20 دسمبر 2019 (جمعہ) کی صبح پولس اہلکاروں کے درمیان زبردست ہلچل دیکھنے کو مل رہی تھی۔ پولس کے جوان تمام اسلحوں اور وسائل سے مزین نظر آ رہے تھے۔ اس طرح کی ہلچل اس سے پہلے صرف انتخاب یا کرفیو کے دوران دیکھنے کو ملتی تھی۔ پولس لاٹھی، بندوق اور دوسرے ساز و سامان کے ساتھ چاق و چوبند نظر آ رہی تھی۔ کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار۔ مظفر نگر میں چائے کی دکان چلانے والے نعیم احمد بتاتے ہیں کہ ایسی ہلچل انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی جنگ کی تیاری ہو۔ عجیب سا خوف فضا میں تیر رہا تھا۔
جمعہ کے روز تمام مساجد کے باہر ایک پولس ٹیم صبح سے ہی تعینات ہو گئی تھی۔ سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین کی سگبگاہٹ کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے ساتھ ہوئی بربریت کے بعد لوگوں میں غصہ تھا۔ خصوصاً ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقہ مسلمانوں میں بے چینی تھی۔ یہ بے چینی کچھ سچ اور کچھ جھوٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔
دوپہر میں ایک بجے سے دو بجے کے درمیان ہونے والی نماز کے بعد لاکھوں لوگ پوری ریاست میں سڑکوں پر آ گئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ علی گڑھ، میرٹھ، بجنور، فیروز آباد، وارانسی، کانپور، رام پور، مظفر نگر، سنبھل اور لکھنؤ میں تو حالات بہت خراب ہو گئے۔ یہاں بھیڑ بے قابو ہو گئی اور پولس سے تصادم میں 23 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ان سبھی شہروں میں انٹرنیٹ کی خدمات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ہزاروں کے خلاف مقدمے درج ہوئے۔ سینکڑوں کو جیل بھیج دیا گیا۔
بے قابو حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 20 دسمبر کو 21 لوگوں کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔ علاوہ ازیں ایک کی موت پتھر لگنے سے اور ایک کی موت بھگدڑی کی وجہ سے ہو گئی تھی۔ گویا کہ 20 دسمبر کو پیدا تشدد کے سبب مجموعی طور پر 23 لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ پولس کا کہنا تھا کہ انھوں نے مظاہرین کے مشتعل ہو جانے کے بعد انھیں قابو میں کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ یہ الگ بات تھی کہ مرنے والوں کا اہل خانہ پولس کی گولی سے ان کے ہلاک ہونے کی بات کہہ رہا تھا۔ پولس کی طرف سے دیے گئے بیان کے مطابق فسادیوں کی ہی گولی سے ان لوگوں کی موت ہو گئی۔ عجیب بات یہ تھی کہ جن 21 لوگوں کی موت گولی لگنے سے ہوئی، ان میں 19 کو گولی سینے کی اونچائی سے اوپر کی طرف لگی تھی۔ صرف سنبھل کے محمد شہروز اور لکھنؤ کے محمد وکیل کے پیٹ میں گولی لگی تھی۔
بجنور کے نہٹور میں پولس کی گولی لگنے سے ہلاک 20 سال کا محمد سلیمان (پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق ہوئی) یو پی ایس سی کی تیاری کر رہا تھا۔ اس کے پڑوسی جہانگیر کے مطابق وہ دودھ لینے گھر سے باہر آیا تھا اور سینے میں گولی لگنے سے اس کی موت ہو گئی۔ نہٹور میں ایک اور نوجوان انس کی گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔ محمد سلیمان کے والد زاہد حسین بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹے کا قتل کانسٹیبل موہت کمار نے کیا تھا۔ بیلسٹک جانچ میں اس کی تصدیق بھی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس وقت کے ایس پی نے بتایا کہ موہت نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔ آج بھی مجھے لگتا ہے کہ سلیمان زندہ ہے اور پڑھائی کر رہا ہے۔ مگر میں نے اس کے جنازے کو کندھا دیا ہے اور وہ بہت بھاری تھا۔ مجھے اس کا بوجھ اب تک محسوس ہوتا ہے۔‘‘
بجنور میں مجموعی طور پر 5 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ میرٹھ میں 6 (ایک کا بعد میں علاج کے دوران انتقال ہوا)، فیروز آباد میں 4، مظفر نگر میں 1، وارانسی میں 2، سنبھل میں 2، کانپور میں 2 اور رام پور و لکھنؤ میں 1-1 شخص کی موت ہوئی تھی۔ وارانسی میں 8 سال کا بچہ محمد صغیر بھگدڑ میں کچل کر مر گیا تھا، جب کہ فیروز آباد کے راشد کو پتھر سے چوٹ لگی تھی۔
مظفر نگر کے نور محمد کی موت کے بعد جو جانچ ہوئی تو پتہ چلا کہ اسے لائسنسی ریوالور کی گولی لگی تھی۔ ضلع مجسٹریٹ نے اس کی مجسٹریٹ جانچ بھی کروائی، لیکن قاتل کا پتہ نہیں چل سکا۔ میرٹھ میں 75 سال کے منشی نے اپنا 42 سالہ بیٹا کھو دیا۔ 60 سال کی نسیمہ نے اپنا 22 سال کا پوتا کھو دیا۔ اب ایک سال بعد بھی انصاف تو بہت دور کی بات ہے، یہ تک صاف نہیں ہو پایا ہے کہ ان کی موت ہوئی کیسے۔ میرٹھ میں مظاہرہ کے دوران ہلاک ہوئے محسن کے بھائی عمران کہتے ہیں ’’میرے بھائی کو سیاسی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، لیکن سیاست نے ہی اس کی جان لے لی۔‘‘(بہ شکریہ قومی آواز)