ممبئی:۱۵؍مارچ(یواین آئی)کروناوائرس کےخوف سے ایک جانب جہاں مہاراشٹرحکومت نے سنیماگھروں،تعلیمی اداروں اوردیگر۳۱؍مارچ تک کابندرکھے جانے کےاحکامات جاری کئے ہیں وہی ممبئی کے سرخ بتی والے علاقے کماٹی پورہ اورپلےہاؤس میں بھی اس کاخاصااثردیکھائی پڑا۔اوران بازارحسن سے گاہک نداردتھے اسی طرح سے اتوارکے دن بھی ممبئی کی تفریح گاہوں میں جشن کاماحول دیکھلائی پڑتا تھاآج یہ تفریح گاہیں سنسان نظرآرہی تھی اورجیسے ایک اجڑے ہوئے باغ کاسماں پیش کررہی تھی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سنیچرکی رات سے اوراتوارکی صبح سے ممبئی کےبازارحسن میں گاہکوں کاتانتابندھارہتاہےشہرمیں رہائش پذیرخاص طورسے مزدورپیشہ افراد جس میں شمالی ہندکی باشندے اورمغربی بنگال کے باشندوں کی اکثریت ہے انہیں ان بازاروں میں عام طورسےرات کے اندھیرے میں بھی رنگین عینک پہن کر سلمان خان اورشاہ رخ خان کی طرح گھومتے اورموج مستی کرتے دیکھاجاتاتھالیکن آج بروزاتوار شہر کےان بازارحسن میں کوئی چہل پہل نہیں دیکھلائی پڑی،اورکئی ایک کمرشیل سیکس ورکرکوبھی اپنے گاہکوں کاانتظارکرتے ہوئے دیکھاگیا۔کماٹی پورہ کی ایک جسم فروش خاتون رینو(نام تبدیل کیاگیا)نےبتایاکہ اتوارکادن ان کی کمائی کادن ہوتاتھالیکن ممبئی میں کروناوائرس کے خوف سے گاہک نہیں کےبرابرہیں۔
کچھ یہی حال ممبئی کی تفرح گاہوں کابھی رہاجہاں عام طورپرچھٹی یااتوارکےروزکافی بھیڑدیکھائی پڑتی تھی آج یہ تفریح گاہیں بھی کروناوائرس کےخوف سے خالی دیکھائی پڑی۔
شہرکےسیاحتی مقامات جیسے گیٹ وےآف انڈیا،نریمان پوائنٹ،چوپاٹی،باندرہ بینڈاسٹینڈ،جوہوچوپاٹی اوردیگرمقامات پرایسالگ رہاتھاکہ جیسے شہرمیں کرفیونافذہوگیاہو۔
گیٹ وےآف انڈیاسے ایک بڑی تعدادمیں ممبئی شہر کےسیرکے لئے آئے بیرونی شہر وریاست کے افراد کشتیوں کاسفراتوارکےدن ہی زیادہ تعدادمیں کرتے ہیں لیکن آج کشتیاں ساحل سمندرکے پاس کھڑی دیکھلائی پڑی اور سیاح غائب نظرآئے۔
ممبئی کے ہوٹلوں،شراب خانوں اوردیگرمیں بھی چھٹی کےایام میں گاہکوں کااژدہام دیکھنے ملتاتھالیکن شہریوں کےدل میں خوفناک بیماری کےخوف سےیہ ادارے بھی گاہکوں کےمنتظرتھے لیکن ممبئی واسیوں نے اپنے گھروں میں رہنے پرہی اکتفاکیا۔کئی ایک تفرح گاہوں پرجولوگ نظرآئیں وہ ماسک پہنے ہوئے تھے اورہاتھوں میں انکے سنیٹائزربھی دیکھلائی پڑے۔
پولس نے ان تفرح گاہوں پراپناپہرہ بھی رکھاتھا جوشہریوں کو تفرح گاہیں چھوڑکرگھروں پرجانےکی تلقین کرتےدیکھلائی دیئے۔
(یواین آئی ۔الف الف الف