سماجی وبا : از:معزالرحمان، ناندیڑ

اسکول، کالج، شادی خانے اور پروگرامس سب پر پابندی عائد ہے ایسے میں سب سے اچھا کام ہے۔۔۔۔کتابیں پڑھنا!!
میں اپنے دوستوں کو میلکم گلیڈویل کی کتاب *’ٹپنگ پوائنٹ’* پڑھنے کا مشورہ دونگا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہیکہ چارچیزیں "وائرس” کی طرح پھیلتی ہیں۔

۱۔نظریہ یا آئیڈیا
۲۔مصنوعات یا فیشن
۳۔پیغامات یا میسیج
۴۔انسانی رویہ
جس طرح بیماری کے وائرس وبا کی مانند پھیلتے اسی طرح یہ چاروں چیزیں بھی وبا کی شکل میں پھیلتی ہیں۔ مصنف نے اسے "سماجی وبا” social epidemics کا نام دیا ہے۔

▪ہمارے ملک میں ایک سماجی رویہ ہے نفرت کا جسے ہم فاشزم کہتے ہیں، اسکے مقابلے میں دوسرا رویہ ہے محبت اور ملنساری کا جسے آپ ‘شاہین باغ’ کہہ سکتے ہیں، یہ دونوں رویے ہندوستان بھر میں وبا کی طرح پھیل چکے ہیں۔
▪مصنف کا کہنا ہیکہ کسی بھی سماجی وبا کو پھیلانے میں تین لوگ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

۱۔کنیکٹرس: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مختلف مذہب یا ثقافت کے درمیان پل کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ لوگوں سے ملنے اور انکا کام جاننے کے عادی ہوتے ہیں، اور سماجی سیاسی مذہبی شخصیات اور بزنس مین سب سے انکے تعلقات ہوتے ہیں اور یہ انکے درمیان رابطے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ ایک کنیکٹر کا نیٹ ورک کئی سماجوں اور گروپوں سے ہو سکتا ہے۔ اگر ہمیں کسی سماج میں اپنا نظریہ آئیڈیا یا اپنی بات پہنچانا ہو تو ایسے کنیکٹرس بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ آپ اپنے اطراف کے لوگوں پر توجہ ڈالیں اور دیکھیں کہ کون کون کنیکٹرس ہیں ان پر ذرا سی توجہ دیجئے یہ لوگ آپ کے آئیڈیا کو دوسرے سرکل میں وبا کی طرح پھیلا سکتے ہیں۔ کنیکٹرس بنیادی طور پر ملنسار ، متجسس، خود اعتماد اور توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔

۲۔انفارمیشن اسپیشلسٹ: یا ماونس (Mavens) ان لوگوں کے پاس ہر قسم کی چیزوں کے بارے میں اتھینٹک معلومات ہوتی ہیں اور یہ لوگ اپنے مسئلہ کو حل کرکے دوسروں کو راہ بتاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انکا ایک اچھا خاصہ فین سرکل ہوتا ہے لوگ انکی بات توجہ سے سنتے ہیں اور اسی پر عمل کرتے ہیں۔ ماونس ہمیشہ درست اور اچھی رہنمائی بغیر کسی مفاد کے فراہم کرتے ہیں اور اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ یہ ماونس ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی پروڈکٹ یا نظریہ کو ساتویں آسمان پر پہنچا سکتے ہیں، اور کسی بھی تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ مصنف نے ماونس کے بارے میں لکھا ہیکہ یہ لوگ اپنے منہ سے مہاماری پھیلاتے ہیں۔

۳۔سیلز مین: کسی بھی نظریہ آئیڈیا یا فیشن کو پھیلانے میں سیلز مین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ اپنے پروڈکٹ کو بیچنے/نظریہ کو پھیلانے کیلئے اپنی کمیونیکیشن اسکلز کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ ان میں قائل کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے(یعنی persuadersہوتے ہیں)۔ ان میں ایک غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہیکہ وہ یہ کہ جب وہ بات کہتے ہیں تو سننے والے کو جو بات کہی جا رہی ہے اسکے آگے سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اسی ایک صلاحیت کی وجہ سے لوگ انکی باتوں کے قائل ہوجاتے ہیں۔
◾کتاب میں سب سے اہم یہ بات بتائی گئی ہیکہ کسی بھی وبا کو پھیلانے کیلئے بہت چھوٹا کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور چھوٹا سا کام ہی بہت زبردست اثرات ڈالتا ہے۔ہمیں بظاہر چھوٹا نظر آنے والا کام کتنا زبردست اثر ڈالے گا اسکا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ [یہی دیکھ لیجئے کہ ابتداء میں جو خواتین شاہین باغ میں بیٹھی تھیں انہیں بھی نہیں معلوم تھا کہ اسکا اثر ساری دنیا میں محسوس کیا جائے گا۔]
▪ کرونا وائرس کی وجہ سے سارا ملک سہما ہوا ہے، اس سے نبردآزما ہونے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔ اسی طرح ملک بھر میں نفرت انگیزی کے وائرس پھیلے ہوئے اسکےلئے بھی ہم سب کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

▪ اس وائرس کے انفیکشن کا سب سے زیادہ خطرہ ڈاکٹرس کو لاحق ہوتا ہے۔ اس لئے ڈاکٹرس کو سب سے پہلے حفظ ماتقدم کی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح نفرت کی ‘مہاماری’ کو مٹانے کیلئے جو لوگ آگے آئے ہیں انہیں بھی محتاط رہنے کی ضروت ہے کہیں یہ خود اسی بیماری کا شکار نا ہوجائیں۔
بہر حال ایک بہترین کتاب ہے، آزادی کی دوسری بڑی تحریک کے ہر کارکن کو اسے ضرور پڑھنا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading