ممبئی: (ورق تازہ نیوز)اس سال 27اکتوبرکو مہاراشٹر کی عوام دیوالی منائے گی اور بی جے پی وشیوسینا کا دیوالیہ نکلے گا۔ یہ بات آج یہاں چاندیولی اسمبلی حلقے سے کانگریس کے امیدوار موجودہ ایم ایل اے نسیم خان نے کانگریس واین سی پی کے مشترکہ انتخابی منشور کے اجراءکے موقع پر کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا انتخابی منشور ایک حلف نامہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم حکومت بنانے کے بعد ان وعدوں کو ضرور بالضرور پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی منشور میں عظیم اتحادنے ریاست کے کسانوں کی قرض معافی کے علاوہ نوجوانوں کو روزگار دینے کے کئی وعدے کئے ہیں۔
ہم لوگوں نے 500 مربع فٹ کے مکان پر پراپرٹی ٹیکس معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ضرورت مند طلبہ کی فیس معاف کرنے کے علاوہ انہیں 10لاکھ لیپ ٹاپ دینے کا بھی ہم نے وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم یافتہ وہنرمند بیرزگاروں کو ہر ماہ 5ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ وملازمتوں میں 80فیصد مقامی نوجوانوں کو ریزرویشن دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو ریزرویشن دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف مقامی لوگوں کو ہی ملازمت دی جائے گی بلکہ کسی بھی ریاست سے آنے والا شخص جس کے پاس مہاراشٹر کا ڈومیسائل سرٹیفکٹ ہے، وہ بھی مقامی تسلیم کیاجائے گا اور اسے بھی ملازمت کے ریزرویشن شامل کیا جائے گا۔
اس 51صفحات کے منشور میں کانگریس وراشٹروادی ودیگر اتحادی پارٹیوں نے ماحولیات کے تحفظ کے لئے قانون بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ اس قانون کے آنے کے بعد گوریگاو¿ں کے آرے کالونی جیسے ریاست کے کئی جنگلاتی علاقوں کا تحفظ کیا جاسکے گا۔ نسیم خان نے مزید کہا کہ پانچ سال قبل بی جے پی نے لوگوں سے بلیٹ ٹرین، میٹرو ٹرین، ٹرانس ہاربر سی لنک، سمردھی مہامارگ جیسے کئی پروجیکٹ کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان میں سے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔ اس کے باوجود بی جے پی منگیری لال کے حسین سپنے کی طرح پھر سے حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 21اکتوبر کو ممبئی سمیت ریاست کی تمام عوام بی جے پی وشیوسینا کو سبق سکھانے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے پاکستان ورام جنم بھومی جیسے جذباتی موضوعات اٹھارہی ہے، لیکن وہ اپنے منصوبے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ بی جے پی وشیوسینا نے عوام سے جھوٹے وعدے کرکے انہیں صرف اورصرف دھوکہ دیا ہے۔ نسیم خان نے اس بات سے انکار کیا کہ پارٹی کے اندر کسی بھی طرح کا خلفشار یا گروہ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی بڑی پارٹی ہے، اس وجہ سے کچھ اختلاف رائے ہوسکتا ہے، لیکن کانگریس کی خاصیت ہے کہ جب بھی مخالف پارٹیوں سے ہماری لڑائی ہوتی ہے، ہم سب متحد ہوکر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔