کنوٹ :29مئی(اکرم چوہان)تعمیراتی مقام پر مستری کا کام کرنے والے مسلم نوجوان کے قتل کے بعد کل یہاں حالات کشیدہ ہوگئے تھے دریں اثناءآج پرسکون ماحول میں پولیس کے سختبندوبست میں دوپہر 12 بجے کنوٹ کے قبرستان میں نوجوان کی تدفین عمل میں آئی۔اس سے پہلے مرحوم وسیم کا پوسٹ مارٹم رات میں 11 بجے کے قریب سرکاری دواخانے کنوٹ میں کیا گیا ا±سکے بعد نعش رشتے داروں کے حوالے کی گئی ،
قتل کی رات ہی ضلع ایس پی کرشنا کوکاٹے نے مرحوم کے گھر انکے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور پولیس محکمہ کی جانب سے ہر ممکن مدد دینے کا وعدہ کیا۔وہیں مقتول کے بھائی مبین قریشی کی شکایت پر ملزم ا±تم بھرنے کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقتول کے رشتے داروں کا الزام ہے کہ اس قتل میں اور بھی لوگ ملوث ہو سکتے ہیں اسکی بھی چھان بین کر ا±ن سبھی کے خلاف بھی کیس درج کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔
اسی اثناءمیں ملزم نے اپنے ہی پڑوس کی ایک خاتون وشاکھا منیشور پر بھی اسی ہتھیار سے حملہ کیا تھا،جسکی علاج کے دوران تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے اسپتا ل میں موت ہوئی ہے ۔وہیں کل وسیم کی نعش کے ساتھ احتجاج کرنے پر کچھ مسلم نوجوانوں پر بھی کیس درج کئے جانے کی چرچہ شہر میںچل رہی ہے۔