آرپی آئی کواڑے کے قائد پروفیسر جوگیندر کواڑے کا طنز
اورنگ آباد:28ڈسمبر(جمیل شیخ):بھاریپ بہوجن مہا سنگھ کے قائد ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر پارلیمانی انتخابات کے مد نظر کمیونسٹ پارٹی اور دیگر چھوٹی پارٹیو ںسے سیاسی اتحاد کے لئے گفتگو میں مصروف ہیں لیکن وہ دلت سیاسی پارٹیوں کے جوگیندرکواڑے رام داس اٹھولے ودیگر پارٹی قائدین سے گفت وشنید مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں۔ انہو ںنے آکولہ کی نشست پکی کرنے کے لئے کانگریس مہااگھاڑی میں شامل ہونے کے لئے دروازے بھی کھلے رکھے ہیں۔ اسطرح کا طنز کرتے ہوئے آر پی آئی کواڑے کے قائد رکن کونسل پروفیسر جوگیندر کواڑے نے کہا کہ مجلس اتحاد المسلمین انتخابات میں دستور ہند کے مطابق حصہ لیتی ہے وہ سیکولرازم میں بھی یقین رکھتی ہیں۔ پھر کانگریس ا س پارٹی کوفرقہ پرست کیوں قراردیتی ہے اس طرح کا سوال بھی کواڑے نے کیا۔
اورنگ آباد دورہ کے دوران کواڑے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مجوزہ پارلیمانی انتخابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کانگریس این سی پی کے ساتھ دیگر چھوٹی پارٹیوں میں شامل ہونا چاہئے تاکہ بی جے پی شیوسینا فرقہ پرست پارٹیاں ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف جہاں پر بی جے پی پی آر ایس ایس وشوہندو پریشد ودیگر فرقہ پرست تنظیموں کے تعاون سے اقتدار حاصل کرتی ہے تو کانگریس کو بھی ونچت اگھاڑی میں شامل مجلس اتحاد المسلمین سے پرہیز نہیں کرنا چاہئے۔
انہوں نے کانگریس کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی سیکولر افکار پر سیاست کررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے دوران ہم نے کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہو ںنے مجلس قائد بیرسٹر اسد الدین اویسی کے تعلق سے کہا کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے تعلق سے ان کی پارٹی ہمیشہ مثبت فکر رکھتی ہے اوران کی کافی عزت کرتی ہے اس لئے اگر مجلس مہا اگھاڑی میں شامل ہوتی ہے تو دیگرپارٹیوں کو اس کا خیر مقد م کرنا چاہئے۔ انہ وںنے اپنے بیان میں کہا کہ پیپلس ری پبلکن پارٹی نے کانگریس این سی پی سے چھ نشستوں کا مطالبہ کیا ہے ۔مودی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے تمام چھوٹی بڑی سیکولر پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ضروری ہے ہے۔ پریس کانفرنس میں گوپال راﺅ اٹورے گروجی گنیش پڑگند چھگن داس انگولے ایڈوکیٹ جے کے نارائن ایڈوکیٹ سونالی اہیرے وجئے دابھاڑے لکشمن کامبلے اشوک جادھو ساگر کلکرنی اور ملند موکڑے موجود تھے۔