم ہو چکی ہے۔
وبا کے آغاز سے چینی حکومت نے لوگوں کی صحت سے متعلق بے مثال اقدامات کیے۔ انھوں نے پورا ہوبائی صوبہ بند کر دیا اور عارضی صحت کے مراکز قائم کیے تاکہ مریضوں کا جلد از جلد علاج ممکن ہو سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے نئے مریضوں میں کمی آئی ہے اور اب ہر روز صرف چند نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔
اس کے مقابلے باقی دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دو ہفتوں میں چین سے باہر کیسز 13 گنا بڑھ گئے ہیں۔ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ انھیں ’اقدامات نہ ہونے پر بہت تشویش ہے‘ جبکہ ڈبلیو ایچ او نے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور سخت اقدامات لیں۔تو کیا چین کے ماڈل سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے؟
سخت اقدامات
نیو یارک میں خارجی تعلقات کی کونسل میں عالمی صحت پر کام کرنے والے یان جونگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چین کی حکمت عملی دیگر ممالک میں اپنانا مکمن نہیں ہو سکے گی۔’آج کے دور میں کچھ ممالک، چاہے جمہوری ہوں یا غیر جمہوری، سماجی سطح پر اتنی باریکی سے نظر رکھ سکتے ہیں۔ یہ کوئی تعریف نہیں۔ ایسا کرنے سے ریاست کی جانب سے سماجی اور انسانی نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔‘
’ہو سکتا ہے کہ کچھ جمہوری رہنما چین کی حکمت عملی کی پیروی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں لیکن ان کے پاس ایسا کرنے کی طاقت اور اختیار نہیں ہے۔‘
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مغربی معاشرے، جہاں انفرادی آزادی پر زور دیا جاتا ہے، میں شہریوں کی نقل و حرکت روکی جا سکتی ہے تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ جیسا چین نے کیا تھا۔امریکہ نے برطانیہ کے علاوہ تمام ملکوں سے ہوائی سفر پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن کچھ حلقوں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کی ہے کہ وہ ملک میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سنجیدہ نہیں.
مائکرو بیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر روبرٹو بُریانی کہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے آمریت کی ضرورت نہیں ہے۔
یورپ میں اٹلی نے باقی براعظم کے مقابلے سب سے سخت لاک ڈاؤن اپنایا ہے جس میں چھ کروڑ کی آبادی کی نقل و حرکت روک دی گئی ہے۔ تمام دکانیں بند ہیں لیکن کھانے پینے کی دکانیں اور دواخانے کھلے ہیں۔
لوگوں کے ایک جگہ اکٹھے ہونے پر پابندی ہے اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ سفر کرنے والے کسی بھی شخص کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ساتھ دستاویزات رکھے جس میں سفر کی وجوہات بیان کی گئی ہوں۔ سکولز اور یونیورسٹیاں بند ہیں۔
ڈاکٹر روبرٹو بُریانی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’حقیقت میں آمریت آ گئی ہے۔ وائرس ظلم کر رہا ہے اور اس نے گلے لگنا، بوسہ دینا، دوستوں کے ساتھ کھانا پینا، کنسرٹ، (شام کے تھیٹر) لاسکالا کو بند کروا دیا ہے۔ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ فتح کا دن خوبصورت ہو گا۔‘
’بات رفتار کی ہے‘
عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر بروس ایلورڈ کہتے ہیں کہ کسی ملک کے ردعمل کا انحصار اس بات پر نہیں کہ وہاں جمہوریت ہے یا آمریت۔
ڈاکٹر بروس کہتے ہیں کہ دنیا نے چین کے تجربے سے صحیح سبق نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہوبائی صوبے میں عالمی ادارہ صحت کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی سربراہی کی تھی۔
بہ شکریہ:بی بی سی اردو ڈاٹ کام