کورونا وائرس: عدم تحفظ، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کے شکار افراد کی کونسلنگ سیشن کے انتظامات کرنے کا حکومت کا فیصلہ

6db08d76f51346b49a40e08839d704ff_18کلکتہ 6/مئی (یواین آئی)ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے نفاذ نے شہریوں کوگھروں میں بند اور محدود سرگرمیوں تک محدود کردیا ہے اس کی وجہ سے ڈپریشن اور ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر مغربی بنگال محکمہ صحت نے تناؤ، ڈپریشن اور ذہنی طور پرپریشان افراد کی کونسلنگ سیشن کے آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پہلے مرحلے میں 25مارچ سے سے 14اپریل تک یعنی 21دن تک لاک ڈاؤن نافذ رہا۔اس کے بعد 19دنوں کیلئے 3مئی تک لاک ڈاؤن نافذ رہا اور اب 4مئی سے مزید 14دنوں کیلئے لاک ڈاؤن میں توسیع کردی گئی ہے۔قومی داراسلطنت دہلی، ممبئی اور کلکتہ سمیت ملک کے 130اضلاع کو ریڈزون ک طور پر شناحت کی گئی ہے۔


محکمہ صحت کے سینئر آفیسر نے کہا کہ اسپتال اور قرنطینہ سنٹر میں داخل کورونا وائرس کے مریضوں کی فیزیکل کونسلنگ کی جارہی تھی مگر اب ہر ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے شکار ہر ایک شخص کے کونسلنگ کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہفتے کے ساتوں دن صبح 11بجے سے شام 5بجے تک یہ سروس موجود رہے گی۔محکمہ صحت کے افسر نے کہا کہ ہیلپ لائن نمبر پر فون کرکے کونسلنگ کیلئے وقت لے سکتے ہیں۔کلکتہ کے ایک سرکاری اسپتال میں فیزیکولوجسٹ ڈاکٹر کستوری ٹھاکرنے کہا ہے کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے معاشرتی اورنفسیاتی رویے کو متاثر کیا ہے۔انفرادی طورپر ذہنی اضطراب اور تناؤ پیدا کرنے کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس بھی لوگوں میں ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تناؤ مختلف شکلوں میں ظاہر ہورہا ہے۔ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے شکار افراد کورونا وائرس سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرکے مزید پریشان ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو نفسیاتی بحران اور ڈپریشن سے نکالنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔کونسلنگ کی مد د سے خوف اور تناؤ کے شکار لوگوں کی مدد کی جاسکتی ہے اور انہیں جذباتی افراط و تفریط سے نکالاجاسکتا ہے۔


مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے تمام میڈیکل آفیسروں کو ہدایت دی ہے کہ تمام اضلاع میں قرنطینہ سنٹر میں میڈیکل کونسلنگ کے انتظامات کئے جائیں۔مرکزی وزرات صحت وخاندانی فلاح بہبود نے بھی کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر مریض یا پھر اس سے شفایاب ہونے والے افراد ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں۔مرکزی وزارت صحت نے اس کیلئے گائیڈ لائن بھی جاری کیا تھا کہ کس طرح ذہنی تناؤ سے نکلتا جاسکتا ہے۔کلکتہ کے ایک اسپتال جہاں اس وقت کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج چل رہا ہے کہ کے سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ کورونا کے مریضوں میں ذہنی تواز ن قائم کرنے کیلئے اس وقت یہاں دو سائیکلوجسٹ اور دو سائیکٹرکسٹ کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صرف مریضوں کا علاج نہیں کررہے ہیں بلکہ نرس اور ڈاکٹروں کی بھی کونسلنگ کررہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ تماڈ اکٹروں، طبی عملہ اور نرسوں کو نفسیاتی ماہرین کے فون نمبر مہیا کئے گئے ہیں۔تاکہ ان سے فون پر رابطہ کرکے اپنا علاج کراسکتے ہیں۔
ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ قرنطینہ سنٹر میں 14دن گزارنے کے بعد کئی افراد ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کے شکار ہوجارہے ہیں۔اس کی وجہ سے بہت سے لوگ کھانے اور دوا لینے سے انکار کردیتے ہیں۔کچھ مریض ڈاکٹروں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہیں اور کچھ مریض مکمل طور پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ایس ایس کے ایم میڈیکل کالج و اسپتال کے انسی ٹیوٹ آف سائیکٹرک کے پروفیسر امیت کمار بھٹاچاریہ نے کہا کہ کورونا وائرس کے بہت سے مریض یہاں تک کہ ان کا علاج کررہے ڈاکٹراور نرس بھی عدم تحفظ کے احساس میں مبتلاہونے کی وجہ سے ذہنی تناؤ کے شکار ہوجاتے ہیں۔ماہر نفسیات ان سے بات چیت کرکے ا ن کے ذہنی تناؤ کو کم کرسکتے ہیں۔ٹیلی فون کے ذریعہ کونسلنگ بہتر ین آپش ہے۔اس سے معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading