کفر کی یاترا ہے ذرا شان سے نکلے

ایک میسیج چند دنوں سے سوشل میڈیا پر گردش میں ہے جس میں 18جنوری سے 22فروری 2024 تک بذریعہ ٹرین سفرکرنے سے حفظ ماتقدم کے طور پر احتیاط کرنے کا مشورہ دیا گیا‌ہے‌.

وجہ اعظم یہ بتائی گئی کہ 22جنوری کو ایودھیا میں حرام مندر کا افتتاح ہے کفر اور کافروں کی شان سے مرعوب ہوکر ان دنوں میں مسلمان گھروں میں محبوس رہیں اور بابری مسجد کی شہادت کا کسک ہوتو بند کمرے میں زیر چارپائی نعرہ لگائیں اور بطور علم اپنے شلوار کو کفر اور طاغوت کے ڈر سے فضاء میں لہرائیں ؛

استغفراللہ ایسی فراست ایمانی پر سینکڑوں مرتبہ استغفراللہ کس طرح آج امت مسلمہ کو مصلحت و دور اندیشی کے نام پر بزدلی اور کم ہمتی کا درس دیا جارہا ہے صاحب تحریر مجہول ہیں تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ ایک سازش ہے آرایس ایس اور اس کے چیلوں سے ہیبت زدہ ہوکر یہ میسیج مسلمانوں میں مایوسی ، قنوطیت اور کفر کی طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کرانے کیلئے یہ پیغام عام کیا جارہاہے اور ہم مسلمان بھی لاشعوری میں اس سازش کا حصہ بن رہے ہیں

افسوس کہ آج ہند میں کفر کے متوالے جے شری رام کے‌نعرے لگا‌کر شان سے پھل پھول رہا ہے اور ہم اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر بھی بزدل بنے جارہے ہیں جبکہ ہماری تاریخ شجاعت و بہادری عزم و استقلال اور اولو العزم شخصیات سے معمور ہے رسول اللہ نے بزدلی سے پناہ مانگنے کےلیے امت کو اللہم انی اعوذبک من الجبن والبخل سکھایا ہے.

کافروں کے لئے ننگی تلوار سیف اللہ حضرت خالد بن ولید ، عمر ، عمرو بن العاص، طارق بن زیاد ،موسی بن نصیر، سلطان صلاح الدیں، حضرت ابوعبیدہ جیسے بہادر جفاکش جانباز مجاہد کے وارث ہوکر بھی مصلحت کے نام پر بزدلی کا چادر اوڑھ رہے ہیں اور قوم کو بزدلی کا درس دے رہے جبکہ اسلام میں میں بزدلی اور کم ہمتی یا بے ہمتی کی کوئی گنجائش نھیں ہے اللہ تعالیٰ نے کامیابی کو ایمان کے ساتھ ساتھ شجاعت و استقلال میں مقدر کیا ہے ولاتھنوا ولا تحزنوا الخ.

جہاد کی مشروعیت ہی کفر کی کمر توڑنے اور بت پرستی کی شان توڑکر اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ہے جب بھی کفر اپنی شان اور کفار تکبر و غرور کے کے نشے میں مست ہوکر راہ اسلام میں حائل ہوا تو رسول اللہ نے اور آپ کے فدائیوں نے بڑھ کر ان کا استقبال کیا مزاحمت کی اور کفر کو دھول چٹادی بدرو حنین غزوۂ ذات الرقاع کا مطالعہ کریں پژمردہ اور مضمحل شدہ ایمان سرسبز شاداب ہوجائے گا
جس قوم کی نبی نے کفر اور طاغوت کی کسر شان کیلیے 27غزوات اور 47 سرایا ازخود کیئے ہوں بعدازاں صحابہ نے جو معرکے سرکیے وہ تاریخ اسلامی کا زریں باب ہے
جس قوم کا نعرہ ہو نحن الذین بایعوا محمدا – علی الجھاد مابقینا ابدا
جس قوم کو جب کفار نے لاغری کا طعنہ دیا تو کفار کے دنداں شکن جواب دینے کے لئے طواف میں رمل جیسی سنت جاری کرکے کفار کو مرعوب کردیا افسوس آج وہ قوم میدان کارزار کی تاب لانے کے بجائے جنگ کی تصور سے شلوار گیلے ہوجاتے ہیں حکمت و مصلحت کے نام پر بزدلی کم ہمتی مایوسی کا درس دیا جارہا ہے ہند کے حالات کو مکہ کے حالات سے موازنہ کرکے امت کو حکمت عملی کےنام پر کفر کے رنگ میں رنگنے کی دعوت خود اس قوم کی تنظیمیں ، قائدین اسی قوم کے پیسے سے انجام دے رہی ہے.

مسلمانوں کو خدا کے سوا کسی قوم کسی لیڈر کسی شخص سے ڈر نے کی قطعاً اجازت نھیں ہے جنوری سے فروری تک سینۂ سپر ہوکر حسب معمول مسلمانوں کو اپنے کام کرنا چاہئے تاکہ کفر کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے اور مسلمانوں کے ہلکے پن کا احساس نہ ہو ایسے وقت میں کرنے کا کام یہ ہے کہ حکومت ہند اور انتظامیہ مسلمانوں اور دیگر اقلیت کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اس کے لئے ابھی سے سوشل اور سماجی تنظیموں کو تگ ودو کرنا چاہئے اس بات کی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے نہ کہ اس طرح کی مایوسی و بزدلی بھرا پیغام یہ تو ایک سازش ہے.

کیا ہند میں اقلیت میں صرف مسلمان ہیں ؟ نھیں تو دیگر اقوام میں جب ہراس نھیں ہے تو سب سے بڑی اقلیت توحید پرست قوم کو بھی نھیں ڈرنا چاہیئے یہ میسیج مسلمانوں کو ڈرانے اور کفر کا خوف غالب کرنے کے لئے ایک مہم ہے منصوبہ بند طریقے سے راشٹریہ مسلم منچ اور اس ذہنیت کے حامل زرخرید علماء مزید مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی سعی پیہم کررہے ہیں لھذا اس طرح کی پوسٹ سے اعراض کیجئے ارسال و ترسیل سے یقینی طور پر احتیاط کریں
اللہ تعالیٰ عقل سلیم‌عطافرماۓ
دین پر چلنا آسان فرمائے آمین

منقول:عبدالقادر امروہہ

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading