پینٹاگون جھوٹ بول رہا ہے، امریکہ کو جنگ میں 100 ارب ڈالر کا نقصان: ایران

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے محکمہ دفاع پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کے اخراجات کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس جنگ پر آنے والی اصل لاگت کو کم ظاہر کر رہا ہے، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

سید عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک اس جنگ نے امریکہ کو براہ راست 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، جو پینٹاگون کے سرکاری دعوؤں سے تقریباً 4 گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف براہ راست اخراجات ہیں، جبکہ بالواسطہ نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں، جنہیں عام طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کا بوجھ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ عام امریکی شہری بھی اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ عراقچی کے مطابق ہر امریکی گھرانہ اس جنگ کی وجہ سے ماہانہ تقریباً 500 ڈالر کا اضافی مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے اور یہ رقم تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خارجہ پالیسی کے فیصلوں کا براہ راست اثر عوام کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس تناظر میں اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ دراصل ایسے فیصلوں کا نتیجہ ہے جن میں امریکہ کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض فیصلے ایسے ہیں جن سے امریکہ کو نقصان جبکہ دیگر کو فائدہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے حال ہی میں کانگریس کے سامنے پیش ہو کر اس جنگ کے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق اب تک امریکہ کو تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں۔ اس رقم میں زیادہ تر حصہ جنگی سازوسامان اور اسلحہ پر خرچ ہوا ہے۔

تاہم اس سرکاری تخمینے میں کئی اہم پہلو شامل نہیں کیے گئے، جن میں مشرق وسطیٰ میں متاثرہ فوجی اڈوں کی مرمت اور تعمیر نو کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ان عوامل کو بھی شامل کیا جائے تو اصل لاگت کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگی اخراجات کا اندازہ لگانا ہمیشہ ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے، کیونکہ اس میں صرف فوری مالی لاگت ہی نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی اثرات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس میں فوجی اخراجات، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی منڈیوں پر اثرات اور داخلی معاشی دباؤ جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading