سوال: کیا صحیح سالم مسلمانوں کے لئے کرونا وائرس کے ڈر سے جماعت اور جمعہ کا چھوڑ دینا جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق
پہلی بات:اللہ کے راستے میں جہاد کرتے وقت دشمن کی طرف سے خوف کی صورت میں جماعت ساقط نہیں ہوتی ہے تو بیماری کے وہم کے ڈر کے سبب سے کیسے جماعت ساقط ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة فلتقم طائفة منهم معك، (اے نبی جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں اور آپ ان کے لیے نماز قائم کریں تو چاہیے کہ ان میں سے ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو)
دوسری بات:وباؤں اور بیماریوں کا سبب حقیقی گناہ اور معاصی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم (اور جو بھی پریشانی تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اعمال کی وجہ سے پہنچتی ہے) دوسری جگہ ارشاد ہے، ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون (خرابی پھیل گئی خشکی میں اور پانی میں لوگوں کے اعمال کی وجہ سے، تاکہ اللہ ان کو چکھائے ان کے اعمال کا کچھ مزہ تاکہ وہ راہ راست پر لوٹ آئیں) کیا اللہ تبارک وتعالی نے واضح نہیں فرمادیا کہ علاج اللہ کی طرف رجوع کرنے، توبہ کرنے، استغفار کرنے، نماز پڑھنے، تلاوت کرنے اور دعا کرنے میں ہے، اور ان وباؤں اور بیماریوں کا علاج جمعہ اور جماعت جیسی واجب چیزوں کو ترک کرنے میں نہیں ہے،
تیسری بات:اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے، ما أصاب من مصيبة في الأرض ولا في أنفسكم إلا في كتاب من قبل أن نبرأها ( نہیں پہنچتی ہے کوئی آفت زمین میں اور تمہاری جانوں میں مگر وہ لکھی ہوئی ہوتی ہے لوح محفوظ میں اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں دنیا میں) دوسری جگہ ارشاد ہے، قل لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا (آپ کہہ دیجئے کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچتی ہے سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لئے مقدر کردی) ایک جگہ ارشاد ہے، قل لو كنتم في بيوتكم لبرز الذي كتب عليهم القتل إلى مضاجعهم (اور اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو یقینا باہر نکل کر اپنی قتل گاہوں کی طرف آتے وہ لوگ جن کا مارا جانا لکھا جا چکا تھا) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، واعلم أن الأمة لواجتمعت على أن ينفعوك لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك ولو اجتمعوا على أن يضروك لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رواه أحمد والترمذي وقال حسن صحيح (جان لو کہ اگر ساری امت اتفاق کر لے اس بات پر کہ وہ تجھ کو کچھ نفع پہنچائیں تو وہ تجھ کو نفع نہیں پہنچا سکتے مگر اسی چیز کا جو اللہ نے تیرے نفع کے لیے لکھ دی، اور اگر وہ اتفاق کرلیں تجھ کو نقصان پہنچانے پر تو وہ تجھ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اسی چیز کا جو اللہ نے تیرے نقصان کے لیے لکھ دی)
لہذا ہمارا ایمان اللہ کے فیصلے اور تقدیر پر ہے، اور ہمارا بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہے، تو کیا ہمارا یہ ایمان اور توکل بیماری وغیرہ کے ڈر سے نماز جمعہ اور جماعت جیسی واجب چیزوں کو چھوڑنے سے ہمیں نہیں روکتا،
چوتھی بات:کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ارشادات نہیں فرمائے ہیں کہ ایسی سرزمین میں داخل ہونا جائز نہیں ہیں جہاں طاعون پھیلا ہوا ہو اور ایسی سرزمین سے نکلنا جائز نہیں ہے جہاں طاعون ہو، کیا اس ارشاد میں جماعت کی نماز کو ترک کرنے کا ذکر ہے؟
پانچویں بات:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں طاعون کی بیماری پھیلی، انہوں نے اس سلسلے میں انصار کے ساتھ مشورہ کیا، پھر مہاجرین کے ساتھ مشورہ کیا، پھر بقیہ مسلمانوں کے ساتھ مشورہ کیا، تو کیا ان حضرات نے اس مہلک بیماری کی وجہ سے باہمی مشورے سے جمعہ کی نماز اور جماعت کو ختم کردیا تھا؟
چھٹی بات:اللہ تعالی کا ارشاد ہے، واستعينوا بالصبر والصلاة (اور مدد چاہو صبر اور نماز کے ذریعے) تو کیا مدد طلب کرنا مسجد میں نماز قائم کرنے سے ہوگا جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے یا جمعہ اور جماعتوں کو چھوڑنے سے مدد طلب ہوگی؟
ساتویں بات:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: من صلى الصبح في جماعة فهو في ذمة الله (جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی تو وہ اللہ کے ذمہ میں ہے) کیا یہ بات ہم کو کافی نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ذمہ میں ہیں؟ أليس الله بكاف عبده (کیا اللہ اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے)
آٹھویں بات:مدینہ ایسی جگہ تھی جہاں بہت سے موذی کیڑے مکوڑے اور درندے وغیرہ رہتے تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا حضرات کے لئے مددگار نہ ہونے کی صورت میں بھی جماعت سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی تو صحیح سالم حضرات کے لئے صرف بیماری کے ڈر سے جماعت میں شریک نہ ہونے کی کیسے اجازت ہو سکتی ہے؟
نویں بات:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی پریشانی پیش آتی تو آپ فورا نماز کی طرف سبقت کرتے، تو آج جبکہ ہم پر کرونا وائرس جیسی بیماری آپڑی ہے تو کیا ہم اس سنت نبوی کی مخالفت کرتے ہوئے جمعہ اور جماعتوں کو چھوڑ دیں؟
دسویں بات:ہر اسلامی شہر میں ایک جامع مسجد رہی ہے، جس میں سب لوگ ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے اور بہت سی مرتبہ مسلمانوں میں طاعون جیسی بیماری اور وبائیں بھی پھیلی ہیں، تو کیا پوری اسلامی تاریخ میں علمائے مسلمین میں سے کسی ایک نے بھی وباء اور طاعون جیسی مہلک بیماریوں کے پھیلنے کی وجہ سے مساجد کو بند کرنے کا فتویٰ دیا؟
کتبہ: شیخ احمد الکوری الموریتانی
ترجمہ: مفتی محمد قاسم اوجھاری.٢٠ رجب المرجب ١٤٤١ھ، بروز پیر