کانگریس واین سی پی نیز دیگراتحادی پارٹیوں کا مشترکہ انتخابی منشور جاری
ممبئی:(ور ق تازہ نیوز) کانگریس واین سی پی نیز دیگراتحادی پارٹیوں کے مشترکہ انتخابی منشورکا آج یہاں اجراءہوا جس میں ریاست کے کسانوں کی مکمل قرض معافی، بیروزگاروں کو ماہانہ 5 ہزار روپئے بیروزگاری وظیفہ، نئی کمنیوں وصنعتوں میں ریاست کے لوگوں کو80 فیصد ملازمت، معیاری تعلیم، اعلیٰ طبی سہولیات، منصوبہ بند طریقے سے شہروں کی تعمیر، دیہی علاقوں کے لئے سہولیات، ماحولیات کا تحفظ،زراعت وصنعتوں کے فروغ جیسے کئی اہم موضوعات کو روبہ عمل لانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
’شپتھ نامہ‘ کے نام سے جاری اس انتخابی منشور کا اجراءیشونت راو¿ پرتسٹھان میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرایم ایل اے بالاصاحب تھورات، راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر ایم ایل اے جینت پاٹل واس اتحاد میں شامل دیگر پارٹیوں کے لیڈران وان کے نمائندوں کے ہاتھوں ہوا۔اس انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ریاست کی معاشی صورت حال بد سے بدتر ہوچکی ہے۔
مہاراشٹر کی معیشت 13فیصد سے گر کر 10.4تک آگئی ہے۔ جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں 16ہزار کسانوں نے خودکشی کی ہے، بیروزگاری کی صورت حال اس قدر تشویشناک ہے کہ 32 ہزار خالی جگہوں کے لئے 32 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ مہاراشٹرکے محصول میں 11فیصد کی کمی آئی ہے نیز ٹیکس کی وصولیابی میں 8.25فیصد کی کمی آئی ہے۔ 2016 میں ہوئے جرائم کی رپورٹ 2017میں شائع کی گئی جس میں 2016میں خواتین سے متعلق جرائم کے 31ہزار275 ہوئے ہیں جبکہ بچیوں کے ساتھ ہوئے جرائم کے 13ہزار591 کیسیس درج ہوئے ہیں۔ انتخابی منشور میں یہ حقائق پیش کرتے ہوئے سابقہ کانگریس واین سی پی حکومت کے 15سالہ دور کو ’اول مہاراشٹر، ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ کے ٹیگ لائن کا استعمال کرتے اسے عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس انتخابی منشور میں فوری طور پر عمل کئے جانے کے موضوعات کے زمرے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ کانگریس واین سی پی ودیگر اتحادی پارٹیوں کی حکومت آنے کے بعد کسانوں کے مکمل قرضہ جات کو فوری طور پر معاف کیا جائے گا۔ جو نوجوان بیروزگار ہیں انہیں ماہانہ 5 ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ دیا جائے گا۔ کے جی ٹو پی جی تک مفت تعلیم دینے کی سمت میں پہلے مرحلے میں سرکاری وحکومتی امداد حاصل کرنے والے کالجوں میں تمام طلبہ گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے صفر فیصد کے شرحِ سودپر تعلیمی قرض فراہم کیا جائے گا۔ ریاست کا ہر شخص کو ہیلتھ انشورنش کے دائرے میں لایا جائے گا۔ مزدوروں کی بنیادی تنخواہ 21ہزار روپئے کی جائے گی۔ ریاست کے تمام کارپوریشن کی حد میں 400 مربع فٹ کے گھروں کا ٹیکس معاف کیا جائے گا۔ نئی صنعتوں میں ریاست کے باشندوں کو 80 فیصد ملازمت دی جائے گی اور انسانی ترقی کا ریشو بلند کیا جائے گا، ماحولیات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کئے جانے جیسے موضوعات شامل ہیں۔اس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدربالا صاحب تھورات نے کہا کہ مہاراشٹر کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ہم پابند عہد ہیں۔ ہم جو کرسکتے ہیں وہ اس’ شپتھ پتر‘ میں موجود ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مہاراشٹر کی عوام اس انتخابی منشور کا استقبال کرے گی اور ایک بار پھر کانگریس وراشٹروادی کانگریس واس کی دیگر اتحادی پارٹیوں کی حکومت کو منتخب کرے گی۔ جبکہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہا کہ ہم نے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے ہیں، وہ سو فیصد پورا کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں ریاست کی عوام کشمیر میں آرٹیکل 370جیسے موضوعات پر توجہ نہیں دیتے ہوئے ریاست کے مسائل پر ووٹنگ کرے گی۔ انتخابی منشور کے اس اجراءکے موقع پر این سی پی کی ممبرپارلیمنٹ سوپریا سولے، سابق وزیر واین سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک، سابق وزیر وکانگریس کے ایم ایل اے نسیم خان، ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ، انتخابی منشور کمیٹی کی صدر ممبرپارلیمنٹ وندنا چوہان، بہوجن ریپبلک سوشلسٹ پارٹی کے صدرسریش مانے، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت سمیت اتحادی پارٹیوں کے لیڈران ونمائندے موجود تھے۔