کشمیر: پابندیوں کے شکار بچوں کا سہارا ٹیوشن سنٹر

سری نگر۔انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہر روز سینکڑوں بچے چرار شریف کے ایک ٹیوشن سنٹر میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔اس ٹیوشن سنٹر کو چند مقامی نوجوانوں نے قائم کیا ہے اور وہ رضاکارانہ طور پر اس میں پڑھا رہے ہیں۔

دسویں کلاس کے انظار حسین چند ہفتوں سے اس ٹیوشن سینٹر میں تعلیم حاصل کرنے آ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ‘پانچ اگست کو جو بھی ہوا، ہمیں نہیں معلوم کہ آگے کیا کرنا ہے۔ رابطے کے تمام ذرا‏ئع بند کردیے گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھا دی گئی تھی۔ ہم باہر نہیں جاسکتے تھے۔ ہر جمعے کو پتھراؤ ہوتا تھا۔ اسی دوران ہمارے ٹیچر عرفان احمد نے اس ٹیوشن سینٹر کے بارے میں بتایا۔ یہ ٹیوشن سینٹر شہر سے تھوڑی دور تھا۔ لیکن ہمیں یہاں آنا محفوظ لگا۔’

‘جب سے میں نے یہاں تعلیم حاصل کرنا شروع کیا ہے مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس ٹیوشن سے پہلے میں گھر بیٹھا تھا اور مایوس تھا۔ میں سوچتا تھا کہ میں ایک بوجھ بن گیا ہوں۔ ہم یہاں آتے ہیں تاکہ ہم اپنے سلیبس (کورس) کو ختم کرسکیں۔’

انظار حسین کہتے ہیں: ‘میری طرح دوسرے طلبہ پر بھی بہت دباؤ ہے۔ اگر میں اس ٹیوشن سنٹر میں نہیں آتا تو میرے لیے سلیبس ختم کرنا مشکل تھا۔ میں اس کے لیے عرفان سر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔’

مستقبل پر اثر پڑے گا:انظار نے بتایا کہ ان کے استاد عرفان احمد اسی شہر میں رہتے ہیں اور اس ٹیوشن کے بارے میں انھوں نے گھر گھر جا کر مطلع کیا تھا۔

انظار نے کہا: ‘جو کچھ بھی کشمیر میں ہورہا ہے اس کا براہ راست اثر ہمارے مستقبل پر پڑے گا۔ اگر ہڑتالوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو ہم اپنے امتحانات کس طرح دیں گے۔ اگر ہم امتحان نہیں دے پائے تو ہمارے سکول کا ایک سال ضائع ہوجائے گا۔’

پانچ اگست سنہ 2019 کو حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت والے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔اس وقت سے کشمیر میں مواصلات کی سہولیات متاثر ہیں، کرفیو اور پابندیاں عائد ہیں اور سکول، کالج اور دکانیں بند ہیں۔جموں و کشمیر سے خصوصی حیثیت واپس لینے کے بعد اسے جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی خطوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔اس سے قبل لداخ کا علاقہ جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading