کرناٹک فلور ٹیسٹ LIVE: میں آنے والی نَسل کے لیے نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں… کماراسوامی

مجھے اقتدار کا لالچ نہیں، میں آنے والی نسل کے لیے نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں: کماراسوامی

اسمبلی میں اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران بولتے ہوئے وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کہا کہ ’’مجھے اقتدار کا لالچ نہیں ہے۔ یہ عہدہ میرے لیے اہم نہیں ہے۔ میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ میں ایک اچانک بننے والا وزیر اعلیٰ ہوں۔ ہم نے حکومت کو بچانے کے لیے کالے جادو کا سہارا نہیں لیا ہے۔‘‘

اسمبلی میں کماراسوامی نے بی جے پی کو بنایا تنقید کا نشانہ، کہا ’برسرعام ہوا جمہوریت کا قتل‘

اسمبلی میں تحریک اعتماد پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور وزیر اعلیٰ کماراسوامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے آج کہا کہ ’’کرناٹک میں برسرعام جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔‘‘ ریاست کے سیاسی ماحول کو خراب کرنے کے لیے کماراسوامی نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آزاد اراکین اسمبلی میرے پاس آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی صحیح پارٹی نہیں ہے۔‘‘

کرناٹک اسمبلی کی کارروائی شروع

کرناٹک اسمبلی پر آج پورے ملک کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ بیشتر اراکین اسمبلی ’ودھا سدھا‘ میں پہنچ چکے ہیں اور کچھ اراکین بس پہنچنے ہی والے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آج تحریک اعتماد پر ووٹنگ ہوتی ہے یا نہیں۔

بی جے پی رکن اسمبلی نے نائب وزیر اعلیٰ جی. پرمیشور کے ساتھ کیا ناشتہ

کرناٹک اسمبلی میں رات گزارنے کے بعد بی جے پی اراکین اسمبلی نے اسمبلی احاطہ میں صبح کی سیر کی۔ اس کے بعد بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی سریش کمار اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ بی جے پی رکن اسمبلی کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ جی. پرمیشور نے کہا کہ ’’رکن اسمبلی رات میں دھرنے پر تھے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لیے کھانے اور دیگر چیزوں کا انتظام کریں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کچھ اراکین اسمبلی کو ذیابیطس اور فشار خون کی بیماری ہے، اس لیے ہم نے یہاں سب کچھ انتظام کیا ہے۔‘‘


آج ہوگی تحریک اعتماد پر ووٹنگ، وزیر اعلی کماراسوامی کے لیے مشکل وقت

کرناٹک میں سیاسی اٹھا پٹخ کا دور جاری ہے اور جمعرات کا دن تو وزیر اعلی کماراسوامی کے لیے کسی طرح گزر گیا، لیکن آج وہ مشکل میں نظر آ رہے ہیں۔ آج اسپیکر پتپپر یہ دباؤ ہوگا کہ وہ تحریک اعتماد پر ووٹنگ کرائیں کیونکہ بی جے پی اراکین اسمبلی ووٹنگ کے لیے بضد نظر آ رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ جمعرات کو گورنر کے پاس بھی پہنچ گئے تھے۔ 18 جولائی کو ووٹنگ نہ کرائے جانے سے ناراض اپوزیشن لیڈر یدی یورپا اور بی جے پی اراکین اسمبلی رات بھر اسمبلی میں دھرنے پر بیٹھے رہے اور کھانا پینا و سونا سب کچھ اسمبلی میں ہی کیا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading