"کند ذہن بچے”- از: معزالرحمان، ناندیڑ

دسویں جماعت کے مایوس کن نتائج پر ذمہ دار کون؟ اس پر مسلسل تبصرے آرہے ہیں۔
ایک دوست جو پڑوسی ضلع میں ہائی اسکول کے صدر مدرس ہیں، میری سابقہ پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

"حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی مثال اچھی لگی، اساتذہ اس وقت سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہیں ۔۔۔ان کوابھی صرف آگ کے جوتے پہنائے گئے ہیں ۔۔ حالانکہ وہ اس سے زیادہ کے مستحق ہیں ۔۔یہ آگ کے جوتے کند ذہن بچے اور بے فکر والدین ہیں۔”

تب سے میں سوچ رہا ہوں:
۱۔ بچے کند ذہن کیوں ہوجاتے ہیں؟
۲۔ اور والدین آخر اتنے بے فکر کیوں ہوتے جارہے ہیں؟

اسکول کی تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے بچے کند ذہن بچے کہلاتے ہیں۔ انہیں عام زبان میں ‘ڈنڈ بچے’ کہتے ہیں۔ انکے ‘ڈنڈ’ بننے میں تین اہم عناصر کارفرما ہوتے ہیں؛
اسکول، گھر، اور محلے کا ماحول۔

بچے ڈنڈ کیوں ہوتے ہیں؟؟

▪اسکول ریگولر نا آنے کی وجہ سے ذہین بچے بھی ڈنڈ ہوجاتے ہیں۔ حاضری میں بے قاعدگی کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور بچہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ ریگولر نا آنے کی بڑی وجہ بچے کی صحت کی خرابی ہے۔ اسکے علاوہ ماں یا باپ بیمار ہو اور غربت یا کسی اور وجہ سے مناسب علاج معالجہ نہیں ہوپارہا ہو تو بچہ اسکول ریگولر نہیں آپاتا، اس مسئلہ کا حل یہ ہیکہ حفظان صحت اور صحت عامہ سے متعلق بیداری پیدا کی جائے۔

▪غربت ایک بدترین معاشرتی لعنت ہے، ایسا گھر جہاں ماں سوکھی روٹی کیلئے تگ و دو کررہی ہو اور باپ بے روزگاری کا مارا ہو اس نیم فاقہ زدہ گھر کا بچہ عجیب تلملاہٹ میں مبتلا ہوتا ہے اور یہ بے قرارای عموماً علمی سرگرمیوں میں روکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسے بچے اسکول میں نڈھال اور سست رہتے ہیں، ان میں سیکھنے کا وہ تجسس جوش، جذبہ اور ولولہ پیدا ہو ہی نہیں ہوسکتا جو علم و ہنر سیکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔

▪بد اخلاق والدین:
بچے کو ڈنڈ بنانے میں گھر کے ماحول کا بہت دخل ہے۔ گھر میں احساس ذمہ داری کا فقدان ہو۔ اور والدین بے جا لاڈ پیار کرتے ہوں اور بچوں کی غلط حرکتوں پر سزا دینے کے بجائے خوش ہوتے ہوں ایسے بچے بگڑ جاتے ہیں اور اسکول نظام میں بھی بگاڑ پہدا کرتے ہیں۔

▪سلم بستیوں کا ماحول:
بچے کو ڈنڈ بنانے میں محلے اور گلی کے ماحول کا بھی دخل ہے، بچہ جب گھر سے باہر نکلتا ہے تو بے کار اور بے فکرے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے اس طرح اسکول میں سیکھے ہوئے تھوڑے بہت اخلاق و آداب اور تعلیم پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس کا حل یہ ہیکہ نوجوانوں کو بے کار رہنے نا دیا جائے انہیں اسپورٹس میں مصروف کی جانا چاہئے۔

کابک نما اسکول اور ڈنڈ بچے:
ممکن ہے اسکول کا سسٹم اتنا ناقص ہو کے بچہ تعلیم سے محبت کے بجائے نفرت کرنے لگے۔ کند ذہن بچے بہت ساری مشکلات کے باوجود جب اسکول پہنچتے ہیں تو تنگ تاریک کمروں والے کبوتر کے کابک نما اسکول انہیں قید خانہ نظر آتے ہیں۔ ایسے اسکول جس میں کچرا پڑا ہو کھیل کا میدان نا ہو اور ہوا کی آمد و رفت کا مناسب انتظام نا ہو گھٹن پیدا کرتے ہیں۔ اور بچے اس ماحول سے تنگ آکر اسکول سے "ڈمہ” مارنا شروع کردیتے ہیں۔ خصوصاً C سیکشن کے بچے جس میں کند ذہن بچے چن چن کر جمع کئے جاتے ہیں احساس محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے بچوں کا اسکول سے کھسک جانا بالکل قدرتی بات ہے۔

دقیانوسی اساتذہ اور کند ذہن بچے:

اکثر اساتذہ بچوں کو آج بھی پرانے فرسودہ طریقہ سے تعلیم دے رہے ہیں۔ اکثر اساتذہ بے انتہا خشک انداز میں پڑھاتے ہیں۔بات بات پر جھڑکی دیتے ہیں اور کبھی کبھی بری طرح پیٹ بھی دیتے ہیں۔ ذہین اوسط اور کند ذہن سبھی طلباء کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکتے ہیں نرمی سے سمجھانے کے بجائے درشت لب و لہجہ استعمال کرنے کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔ استاد کے ایسے رویہ سے کند ذہن بچوں کو اسکول سے فرار ہونے کی ایک اور وجہ مل جاتی ہے۔
آج ہمیں ایسے مشفق اساتذہ کی ضرورت ہے جو پڑھانے کے نفسیاتی اصولوں سے واقف ہوں۔ جنہیں انسانی طبیعتوں میں اختلاف کا اچھا خاصہ علم ہو، جو اپنے طلباء میں تعلیم بیزاری کے آثار ابتداء ہی میں بھانپ لیں اور اپنے طریق تعلیم کے نقائص کی مناسب اصلاح کریں۔ درس کیلئے نئے نئے انداز اپنائیں اور اسکول کو گوناگوں دلچسپ سرگرمیوں سے لبریز کردیں، اور بچوں کو اسکول کھیل کا میدان محسوس ہو۔

علاج:
1۔کند ذہن بچے disable نہیں بلکہ differently able ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کی مدد کی جانی چاہئے۔ انکو الگ انداز سے پڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں اعتماد میں لے کر کچھ اضافی ذمہ داریاں دی جانی چاہئے۔ آج کل اسمارٹ فون عام ہیں اساتذہ کلاس میں بچوں کے تین چار گروپ بناکر یو ٹیوب پر موجود ویڈیوز کے ذریعہ سبق سیکھنے میں انکی مدد کرسکتے ہیں۔ اس طرح ٹکنالوجی کا مثبت استعمال بھی سیکھیں گے اور اسباق بھی ذہن نشین ہو جائیں گے۔

2۔ محلے کے ذہین اور سمجھدار بچوں کو کند ذہن بچوں کے ساتھ جمع کرکے ایک چھوٹا سا کلب بنادینا چاہئے۔ اسٹڈی سرکل، اور ہلکے پھلکے کلچرل پروگرامس کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔

3۔ محلے میں "ایجوکیشنل کلینک” قائم کئے جائیں جس میں تعلیم سے متعلق ہر پریشانی کا علاج کیا جاسکے، عام تعلیمی رہنمائی، نفسیاتی مسائل کا حل، جنرل موٹیویشن اور اسکے علاوہ فاونڈیشن اور کچھ مضامین کو سمجھنے کیلئے اسٹڈی سرکل وغیرہ کا انتظام ہونا چاہئے۔

4۔اساتذہ کیلئے خصوصی سائیکالوجیکل ٹریننگ کا انتظام کیا جانا چاہئے۔ اصل میں اساتذہ خود چاہتے ہیں کہ کند ذہن بچوں کو صحیح ڈگر پر لائیں لیکن وہ اسکی ٹیکنکس نہیں جانتے، معمولی ٹریننگ سے یہ خامی دور ہوسکتی ہے۔ اس کا انتظام ہر اسکول میں ہونا چاہئے۔

قوم کو گھٹیا درجے کے افراد کی بہتات سے نجات دلانے کیلئے اس قسم کے تعمیری اقدام اٹھائے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اس تعلیمی جہاد میں ہم سب کی شرکت اور تعاون ضروری ہے۔

(اس مضمون کے بعض نکات کی تیاری میں "بچوں کی نفیسات اس کتاب سے ا ستفادہ کیا گیا۔ کتاب کی پی ڈی ایف حاصل کرنے کیلئے کمینٹ کریں۔)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading