تقریباً دو ہفتے پہلے نارتھ کوریا کی فوج نے کم جونگ ان کے حکم پر سرحد پر واقع ساؤتھ کوریا سے بات چیت کیلئے بنائے گئے مشترکہ آفس کو بم سے اڑا دیا تھا ۔ اب انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی کوریا نے کم جونگ ان کی اہلیہ کی قابل اعتراض تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل کی تھیں اور غبارے کے ذریعہ ان تصویروں کو نارتھ کوریا کی سرحد میں بھی گرایا تھا ، جس کی وجہ سے کم جونگ بھڑک گئے تھے اور انہوں نے آفس کو ہی بم سے اڑا دیا ۔

بتادیں کہ یہ آفس نارتھ کوریا کی سرحد پر واقع کایسونگ شہر میں تھا ۔ شمالی کوریااور جنوبی کوریا کے درمیان شروع ہوئی لیف لیٹ وار انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ سرحد پر جنوبی کوریا کے ذریعہ شمالی کوریا کی مخالفت میں جو پرچے گرائے جارہے ہیں ، اب ان میں تانا شاہ کم جونگ ان کی بیوی کے خلاف قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہاں تک کہ ان کی قابل اعتراض تصاویر بھی تقسیم کی جارہی ہیں ۔ شمالی کورنا میں واقع روسی سفارت خانہ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے ۔ روسی سفیر کے مطابق ان غباروں کے ذریعہ کم جونگ ان کی بیوی کی گندی تصویریں نارتھ کوریا کی سرحد میں گرائی جارہی تھیں ۔

غور طلب ہے کہ شمالی کوریا گزشتہ کچھ وقت سے الزام لگا رہا ہے کہ جنوبی کوریا کم جونگ ان کے خلاف مہم کے تحت سرحد پر غباروں کے ذریعہ پرچے گرا رہا ہے تاکہ ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا جاسکے ۔ ناراض شمالی کوریا نے اپنے پڑوسی ملک کو فوجی کارروائی کی بھی دھمکی دی ہے ۔ ساتھ ہی سرحد پر لاؤڈ اسپیکر پھر سے لگائے جارہے ہیں ۔

روسی سفیر نے نیوز ایجنسی ٹی ایس ایس کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ان پرچوں میں کم جونگ ان کی اہلیہ کے خلاف قابل اعتراض ور گندی زبان کا استعمال کیا گیا ۔ ساتھ ہی تصاویر کو انتہائی گھٹیا طریقہ لگایا گیا ۔ حالانکہ سفیر نے شمالی کوریا کے تانا شاہ کی بہن کے اقتدار سنبھالنے سے وابستہ خبروں کو افواہ بتایا ۔