جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد
نئی دہلی: حکومت نے جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا بل جموں کشمیر تشکیل نو بل 2019 پیر کے روز راجیہ سبھا میں پیش کیا اس سے لداخ کو الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے ایوان میں اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ لداخ کے لوگوں کا برسوں سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ اسے الگ ریاست کا درجہ دیا جائے۔ اس کے پیش نظر لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا درجہ دیا جائے گا لیکن اس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ داخلہ سیکورٹی اور سرحد پار دہشت گردی کے پیش نظر جموں و کشمیر بھی مرکز کے زیر انتظام ریاست ہوگا لیکن اس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔
اس پر کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، پی ڈی پی اور عام آدمی پارٹی کے ارکان نے ایوان میں زبردست ہنگامہ شروع کر دیا اور ایوان کے بيچوں بيچ پہنچ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ اس دوران ایوان نے صوتی ووٹ سے ان بلوں کو بحث کے لئے قبول کر لیا۔ اس دوران ہنگامہ کر نے والے ارکان ایوان میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد کی قیادت میں نعرے لگاتے ہوئے چیئرمین کی نشست کے پاس بیٹھ گئے۔ پی ڈی پی کے میر محمد فیاض نے غصے میں آکر اپنا کرتہ پھاڑ لیا جس سے ایوان میں عجیب غريب صورتحال پیدا ہو گئی۔
لداخ سے بی جے پی ایم پی جمیا تسیرنگ نے حکومت کے فیصلے کا کیا خیر مقدم
لداخ سے بی جے پی کے رہنما جميا تسیرنگ نامگيال نے کہا، ’’میں لداخ کے عوام کی جانب سے بل کا خیر مقدم کرتا ہوں، وہاں کے لوگ چاہتے تھے کہ لداخ کا علاقہ مرکز تحت رہے، لداخ کے لوگ چاہتے تھے کہ اس علاقے کو کشمیر کے غلبہ اور امتیازی سلوک سے آزاد کیا جائے، جو آج ہو رہا ہے‘‘۔
Jamyang Tsering Namgyal, BJP MP from Ladakh: I welcome the Bill on behalf of everyone in Ladakh. People there wanted the region to be a Union Territory. People in Ladakh wanted that the region be freed from the dominance & discrimination of Kashmir, that is happening today. pic.twitter.com/02LiyBlEa3
— ANI (@ANI) August 5, 2019
آرٹیکل 370: بی جے پی کو ملی بی ایس پی کی حمایت
جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے لئے بی ایس پی نے بی جے پی کو اپنی حمایت دے دی ہے، بی ایس پی کے رہنما ستیش چندر مشرا نے راجیہ سبھا میں کہا، ’’ہماری پارٹی مکمل حمایت دیتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بل منظور ہو، ہماری پارٹی دفعہ 370 اور دیگر بل کی کوئی مخالفت نہیں کر رہی ہے‘‘۔
Satish Chandra Mishra, BSP MP, in Rajya Sabha: Our party gives complete support. We want that the Bill be passed. Our party is not expressing any opposition to Article 370 Bill & the other Bill. pic.twitter.com/ajRNKwsUlf
— ANI (@ANI) August 5, 2019
آرٹیکل 370: پارلیمنٹ کے احاطے میں پی ڈی پی ارکان کا ہنگامہ
PDP's RS MPs Nazir Ahmad Laway&MM Fayaz protest in Parliament premises after resolution revoking Article 370 from J&K moved by HM in Rajya Sabha; The 2 PDP MPs were asked to go out of the House after they attempted to tear the constitution. MM Fayaz also tore his kurta in protest pic.twitter.com/BtalUZMNCo
— ANI (@ANI) August 5, 2019
مودی حکومت نے آج جمہوریت کا کیا قتل
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کشمیر کے تعلق سے حکومت کے فیصلہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حقیقت میں جمہوریت کا قتل ہے۔
GN Azad,Cong: I strongly condemn the act of 2-3 MPs(PDP's Mir Fayaz and Nazir Ahmed Laway who attempted to tear constitution). We stand by the constitution of India. Hum Hindustan ke samvidhaan ki raksha ke liye jaan ki baazi laga denge, but today BJP has murdered constitution pic.twitter.com/wtswg0s7dK
— ANI (@ANI) August 5, 2019
جمو کشمیر اور لداخ دو یونئن ٹیریٹری بنانے کا اعلان
HM Amit Shah: Jammu and Kashmir to be a union territory with legislature and Ladakh to be union territory without legislature pic.twitter.com/nsEL5Lr15h
— ANI (@ANI) August 5, 2019
آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی صدر جمہوریہ کی منظوری
وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں جہاں یہ اعلان کیا کہ آڑٹیکل 370 ختم کر دیا گیا ہے وہیں یہ بھی اعلان کیا کہ لداخ کو جمو و کشمیر سے الگ کر دیا گیا ہے اور دونوں کو یونئن ٹریٹری بنا دیا گیا ہے جبکہ لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی اس کے برعکس جمو و کشمیر میں اسمبلی ہوگی لیکن لیفٹیننٹ گورنر وہاں کے اصل حکمراں ہوں گے۔
راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ کا بڑا اعلان، آرٹیکل 370 جموں و کشمیر سے ہٹانے کی سفارش
راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ نے بڑا اعلان کیا ہے، انہوں نے آرٹیکل 370 جموں و کشمیر سے ہٹانے کی سفارش کر دی ہے، ایوان میں زوردار ہنگامہ ہو رہا ہے۔
This is it. @IndianExpress pic.twitter.com/v6TvAeNFIV
— Liz Mathew (@MathewLiz) August 5, 2019
Uproar in Rajya Sabha after resolution revoking Article 370 from J&K moved by Home Minister Amit Shah. pic.twitter.com/pR7UQ5QACu
— ANI (@ANI) August 5, 2019
کابینہ میٹنگ میں جموں و کشمیر پر بات چیت، شاہ دیں گے پارلیمنٹ میں بیان
نئی دہلی: مرکزی کابینہ کی پیر کی صبح ہونے والی میٹنگ میں جموں و کشمیر کے سلسلہ میں بات چیت کی گئی۔ سمجھا جاتا ہے کہ میٹنگ میں وہاں کے بارے میں کچھ اہم فیصلے لئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی میٹنگ کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی معلومات نہیں مل پائی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ سیشن کی وجہ سے وزیر داخلہ امت شاہ پہلے پارلیمنٹ میں اس سلسلہ میں بیان دیں گے۔ وہ پہلے راجیہ سبھا میں اور پھر لوک سبھا میں اپنی طرف سے بیان دیں گے۔
کشمیر معاملے پر راجیہ سبھا میں 11 بجے، لوک سبھا میں 12 بجے بیان دیں گے وزیر داخلہ
وزیر داخلہ امت شاہ راجيہ سبھا میں 11 بجے اور لوک سبھا میں 12 بجے کشمیر میں چل رہی ہل چل پر جواب دیں گے، خبروں کے مطابق کشمیر مدے پر پارلیمنٹ کو تازہ حالات کے بارے میں معلومات دیں گے، اس دوران پی ایم مودی کے گھر چل رہی مرکزی کابینہ کا اجلاس ختم ہوگیا ہے۔
کابینہ کا اجلاس ختم، امت شاہ پہنچے پارلیمنٹ
Delhi: Union Home Minister Amit Shah arrives at the Parliament. He will speak in Rajya Sabha at 11 am and in Lok Sabha at 12 pm today. pic.twitter.com/odN52wDLIa
— ANI (@ANI) August 5, 2019
جموں و کشمیر: لیہہ میں آج عام طور پر کھلے اسکول
Jammu & Kashmir: Schools reopened normally today in Leh, classes resuming in colleges and other educational institutions too. pic.twitter.com/ETqKa1hEwo
— ANI (@ANI) August 5, 2019
کشمیر مدے پر کانگریس کا لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس
کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں نے کشمیر کے مدے پر لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مدا انتہائی سنگین ہے اس لئے ایوان میں سب کارروائی کو ملتوی کر کے اس پر بحث ہونی چاہئے ۔
Congress MPs Adhir Ranjan Chowdhury, K Suresh and Manish
Tewari have given Adjournment Motion notice in Lok Sabha, over Kashmir issue. (file pics) pic.twitter.com/ny51FSlwNN— ANI (@ANI) August 5, 2019
کانگریس ارکان نے راجیہ سبھا میں بھی تحریک التوا کا نوٹس دیا
Congress MPs Ghulam Nabi Azad, Anand Sharma, Ambika Soni, and Bhubaneswar Kalita have given Adjournment Motion notice in Rajya Sabha, over Kashmir issue. (File pics) pic.twitter.com/4ybwQiii9V
— ANI (@ANI) August 5, 2019
کابینہ کا اجلاس تھوڑی دیر میں، اجلاس سے پہلے مودی کے گھر پہنچے شاہ
مرکزی کابینہ میں شرکت کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی کے گھر پہنچ گئے ہیں ۔ وزیر اعظم کے گھر پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ کابینہ کے اجلاس سے قبل امت شاہ، وزیر قانون روی شنکر پرساد اور سیکریٹری داخلہ راجیو گابا اور داخلہ کے کئی اہم افسران کا ایک اجلاس ہوا۔ کابینہ کا اجلاس اب سے تھوڑی دیر میں ہونے ولا ہے ۔
Delhi: Union Cabinet to meet today at 9.30 am, at 7 Lok Kalyan Marg (in pic). pic.twitter.com/9eLHcMW8tc
— ANI (@ANI) August 5, 2019
رہنماؤں کی نظر بندی تمام جمہوری تقاضوں کے منافی: چدامبرم
ملک کے کئی بڑے سیاسی رہنماؤں نے کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ پی چدامبرم نے ٹویٹ کر کے کہا ہے ’’رہنماؤں کی نظر بندی تمام جمہوری تقاضوں کے منافی ہے‘‘۔
The house arrest of J&K leaders is a signal that the government will defy all democratic norms and principles to achieve its objects. I condemn the house arrests.
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) August 5, 2019
Before the day is over we will know if there will be a major crisis in J&K. Keeping my fingers crossed.
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) August 5, 2019
I had warned of a misadventure in J&K. It seems the government is determined to embark upon one.
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) August 5, 2019
ادھر ششی تہرور اور سیتا رام یچوری نے عمر عبد اللہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔
You are not alone @OmarAbdullah. Every Indian democrat will stand with the decent mainstream leaders in Kashmir as you face up to whatever the government has in store for our country. Parliament is still in session & our voices will not be stilled. @INCIndia https://t.co/QqGa4EgrP3
— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) August 4, 2019
What is going on in J&K? Why would leaders be arrested overnight while having done no wrong? If Kashmiris are our citizens &their leaders our partners, surely the mainstream ones must be kept on board while we act against terrorists & separatists? If we alienate them, who’s left?
— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) August 4, 2019
What is going on in Jammu & Kashmir? https://t.co/m6mhuHzbeM
— Sitaram Yechury (@SitaramYechury) August 4, 2019
کشمیر میں حالات تشویش ناک، کئی بڑے کشمیری رہنما نظر بند، انٹرنیٹ بند
جمو و کشمیر کے تعلق سے ملنے والی خبروں کے بعد صوتحال تناو سے بھری ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کچھ ویبسائٹس پر یہ خبر چل رہی ہے کہ کشمیر کے بڑے سیاسی رہنما جن میں سابق وزراء اعلی عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں ان کو نظر بند کر دیا گیا ہے ۔ عمر عبداللہ کے ٹویٹ سے بھی یہی ظاہر ہو رہا ہے ۔
Hope those who accused us of rumour mongering realise that our fears weren’t misplaced. Leaders under house arrest, broadband services suspended & section 144 enforced isn’t normal by any standard.
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) August 4, 2019
I believe I’m being placed under house arrest from midnight tonight & the process has already started for other mainstream leaders. No way of knowing if this is true but if it is then I’ll see all of you on the other side of whatever is in store. Allah save us ??
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) August 4, 2019
To the people of Kashmir, we don’t know what is in store for us but I am a firm believer that what ever Almighty Allah has planned it is always for the better, we may not see it now but we must never doubt his ways. Good luck to everyone, stay safe & above all PLEASE STAY CALM.
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) August 4, 2019
عوام میں اب یہ تشویش ہے کہ جمو کشمیر میں اچانک حالات ایسے کیوں ہو رہے ہیں ۔ ادھر خبر ہے کہ ریاست میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ہیں اور اسکول و کالج جانے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
