نئی دہلی:یومِ جمہوریہ کے موقعہ پر دہلی میں تشدد اور لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے ایک دن بعد مرکزی وزیر پرہلاد پٹیل نے لال قلعہ پہنچ کر یہاں ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ میں گزشتہ روز کے واقعہ پر اجلاس جاری ہے۔ سی آر پی ایف ڈی جی بدھ کی صبح وزارت داخلہ پہنچے جہاں وہ داخلہ سکریٹری اجے بھلا کو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
Video:दिल्ली के लाल क़िले में किसानों ने पुलिस को खूब भगाया
👇👇👇👇👇👇👇
گزشتہ روز ہوئے تشدد پر دہلی پولیس لگاتار کارروائی کر رہی ہے اور ایف آئی آر درج کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوپہر ڈھائی بجے دہلی پولیس کی جانب سے ایک پریس کانفرس کر کے مکمل معلومات فراہم کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کل ہوئے تشدد میں 300 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے والوں کو انجام بھگتنا ہوگا، راکیش ٹکیت
یومِ جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں ہونے والے تشدد پر بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا، ’’ناخواندہ لوگ ٹریکٹر چلا رہے تھے، انہیں دہلی کے راستوں کا پتا نہیں تھا۔ انتظامیہ نے انہیں دہلی کی طرف جانے کا راستہ بتایا۔ وہ دہلی گئے اور گھر لوٹ آئے۔ ان میں سے کچھ لوگ انجانے میں لال قلعہ کی جانب چلے گئے۔ پولیس نے انہیں واپس لوٹ جانے کی ہدایت دی۔‘‘
ٹکیت نے کہا، ’’جن لوگوں نے تشدد کیا اور لال قلعہ پر جھنڈا لہرایا انہیں اپنے اقدامات کے لئے نجام بھگتنا ہوگا۔ گزشتہ دو مہینوں سے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ یہ تحریک سکھوں کی نہیں بلکہ تمام کسانوں کی ہے۔