بھیونڈی ( شارف انصاری ):-لوک سبھا کے عام انتخابات میں ملک کے حالات کے پیش نظر اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ بہوجن سماج پارٹی ایک ساتھ ملکر لوک سبھا کے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہیں جبکہ کانگریس بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کے لئے کوشاں ہے لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ صوبہ مہاراشٹر میں بھیونڈی اقلیتوں کا سب سے بڑا شہر مانا جاتا ہے اس کے باوجود بی جے پی اور کانگریس ایک بھی مسلم کو اپنا امیدوار بنانے کو تیار نہیں دکھائی دے رہی ہیں جو ایک المیہ سے کم نہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کانگریس اپنی مسلم پالیسی کو واضح کرتے ہوئے بھیونڈی لوک سبھا سیٹ سماجوادی پارٹی کو دینے کا فیصلہ کر ے ۔ بھیونڈی کے ریجینٹ گارڈن ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس میں میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مزید کہا کہ ہم بھی کانگریس سے الائنس کرنا چاہتے ہیں اور ممبئی، بھیونڈی و ناندیڑ اس میں سے کسی ایک سیٹ پر ہم اپنے امیدوار کو لوک سبھا کے انتخابات میں اتارنا چاہتے ہیں. ہم یقین دلاتے ہیں کہ بھیونڈی لوک سبھا کی عوام جس میں بڑی تعداد میں کسان، بنکر، قبائلی اور دلت وغیرہ سماج شامل ہے جو بی جے پی کے لوبھ لبھاون وعدوں اور اعلانات سے اوب چکے ہیں اور کانگریس کی ناکام پالیسیوں سے ناراض ہیں ۔ اس موقع پر ریاستی نائب صدر اجے یادو، ریاستی جنرل سیکرٹری رضوان احمد مسٹر، ابرار صدیقی، بھیونڈی ضلع صدر عرفات شیخ،ایس پی یادو، ریاض اعظمی،زبیر شیخ، سمیر سردار، ارشد چنو، نہال شیخ، شمیم انصاری، اجے کیسروانی، آفتاب عالم شیخ، آفاق فاروقی، اعجاز چا چا، منور شیخ، اسلم شیخ،اروند یادو،ڈاکٹر این ایل یادو، جہانگیر مومن، زاہد انصاری، حسینہ انصاری، قیصر بیگم مامی، وغیرہ کثیر تعداد میں پارٹی کارکنان موجود تھے. نظامت کے فرائض ارشد چنو نے انجام دیا ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ بی جے پی اپنی پانچ سالہ دور حکومت میں ملک کو اقتصادی بحران سے باہر نکالنے کے لئے طرح طرح کے منصوبے بنانے اور عمل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ملک کو مکمل طور سے ترقی یافتہ ملک بنانے کا اعلان کر تے رہے، کسانوں اور بنکروں کو اقتصادی بحران سے باہر نکالنے کے لئے پرعزم طور سے اعلان کرتے رہے، اسی طرح کروڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ لیکن افسوس ہائے افسوس حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے نتیجتاً وزیراعظم نریندر مودی گزشتہ سے آج تک صرف اور صرف ملک کی عوام کو وعدوں اور اعلانات سے ہی کام چلا رہے ہیں اور ملک کی عوام شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے ۔اسی طرح بھیونڈی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس پر شہر کی عوام نے بھروسہ کرتے ہوئے برسرِ اقتدار بنایا ہے لیکن شہر کے لئے ان کی بھی کارگزاری مفید نہیں ثابت ہوئی ہے. بلکہ کانگریس کے دور اقتدار میں بھیونڈی شہر کی عوام کو چلنے کے لئے نہ تو اچھا روڈ و راستہ ہے اور نہ ہی پینے کا صاف ستھرا پانی میسر ہو رہا ہے، بات صاف صفائی کی کریں تو گندگی والے شہر کے لئے بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کو اول انعام سے نوازا جائے گا. اسی طرح غریب مزدوروں والے اس شہر میں ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے کوئی معقول نظم نہیں اور نہ ہی علاج و معالجہ کے لئے کوئی خصوصی انتظام ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں اس سے بھدا اور کیسا مذاق کانگریس کرنا چاہتی ہے بھیونڈی شہر کی عوام سے. ان کی ناکامی کے سبب بھیونڈی کی عوام شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ ہی ان کا موازنہ کر رہی ہے اور اسی کے ساتھ ہی پوچھنا چاہتی ہے کہ نریندر مودی صاحب نے تو ملک کی عوام کو اچھے دن آئیں گے اس کا خواب دکھا کر اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور کانگریس بھیونڈی میونسپل کارپوریشن پر برسرِ اقتدار میں آنے کے بعد آج تک شہر کی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی و تمام تر مسائل کے حل کرنے میں ناکام رہی ہے. یاد رہے کہ یہ عوام کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے جسے عوام قطعی برداشت نہیں کرے گی ۔ غور طلب ہے کہ بھیونڈی لوک سبھا سے ایک بار کانگریس کے سابق رکن پارلیمان سریش ٹاورے اور موجودہ وقت میں بی جے پی کے رکن پارلیمان کپل پاٹل ہیں جو اپنی مدت پوری کر رہے ہیں ان دونوں رکن پارلیمان نے آج تک نہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی بنکروں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور اسی طرح قبائلی، دلت و پسماندہ طبقات کے مسائل حل کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دی ایسے میں وہ سماجوادی پارٹی کو ہی امید کی کرن ما نتے ہوئے اپنے قیمتی ووٹوں سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار کو کامیاب بنائیں گے. اگر ہمارے مطالبات کو کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی تسلیم کر لیتی ہے تو ہم سب ملکر اپنے امیدوار کو کامیاب بنانے میں کامیاب ہوں گے اور مخالفین کو سبق سکھایا جا سکے گا.اگر ایسا نہیں ہوا تو میں دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ الائنس کرکے کم از کم دس سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو لوک سبھا کے انتخابات میں اتاریں گے. اس موقع پر موصوف نے پاکستان کی شدید مذمت کرتے ہوئے پلواما میں ہوئے دہشت گردی کے حملے میں شہید ہونے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا. اورکہا کہ موجودہ حکومت کی لاچار پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اس قسم کی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے جب کہ اس کی ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔